Al-Risala · September 2025 · page 33

Your freedom ends where nose begins.

الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۵، صفحہ ۳۳

میر عرب کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں سے میرا وطن وہی ہے میرا وطن وہی ہے ہے رام کے وجود پہ ہندوستان کو ناز اہل وطن سمجھتے ہیں اس کو امام ہند 1947ء سے پہلے کوئی مسلمان اقبال کے ان اشعار پر بھڑکتا نہیں تھا۔ آج کوئی ہندو یا مسلمان ایسی کوئی بات کہہ دے تو فوراً اخباروں میں بیانات اور مراسلے چھپنے لگتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نااہل لیڈروں نے غیر ضروری طور پر مسلمانوں کو ان باتوں کے بارے میں حساس بنا دیا ہے۔ (ناگپور کا سفر 1994) حب الوطنی اور قومی یکجہتی مسلم علما کی ایک نشست تھی۔ ایک صاحب نے اپنی تقریر میں کہا کہ مسلمانوں کے اوپر یہ غلط الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ ملک کی مین اسٹریم (مکھیہ دھارا) میں نہیں ہیں، وہ بلاشبہ ہیں۔ میں نے کہا کہ میرے نزدیک یہ شکایت بالکل بجا ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ کیسے ۔ میں نے کہا کہ مین اسٹریم میں اپنے آپ کو شامل کرنے کا آغاز یہاں سے ہوتا ہے کہ آپ یہ مانیں کہ ہندو اور مسلمان دونوں ایک قوم ہیں۔ جب کہ یہی بات اب تک حاصل نہیں ہوئی۔ میں نے کہا کہ ہندوستان کا ہر عالم جو پاسپورٹ بنواتا ہے وہ نیشنلٹی کے خانہ میں اپنے آپ کو اسی طرح انڈین لکھتا ہے جس طرح ایک ہند ولکھتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہندواور مسلمانوں دونوں کی نیشنلٹی ایک ہے اور دونوں ایک قوم ہیں۔ مگر علما نے ابھی تک اس کا اعلان نہیں کیا۔ 1947 سے پہلے مسلم لیگ کی تحریک زیر اثر تمام مسلمانوں کے ذہن میں یہ بھرا گیا کہ ہندو اور مسلمان دو الگ الگ قوم ہیں۔ شعوری یا غیر شعوری طور پر وہی ذہن اب تک چلا جا رہا ہے۔ دونوں کو نیشنل مین اسٹریم میں لانے کے لیے پہلا کام یہ ہے کہ علما کی طرف سے ایک متفقہ اعلان ہو کہ قومیت کا

‹ Previous page Next page › Contents of September 2025 All issues

Printed page