سیلف ڈسکورڈ معرفت
الرسالہ، جولائی ۲۰۲۵، صفحہ ۵
سیلف ڈسکورڈ معرفت
شمس مشرقی (وفات 1409ھ) فارسی زبان کے ایک شاعر تھے۔ ان کی ایک غزل کا یہ مصرع (line of verse) انسان کے سفر معرفت کی ترجمانی کرتا ہے:
خود کوزه و خود کوزه گر و خود گل کوزه
یعنی خود ہی کوزہ ہے، خود ہی کوزہ بنانے والا اور خود ہی کوزہ کی مٹی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فرشتے ٹولڈ (told) معرفت پر کھڑے ہیں، وہ وہی جانتے ہیں، جو خدا نے ان کو بتا دیا ہے (البقرہ، 2:32)۔ اس کے برعکس، انسان کو سیلف ڈسکوری کے ذریعے خدا کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔ جیسا کہ اصحاب رسول کے یہاں طریقہ تھا کہ وہ اپنے ایمان و معرفت میں اضافہ کے لیے ایک دوسرے سے کہا کرتے تھے: تَعَالَ نُؤْمِنْ بِرَبِّنَا سَاعَةً (مسند احمد، حدیث نمبر 13796)۔ یعنی، آؤ کچھ دیر کے لیے ہم اپنے رب پر ایمان لائیں۔ اور پھر وہ بیٹھ کر اللہ تعالیٰ کی آیات میں غور و فکر کرتے تھے۔ اصل یہ ہے کہ دوسری مخلوقات اپنی مقرر کردہ جبلت (instinct) کے تحت عمل کرتی ہے۔ صرف انسان کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ وہ اپنے ذاتی ارادے کے تحت سوچتا ہے اور کامل آزادی کے ساتھ اپنی زندگی کا نقشہ بناتا ہے۔ یہ صلاحیت صرف انسان کو دی گئی ہے، کیوں کہ خدا نے انسان کو چوائس (choice) کا مکمل اختیار دیا ہے۔ انسان کی اس خصوصیت کو ایک حدیث رسول میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: قیامت کے دن انسان سے بڑھ کر اللہ کے نزدیک کوئی بھی عزت والا نہ ہوگا (مَامِنْ شَيْءٍ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ مِنِ ابْنِ آدَمَ)۔ کہا گیا: اے اللہ کے رسول، فرشتے بھی نہیں۔ آپ نے کہا: فرشتے بھی نہیں۔ فرشتے مجبور ہیں، سورج اور چاند کی طرح (شعب الایمان للبیہقی، حدیث نمبر 151)۔ قرآن میں بتایا گیا ہے: ہم نے آدم کی اولاد کو عزت دی اور ہم نے ان کو خشکی اور تری میں سوار کیا، اور ان کو پاکیزہ چیزوں کا رزق دیا اور ہم نے ان کو اپنی بہت سی مخلوقات پر فوقیت دی (17:70)۔ انسان کی تکریم کا مطلب ہے کہ انسان کو سیلف ڈسکورڈ معرفت کی صلاحیت دی گئی ہے۔ یعنی جس طرح انسان اپنی عقل استعمال کر کے خشکی اور سمندر اور کائنات کو ڈسکور کرتا ہے، اور اس سے اپنے مادی فوائد حاصل کرتا ہے، اسی طرح اس کو یہ کرنا ہے کہ وہ اپنی عقل کو استعمال کر کے کائنات کی نشانیوں کے ذریعہ خدا کی معرفت حاصل کرے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2025 All issues