Al-Risala · November 2025 · page 7

قربتِ خداوندی

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۵، صفحہ ۷

قربتِ خداوندی

قرآن کی سورہ العلق میں ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے:

وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ (96: یعنی، سجدہ کر اور میرے قریب ہو جا۔

بندہ اور خدا کے درمیان قربت کی یہ بات ایک حدیثِ رسول میں ان الفاظ میں آئی ہے: أَقْرَبُ مَا يَكُونُ الْعَبْدُ مِنْ رَبِّهِ وَهُوَ سَاجِدٌ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 482)۔ یعنی، انسان اپنے رب سے سب سے زیادہ قریب اس وقت ہوتا ہے، جب کہ وہ سجدے میں ہو۔

بندہ اور خدا کے درمیان قربت کی یہ بات بائبل میں بھی آئی ہے۔ عہد نامہ قدیم کے بارے میں زبور میں حضرت داؤد کی زبان سے آیا ہے ۔ لیکن میرے لیے یہی بھلا ہے کہ میں خدا کی نزدیکی حاصل کروں، میں نے خداوند کو اپنی پناہ گاہ بنا لیا ہے:

But it is good for me to draw near to God: I have put my trust in the Lord God. (Psalm, 73:28)

سورہ العلق کی آیت اور صحیح مسلم کی حدیث میں سجدہ کا لفظ علامتی معنی میں ہے، نہ کہ حقیقی معنی میں۔ سجدہ کی اصل حقیقت کامل سپردگی (total submission) ہے۔ یہ سپردگی اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک داخلی کیفیت ہے۔ معروف سجدہ اللہ کے لیے اسی داخلی سپردگی کی ایک خارجی علامت ہے۔ وہی سجدہ سجدہ ہے، جس میں یہ حقیقت پائی جائے۔ جو سجدہ اس حقیقت سے خالی ہو وہ صرف ایک بے روح رسم ہے، نہ کہ قربتِ خداوندی کا ایک زندہ تجربہ۔

جب ایک شخص نماز ادا کرتا ہے تو آخر میں وہ اپنی پیشانی زمین پر رکھ دیتا ہے، جس کو سجدہ کہا جاتا ہے۔ مگر نمازی اس سجدے سے پہلے اور بہت سے افعال کرتا ہے۔ یہ تمام افعال دراصل پری سجدہ (pre-sajdah) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ سجدے سے پہلے کیے جانے والے افعال گویا سجدہ کی تیاری ہیں، اور سجدہ اس تیاری کا نقطہ انتہا۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2025 All issues

Printed page