وسیع ترمفاد
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۵، صفحہ ۴۴
وسیع ترمفاد
جس زمانے میں حضرت علی اور حضرت معاویہ کے درمیان جنگ ہو رہی تھی، قیصر روم (قسطنطنیہ) نے ارادہ کیا کہ وہ مسلم دنیا پر حملہ کر دے۔ اس کے ذہن میں آیا کہ اس وقت مسلمان باہمی لڑائی میں مبتلا ہیں۔ اگر اس وقت میں نے حملہ کر دیا تو میں شام ومصر وغیرہ علاقہ پر دوبارہ قبضہ کر سکتا ہوں۔ حضرت معاویہ کو اس کی خبر ملی تو انھوں نے فوراً قیصر روم کے نام ایک خط روانہ کیا، اس میں لکھا ہوا تھا: وَاللّٰهِ لَئِنْ لَمْ تَنْتَهِ وَتَرْجِعَ إِلَى بِلَادِكَ يَا لَعِينُ لَأُصْطَلَحَنَّ أَنَا وَابْنُ عَمِّي عَلَيْكَ وَلَأُخْرِجَنَّكَ مِنْ جَمِيعِ بِلَادِكَ، وَلَأُضَيِّقَنَّ عَلَيْكَ الْأَرْضَ بِمَا رَحُبَتْ (البدایة والنهایة، جلد 8، صفحہ 127)۔ یعنی، اللہ کی قسم! اگر تم باز نہ آئے اور اپنے ملک کی طرف واپس نہ ہوئے تو میں اپنے چچا زاد بھائی کے ساتھ تیرے خلاف صلح کر لوں گا پھر تیرے پورے ملک پر قبضہ کر کے زمین کی وسعت کے باوجود اس کو تیرے اوپر تنگ کر دوں گا۔
تاریخ بتاتی ہے کہ حضرت معاویہ کے اس خط کے بعد قیصر روم نے اپنا حوصلہ کھودیا۔ اس نے فوجوں کی تیاری روک دی۔ اس نے سمجھ لیا کہ اب مسلمانوں سے جنگ چھیڑنا اپنی مزید بربادی کو دعوت دینا ہے۔ یہ زندہ لوگوں کا طریقہ ہے۔ ان کے اندر آپس میں اختلافات پیدا ہوتے ہیں۔ مگر جب معاملہ وسیع ترمفاد کا آجائے تو وہ اپنے اختلاف کو ختم کر کے ایک ہوجاتے ہیں۔ ان کے اختلاف کی ایک حد ہوتی ہے۔ حد کے آجانے کے بعد ان کا اختلاف باقی نہیں رہتا۔ زندہ انسان دوستی کے باوجود کسی کی بے حمایت نہیں کرتا۔ وہ دشمنی کے باوجود کوئی چھوٹی حرکت نہیں کرتا۔ وہ انفرادی جھگڑے کے باوجود اجتماعی امور میں متحد ہو جاتا ہے۔ وہ شخصی کدورت کے باوجود اسلامی تعلق میں فرق نہیں آنے دیتا۔ زندہ انسان کسی سے نزاع پیش آنے کے باوجود اس کی خصوصیات کا اعتراف کرتا ہے۔ وہ رنجش پیدا ہونے کے باوجود امانتوں کو ادا کرتا ہے۔ زندہ انسان کسی حال میں پست حرکت نہیں کرتا، وہ کسی حال میں اپنی انسانیت کو نہیں کھوتا۔ زندہ انسان دشمن ہو سکتا ہے مگر وہ کمینہ نہیں ہو سکتا۔ زندہ انسان کو شکایت ہو سکتی ہے مگر یہ ممکن نہیں کہ جس سے اس کو شکایت ہو اس کے خلاف وہ جھوٹا الزام لگانے لگے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2025 All issues