اختلاف کا مسئلہ
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۵، صفحہ ۳۵
اصل یہ ہے کہ خواہ دو آدمیوں نے ایک ہی مدرسہ اور ایک ہی نصاب کے تحت تعلیم پائی ہو، لیکن طرزِ فکر (way of thinking) کی سطح پر ہمیشہ ایک آدمی اور دوسرے آدمی کے درمیان فرق ہوتا ہے۔ یہی فرق ہے جو اختلاف کا سبب بن جاتا ہے۔ اس کے بعد وہ بڑھ کر نفرت اور تشدد تک پہنچ جاتا ہے۔ یہ اختلاف یا فرق چوں کہ فطرتِ انسانی کا حصہ ہے، اس لیے وہ کبھی ختم ہونے والا نہیں۔ ایسی حالت میں اختلاف کے مسئلے کا حل یہ نہیں ہے کہ نا کام طور پر اس کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے، بلکہ اس کا حل یہ ہے کہ لوگوں کو اُس اصول کی تعلیم دی جائے جس کو ”اختلاف کے باوجود اتحاد“ کہا جاتا ہے۔ یعنی رائے (opinion) کی سطح پر اختلاف، سماجی تعلق (social relationship) کی سطح پر اتفاق۔
انسانوں کے طرزِ فکر میں اختلاف کوئی غیر مطلوب چیز نہیں، بلکہ وہ عین مطلوب ہے۔ کیوں کہ اس اختلاف کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ لوگوں کے درمیان ڈسکشن اور ڈائیلاگ ہوتا ہے، اور ڈسکشن اور ڈائیلاگ ذہنی ارتقا کا ذریعہ ہے۔ جہاں ڈسکشن اور ڈائیلاگ نہ ہو، وہاں یقینی طور پر ذہنی جمود (intellectual stagnation) پیدا ہو جائے گا، اور ذہنی جمود سے زیادہ تباہ کن اور کوئی چیز انسان کے لیے نہیں۔
ابو عمر و زبان بن العلاء مکہ میں 68ھ میں پیدا ہوئے ۔ 154 ھ میں کوفہ میں ان کی وفات ہوئی۔ علم و ادب میں وہ بہت اونچا درجہ رکھتے تھے۔ ان کا ایک قول ہے کہ ضرورت مندرہ جانا اس سے بہتر ہے کہ نا اہل لوگوں سے حاجت روائی کی درخواست کی جائے (اِحْتِمَالُ الْحَاجَةِ خَيْرٌ مِنْ طَلَبِهَا مِنْ غَيْرِ أَهْلِهَا) ۔ ان کا ایک اور قول یہ ہے کہ دو آپس میں محبت کرنے والوں کے لیے کوئی مجلس تنگ نہیں ہوتی لیکن دو نفرت کرنے والوں کے لیے ساری دنیا تنگ ہو جاتی ہے (مَا ضَاقَ مَجْلِسٌ بِمُتَحَابَّيْنِ، وَمَا اتَّسَعَتِ الدُّنْيَا لِمُتَبَاغِضِينَ) شذرات الذہب لابن العماد، جلد 2، صفحہ 250 ۔ (ڈائری ، مولانا وحید الدین خاں، 2 جنوری 1995)
‹ Previous page Next page › Contents of March 2025 All issues