اختلاف کو حل کرنے کی تدبیر
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۵، صفحہ ۱۳
اختلاف کو حل کرنے کی تدبیر
قدیم زمانہ میں کہا جاتا تھا کہ الحَرْبُ أَنفَى لِلْحَرْبِ (جنگ کا توڑ جنگ ہے)۔ یہ فکر ہزاروں برس سے انسان کے اندر چلا آرہا تھا۔ بدقسمتی سے یہی فکر تاریخی تسلسل کے نتیجہ میں خود مسلمانوں میں کسی نہ کسی طور پر جاری رہا۔ حضرت عثمان کی شہادت سے لے کر اب تک کی مسلم تاریخ میں اس کے نمونے پھیلے ہوئے ہیں۔ 1948 میں فلسطین کا مسئلہ پیدا ہوا، جو عملاً پوری مسلم دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ بن گیا۔ اس وقت بھی تمام مسلم ذہن اسی ڈھنگ پر سوچنے لگے ۔ اس سوچ کی نمائندگی ایک عرب شاعر خیر الدین زرکلی (1976-1893) کے شعر میں ان الفاظ میں ملتی ہے: هَاتِي صَلَاحَ الدِّيْنِ ثَانِيَةً فِينَا وَجَدِّدِي حِطِّين أَوْ شَبَّهَ حِطِّينَا یعنی صلاح الدین ایوبی کو ایک بار پھر ہمارے درمیان لاؤ اور حطین یا اس جیسا کوئی اور معرکہ دوبارہ برپا کرو۔ اقبال اپنے علم اور ذہانت کے باوجود اس فکر سے اوپر نہ اٹھ سکے ۔ ان کا پورا کلام کسی نہ کسی طور پر اسی فکر کی نمائندگی کرتا ہے ۔ مثال کے طور پر ان کا یہ شعر پڑھیے : گفتند جهان ما آیا بتومی سازد گفتم که نمی سازد گفتند که برهم زن یعنی پوچھا گیا کہ میری دنیا کا نظام تمہیں پسند آیا؟ میں نے کہا: نہیں۔ کہا گیا: اسے درہم برہم کر ڈالو۔ مگر اسلام نے اختلاف کے معاملہ میں زمانی رجحان کے برعکس فطری اصول رائج کیا۔ جنگ کیوں ہوتی ہے ۔ جنگ ہمیشہ اختلافات کے نتیجہ میں ہوتی ہے۔ لوگ اختلاف کو صرف مٹانا جانتے تھے، اس لیے وہ فوراً فریق ثانی سے لڑجاتے تھے۔ اسلام نے اس معاملہ میں ایک نئے اصول کو رواج دیا۔ قرآن میں یہ اصول ان الفاظ میں بتایا گیا ہے : الصُّلْحُ خَيْرُ (4: 128)۔ یعنی صلح بہتر ہے۔ صلح کیا ہے۔ صلح یہ ہے کہ اختلاف کو مٹانے پر زور نہ دیا جائے بلکہ اختلاف کو گوارہ کرتے ہوئے تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کی جائے (الصُّلْحُ يَخْتَصُّ بِإِزَالَةِ النِّفَارِ بَيْنَ النَّاسِ)
‹ Previous page Next page › Contents of March 2025 All issues