Al-Risala · July 2025 · page 11

صحابہ اور تابعین

الرسالہ، جولائی ۲۰۲۵، صفحہ ۱۱

صحابہ اور تابعین

اسلام میں اسوہ کی حیثیت درجہ بدرجہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کو حاصل ہے۔ قرآن میں آیا ہے: لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ (33:21)۔ یعنی، تمہارے لیے اللہ کے رسول میں بہترین نمونہ ہے۔

اس آیت کے مطابق ، اسلام میں اصل اسوہ (ماڈل) صرف پیغمبر کا ہے۔ اس کے بعد دوسرا درجہ اصحاب رسول کا ہے، یعنی وہ مسلمان جو رسول اللہ کے ہم عصر تھے، اور جنہوں نے براہ راست پیغمبر اسلام سے تربیت حاصل کی ۔ اس سلسلہ میں قرآن کی ایک رہنمائی یہ ہے : اگر وہ ایمان لائیں جس طرح تم ایمان لائے ہو تو بیشک وہ راہ پا گئے (2:137)۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہ صحابہ کرام جس ڈھنگ پر ایمان لائے تھے وہی وہ ایمان ہے جو اللہ کے یہاں اصلاً معتبر ہے۔ اس کے بعد تیسرا درجہ تابعین کا ہے، یعنی وہ گروہ جن کو پیغمبر کے تربیت یافتہ لوگوں کی صحبت حاصل ہوئی۔ حدیث کے مطابق ، تابعین کا گروہ بھی اصحاب خیر میں شامل ہے (صحیح البخاری، حدیث نمبر 2651، صحیح مسلم، حدیث نمبر 2534)۔ ان تینوں کے بعد کسی کو مستقل طور پر معیاری ماڈل کے اعتبار سے درجہ حاصل نہیں۔ بعد کے زمانے میں جو درجات مقرر کیے گئے ہیں، وہ سب مبتدعانہ اضافے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کو دوبارہ قرآن وحدیث کے معیار پر جانچا جائے گا۔ بعد کے زمانے میں لوگوں نے اس میں ایک اور گروہ کا اضافہ کیا، اور وہ ہے تبع تابعین کا گروہ۔ مگر یہ ایک اجتہادی اضافہ ہے، وہ براہ راست قرآن وسنت سے اخذ کردہ اضافہ نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ صحابہ اور تابعین کے بعد تمام اہل ایمان یکساں حیثیت رکھتے ہیں۔ بعد کے لوگوں کو مطلق معنی میں اسوہ (ماڈل) کی حیثیت حاصل نہیں۔ بعد کے لوگوں کو براہ راست طور پر قرآن وحدیث سے جانچا جائے گا، نہ کہ زمانہ نبوت سے قربت کی بنا پر۔

اسوہ بمعنی ماڈل کا مطلب یہ ہے کہ قابل پیروی ماڈل۔ یعنی ایک شخص کسی طریقے پر عمل کرنا چاہے، اور اس کے پاس رسول اور اصحاب رسول کا ثابت شدہ نمونہ موجود ہو، تو اس کو چاہیے کہ وہ اس نمونہ کی روشنی میں اپنے عمل کو انجام دے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2025 All issues

Printed page