Al-Risala · July 2025 · page 19

صبر کیا ہے

الرسالہ، جولائی ۲۰۲۵، صفحہ ۱۹

صبر کیا ہے

صبر ابتدائی طور پر اس بات کا نام ہے کہ کوئی ناخوشگوار صورت حال پیش آئے تو آدمی برداشت کرلے۔ آہ و پکار کرنے کے بجائے وہ تحمّل کا طریقہ اختیار کرے۔ صبر یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو ری ایکشن (reaction) سے بچائے۔ اور ناخوشگوار صورت حال کو اندر ہی اندر سہہ لے۔ صبر اپنے وسیع تر مفہوم کے اعتبار سے پیس فل پلاننگ کا نام ہے۔ بے صبری یہ ہے کہ آدمی ری ایکشن کا طریقہ اختیار کرے، اور صبر یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو آخری حد تک ری ایکشن سے بچائے۔ بلکہ خاموش انداز سے پرامن تدبیر کے ذریعے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کرے۔

صبر کا معاملہ اجتماعی زندگی میں جب بھی پیش آئے ، اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ٹکراؤ کو اوائڈ کیا جائے ، اور وقتی طور پر کوئی تکلیف پیش آئے تو اس کو برداشت کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے آدمی معاملے پر غور وفکر کرے۔ پھر غیر جذباتی انداز میں خاموش پلاننگ کے ذریعے معاملے کو حل کرنے کی کوشش کی جائے۔

پیغمبر اسلام کی پوری زندگی اس طریقہ کار کی عملی مثال ہے۔ آپ کا زمانہ قبائلی دور (tribal age) تھا۔ اس زمانے میں لوگوں کو مسائل کا ایک ہی حل معلوم تھا۔ وہ تھا بذریعہ ”تلوار“ مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کرنا۔ اس کے برعکس، پیغمبر اسلام نے ہمیشہ اختلافی معاملات میں تحمّل کا طریقہ اختیار کیا، اور پیس فل پلاننگ (خاموش منصوبہ بندی) کے ذریعے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی۔ آپ کی پوری زندگی، خواہ مکی دور ہو یا مدنی دور، اسی دانش مندانہ طریقہ کار کی کامیاب مثال ہے۔ مثلاً صلح حدیبیہ کے موقع پر اہل مکہ نے آپ کو مشتعل (provoke) کرنے کا ہر ممکن طریقہ اختیار کیا تھا۔ مگر رسول اللہ نے مکمل طور پر اعراض کا طریقہ اختیار کیا۔ اس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے: جب انکار کرنے والوں نے اپنے دلوں میں حمیت پیدا کی، جاہلیت کی حمیت، پھر اللہ نے اپنی طرف سے سکینت نازل فرمائی اپنے رسول پر اور ایمان والوں پر، اور اللہ نے ان کو تقویٰ کی بات پر جمائے رکھا اور وہ اس کے زیادہ حق دار اور اس کے اہل تھے (48:26)۔ اس ناخوشگوار موقع پر آپ نے یک طرفہ طور پر صبر کا طریقہ اختیار کیا۔ چنانچہ اس کا نتیجہ فتح مبین کی شکل میں برآمد ہوا (الفتح، 48:1)۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2025 All issues

Printed page