Al-Risala · November 2025 · page 15

متعصبانہ طرزِ فکر

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۵، صفحہ ۱۵

متعصبانہ طرزِ فکر

پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث ان الفاظ میں آئی ہے۔ حضرت ابو درداء روایت کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حُبُّکَ الشَّيْءَ يُعْمِیْ وَيُصِمُّ (مسند احمد، حدیث نمبر 21694)۔ یعنی کسی چیز کی محبت تم کو اندھا اور بہرا بنا دیتی ہے۔

اس حدیث میں حُبّ سے مراد سادہ طور پر محبت نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد غلو آمیز محبت ہے۔ اس حدیث میں حُبّ کے جس غیر مطلوب نتیجے کا ذکر ہے، اس کا تعلق غلو آمیز محبت سے ہے، نہ کہ صرف محبت سے۔ غلو آمیز محبت آدمی کے اندر جو غیر مطلوب صفت پیدا کرتی ہے، وہ وہی چیز ہے جس کو متعصبانہ فکر (biased thinking) کہا جاتا ہے۔ یہی متعصبانہ فکر ہے، جو آدمی کو کسی چیز کے بارے میں اندھا اور بہرا بنا دیتی ہے۔ مثلاً موجودہ زمانے میں قوم پرستی اس کا ایک ظاہر ہے۔ لوگوں کا حال یہ ہے کہ جب اپنی کمیونٹی اور دوسری کمیونٹی کا کوئی معاملہ پیش آجائے تو وہ اپنی کمیونٹی کی غلطی سمجھ نہیں پاتے۔ ان کا ذہن یہ بن جاتا ہے کہ میں ہر حال میں اپنی کمیونٹی کے ساتھ ہوں، خواہ وہ صحیح ہو یا غلط (my community, right or wrong)۔

اس متعصبانہ طرزِ فکر کے بیک وقت دو نقصان ہیں۔ ایک یہ کہ خود آدمی کے اندر ابدی طور پر منفی سوچ (negative thinking) پیدا ہو جاتی ہے ۔ وہ اس صلاحیت سے محروم ہو جاتا ہے کہ وہ چیزوں کو غیر جانبدارانہ انداز (impartial way) میں دیکھ سکے۔ دوسرا نقصان یہ ہے کہ وہ خود اپنی کمیونٹی کے لیے ایک برا قائد بن جاتا ہے۔ اختلافی معاملات میں وہ اپنی کمیونٹی کو صحیح رہنمائی نہیں دے پاتا۔ متعصبانہ طرزِ فکر ہر حال میں ایک تباہ کن طرزِ فکر ہے۔ ایسا آدمی اس سے محروم ہو جاتا ہے کہ وہ دنیا میں اس صالح فکری غذا کو لے سکے جو اس کے خالق نے اس کے لیے مہیا کر رکھا ہے، اور جس کو قرآن میں رزقِ رب کہا گیا ہے۔ رزقِ رب کا حصول اس دنیا میں ربانی شخصیت کی تعمیر کے لیے ضروری ہے، لیکن اپنے اندر ربانی شخصیت کی تعمیر کی سعادت صرف اس شخص کو ملتی ہے، جس کے اندر مثبت سوچ پائی جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2025 All issues

Printed page