مومن کا ہتھیار
الرسالہ، جولائی ۲۰۲۵، صفحہ ۲۵
دنیا کی شادی آخرت کی حسن رفاقت کے لیے تربیت کا اہم ذریعہ ہے۔ شادی کا معاملہ ابدی رفاقت کا معاملہ ہے۔ اس کا ایک بنیادی مقصد یہ ہے کہ جنت کی دائمی رفاقت کے لیے تربیت یافتہ مردو عورت تیار کیے جائیں۔ گویا دنیا کی زندگی آخرت کی شادی شدہ زندگی کے لیے تربیت گاہ ہے۔ شادی شدہ زندگی کا اصل معیار یہ ہے کہ آپ ایسے انسان بن جائیں جو آخرت کے تقاضوں پر پورا اتریں۔ جو شادی آخرت کی زندگی کے لیے تربیتی حیثیت اختیار کر لے، وہی درحقیقت کامیاب شادی ہے۔ اور جس شادی میں یہ مقصد حاصل نہ ہو، وہ شادی کامیاب نہیں کہی جاسکتی ہے۔ دنیا کی شادی محض لذت یا عیش کے لیے نہیں، بلکہ وہ تربیت کے لیے ہے۔
مومن کا ہتھیار
ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يُنْجِيكُمْ مِنْ عَدُوِّكُمْ وَيُدِرُّ لَكُمْ أَرْزَاقَكُمْ؟ تَدْعُونَ اللهَ فِي لَيْلِكُمْ وَنَهَارِكُمْ، فَإِنَّ الدُّعَاءَ سِلَاحُ الْمُؤْمِنِ (مسند ابی یعلی، حدیث نمبر 1812)۔ یعنی ، کیا میں تمھیں وہ رہنمائی نہ کروں جو تم کو تمھارے دشمنوں سے نجات دے، اور تمھاری روزی میں اضافہ کر دے۔ تم اللہ سے اپنے رات دن میں دعا کرو، کیوں کہ دعا مومن کا ہتھیار ہے۔
ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں: عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الدُّعَاءُ سِلَاحُ الْمُؤْمِنِ، وَعِمَادُ الدِّينِ، وَنُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ (مستدرک الحاكم، حدیث نمبر 1812)۔ علی ابن ابی طالب کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کہا: دعا مومن کا ہتھیار ہے، دین کا ستون ہے، اور آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔
اس حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مومن جب دعا کرے تو اس کے دشمن ہلاک ہو جائیں گے۔ بلکہ یہ نفسیاتی معنی میں ہے۔ دعا ایک مومن کے لیے تسکین (solace) کا ایک عظیم ذریعہ ہے ــ یعنی ایک عاجز مطلق کا اپنے آپ کو ایک قادر مطلق کے سپرد کر دینا، اور اسے اپنا سہارا بنا لینا۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2025 All issues