حق گوئی و بے باکی
الرسالہ، مئی ۲۰۲۵، صفحہ ۲۸
حق گوئی و بے باکی
آج کل بہت سے لوگ ایک لفظ بولتے ہیں، وہ ہے حق گوئی و بے باکی۔ بلاشبہ یہ ایک غیر مفید کام ہے۔ جو لوگ اس ٹائٹل کے ساتھ لکھتے اور بولتے ہیں، وہ علم اور علمی ذوق سے بالکل بے خبر ہیں۔ جس چیز کو حق گوئی و بے باکی کہا جاتا ہے وہ دراصل ری ایکشن (reaction) کا دوسرا نام ہے، اور ری ایکشن کا طریقہ صرف مسائل میں اضافہ کرتا ہے، نہ کہ مسائل کو کم کرتا ہے۔ عملی اعتبار سے دیکھا جائے تو اس طرح کے بے باکانہ اظہار خیال کا کوئی فائدہ نہیں۔ صحیح رویہ یہ ہے کہ صورت حال کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ کر کے مواقع کو دریافت کیا جائے، اور لوگوں کو بتایا جائے کہ مسائل کے باوجود کون سے مواقع موجود ہیں، جن کو اویل (avail) کر کے ترقی کا سفر جاری رکھا جا سکتا ہے۔ حق گوئی و بے باکی کے الفاظ اپنے سطحی رویے پر پردہ ڈالنے کے لیے ہوتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کا کام ہے، جو اعلیٰ ادب کی تخلیق نہیں کر سکتے۔ جو لوگ اس قسم کی چیزوں کو لکھیں، اور جو لوگ اس قسم کی چیزوں کو پڑھیں، وہ دونوں اپنے وقت کو ضائع کرنے والے لوگ ہیں، وہ جانتے نہیں کہ اعلیٰ ذوق کس چیز کا نام ہے۔ اس قسم کا ادب بلاشبہ احتجاج اور چیخ و پکار کے لیے وجود میں آتا ہے۔ یہ بلاشبہ وقت کا ضیاع ہے، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔
میں سمجھتا ہوں کہ جو لوگ لکھنا نہ جانتے ہوں، ان کے لیے زیادہ بہتر کام یہ ہے کہ وہ دو رکعت نماز پڑھ کر لوگوں کے لیے دعا کریں ۔ وہ خود اپنی شخصیت میں کمیوں کو دریافت کریں، اور اس کی اصلاح کی کوشش کریں۔
حق گوئی یہ ہے کہ آپ زیر بحث موضوع کا علمی مطالعہ کریں، اس سلسلے میں ٹھوس دلائل جمع کریں، اور پھر یہ جاننے کی کوشش کریں کہ علمی ذوق کیا چیز ہے۔ اس کے بعد مثبت اسلوب میں مضامین لکھیں، جس سے لوگوں کو فائدہ پہنچے۔ عام طور پر جس چیز کو حق گوئی و بے باکی کہا جاتا ہے، وہ ردِ عمل (reaction) ہوتا ہے، نہ کہ حق گوئی و بے باکی۔