Al-Risala · March 2025 · page 47

اختلاف، نفرت

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۵، صفحہ ۴۷

اختلاف، نفرت

مولانا محمود حسن دیوبندی (1920-1851) تحریک خلافت کے پر جوش حامیوں میں سے تھے۔ ان کے شاگرد مولانا اشرف علی تھانوی تحریک خلافت کے مخالف تھے۔ وہ اس تحریک پر کھلم کھلا تنقید کرتے تھے۔ مگر استاد نے اپنے شاگرد کی اس ”گستاخی“ کو کبھی برا نہیں مانا۔ دونوں کے درمیان آخر وقت تک مخلصانہ تعلق باقی رہا۔

مولانا اشرف علی تھانوی ایک گفتگو کے ذیل میں اپنے استاد اور شیخ کے بارے میں لکھتے ہیں: ”حضرت کے قلب پر میرے اختلاف سے ذرہ برابر بھی گرانی نہ تھی۔ ایک مرتبہ تحریک خلافت کے زمانہ میں حضرت کی بیٹھک میں کچھ لوگ بیٹھے ہوئے میرے متعلق برے بھلے الفاظ کہہ رہے تھے۔ کچھ الفاظ حضرت کے کانوں میں پڑ گئے۔ باہر تشریف لے آئے۔ بہت خفا ہوئے اور یہ فرمایا کہ خبر دار، جو آئندہ ایسے الفاظ کبھی استعمال کیے ۔ اور یہ فرمایا کہ میرے پاس کیا وحی آتی ہے کہ جو کچھ میں کر رہا ہوں وہ سب ٹھیک ہے۔ میری بھی ایک رائے ہے۔ اس کی بھی ایک رائے ہے۔ ایک مرتبہ حضرت نے یہ فرمایا کہ ہمیں تو اس پر فخر ہے کہ جو شخص تمام ہندوستان سے بھی متاثر نہ ہوا اور کسی کی بھی پروانہ کی وہ بھی ہماری ہی جماعت سے ہے۔ “۔ (ملفوظات حکیم الامت، مولانا اشرف علی تھانوی، ادارہ تالیفات اشرفیہ، ملتان، صفحہ 114)

یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اختلاف کے معاملہ میں علمائے امت کا طریقہ کیا ہونا چاہیے ۔ اس طرح کے اختلافات میں وہی روح کار فرما ہونی چاہیے جو امام شافعی کی طرف منسوب اس قول میں بیان کیا گیا ہے: میری رائے درست ہے، مگر احتمالِ خطا کے ساتھ۔ دوسرے کی رائے غلط ہے مگر احتمالِ صحت کے ساتھ (رَأْيِي صَوَابٌ يَحْتَمِلُ الْخَطَأَ، وَرَأْيُ غَيْرِي خَطَأ يَحْتَمِلُ الصَّوَابَ)۔ یہ اختلافات عام طور پر اجتہادی امور میں ہوتے ہیں اور اجتہادی امور میں ہمیشہ ایک سے زیادہ رائے کی گنجائش ہوتی ہے۔ اس لیے صحیح ترین مسلک یہ ہے کہ آدمی اختلاف کے با وجود اپنے آپ کو فریق ثانی کی نفرت سے بچائے۔ وہ اپنے نقطہ نظر کو شدت کے ساتھ پیش کرے، اس کے با وجود اس کی نفسیات یہ ہو کہ یہ معاملہ 50-50 فیصد کا ہے، نہ کہ صد فی صد کا۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2025 All issues

Printed page