Al-Risala · November 2025 · page 21

بڑھاپے کا سبق

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۵، صفحہ ۲۱

بڑھاپے کا سبق

قرآن کی مختلف آیتوں میں بڑھاپے کی عمر کا ذکر آیا ہے۔ ان میں سے ایک آیت یہ ہے: أَوَلَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَّا يَتَذَكَّرُ فِيْهِ مَنْ تَذَكَّرَ وَجَاءَكُمُ النَّذِيرُ (35:37) ۔ یعنی کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہ دی کہ جس کو سمجھنا ہو، وہ سمجھ لے۔ اور تمہارے پاس ہوشیار کرنے والا آيا۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بڑھاپے کی عمر گویا ایک قسم کا فطری جبر (compulsion) ہے۔ انسان پیدا ہونے کے بعد پہلے طاقت کا تجربہ کرتا ہے۔ اس کے بعد اس پر بڑھاپے کا دور آتا ہے۔ اب وہ مجبور ہوتا ہے کہ اپنے ذاتی تجربے کے ذریعے یہ دریافت کرے کہ انسان کے اوپر ایک اور طاقت ہے، جو پہلے جوانی کی عمر عطا کرتا ہے، اس کے بعد اس کو بڑھاپے کی عمر میں مبتلا کر دیتا ہے۔ یہ فطری اشارہ ہے کہ انسان اپنی حقیقت کو جانے، اور مین کٹ ٹو سائز (man cut to size) بن کر زندگی گزارے۔ وہ اس بات کو ریلیز (realize) کرے کہ وہ اس دنیا کا خالق نہیں ہے۔ بلکہ ایک پیدا کرنے والے نے اس کو ایک منصوبے کے تحت پیدا کیا ہے۔ وہ منصوبہ یہ ہے کہ انسان اپنی حقیقتِ واقعی کو دریافت کرے۔

ایک انسان جب اپنی حقیقتِ واقعی کو دریافت کر لیتا ہے تو وہ متواضع انسان بن جاتا ہے۔ متواضع انسان کو ایک حدیثِ رسول میں عبد شکور کہا گیا ہے۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں: سَمِعْتُ المُغِيرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: إِنْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَقُومُ لِيُصَلِّي حَتَّى تَرِمَ قَدَمَاهُ - أَوْ سَاقَاهُ - فَيُقَالُ لَهُ فَيَقُولُ: أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1130) ۔ یعنی، حضرت مغیرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوتے، یہاں تک کہ آپ کے دونوں قدموں یا پنڈلیوں میں ورم آ جاتا۔ آپ سے کہا گیا (کہ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ تو آپ نے جواب دیا: کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2025 All issues

Printed page