12 جولائی 1986
الرسالہ، جولائی ۲۰۲۵، صفحہ ۴۷
ایک انٹرویو
(زیر نظر انٹر ویو مسٹر یوگندر سکند (پیدائش (1967) نے 10 اگست 2007 کولیا تھا۔ اس کی ریکارڈنگ بھی ہوئی تھی، جو سی پی ایس سینٹر میں موجود ہے۔ اس انٹرویو کا خلاصہ افادیت کے پیش نظر دوبارہ شائع کیا جارہا ہے)
س: آپ مدارس کے نظام کو کس طرح دیکھتے ہیں؟ اس وقت مدارس کے نصاب و نظام میں اصلاح کی ضرورت کی بات ہورہی ہے؟
ج: بعض دوسرے لوگوں کی طرح میں مدارس کا مخالف یا اس کا ناقد نہیں۔ مسلمانوں کو مذہبی اور سیکولر دونوں نظام ہائے تعلیم کی ضرورت ہے۔ مسلم بچوں کو دونوں طرح کے مضامین کی واقفیت ہونی چاہیے۔ لیکن تمام مسلم طلبہ کے لیے یہ مطلقا ضروری نہیں کہ وہ کل وقتی طور پر مدرسہ جا کر عالم بننے کی تربیت حاصل کریں۔ البتہ اتنا ضروری ہے کہ سماج کا ایک طبقہ علم دین حاصل کرے تا کہ مذہبی تعلیم کے حصول کی روایت باقی رہے۔ ہمیں مدارس کے تربیت یافتہ ایسے علما کی ضرورت ہے جو قرآن، حدیث، فقہ اور عربی زبان کے واقف کار ہوں۔ جہاں تک مدارس میں اصلاح کی ضرورت کا سوال ہے حقیقت یہ ہے کہ میں مدارس کی جدید کاری میں یقین نہیں رکھتا۔ آپ قرآن وحدیث کی جدید کاری نہیں کر سکتے۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ اس سیاق میں جدید کاری یا جدت پسندی کی بات بالکل بے محل اور غیر ضروری ہے۔ جدید کاری کے تعلق سے میں کہنا چاہوں گا کہ ہمارے جدید اسکول اور یونیورسٹیوں میں بھی اصلاح کی ضرورت ہے۔ اس نکتے کو وہ لوگ جو مدارس میں اصلاح کے زبردست طور پر حامی ہیں، فراموش کر دیتے ہیں۔ میرے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ تعلیم کا کوئی بھی نصاب ہر طرح سے مکمل نہیں کہا جا سکتا۔ نصاب سے زیادہ اہمیت اس کو پڑھانے والے کی ہے۔ اس لیے کہ کتابیں نہیں پڑھاتیں اساتذہ پڑھاتے ہیں۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ مدارس میں فلسفے اور منطق کی صدیوں پرانی یونانی کتابیں پڑھائی جاتی ہیں۔ لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ
‹ Previous page Next page › Contents of July 2025 All issues