شکایت ختم کرنے کا طریقہ
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۵، صفحہ ۲۵
شکایت ختم کرنے کا طریقہ
سماجی زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک آدمی کو دوسرے سے شکایت اور اختلاف پیدا ہو جاتا ہے۔ یہ بات خاندان کے اندر بھی ہوتی ہے اور خاندان کے باہر بھی۔ جب ایسا ہوتا ہے تو لوگ عام طور پر یہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی صفائی پیش کرنے لگتے ہیں۔ وہ کوشش کرتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح وہ اپنے رویے کو درست ثابت کریں۔ شکایت اور اختلاف پیدا ہونے کے بعد ہر ایک ایسا ہی کرتا ہے۔ لیکن تجربہ بتاتا ہے کہ اس طرح شکایتیں ختم نہیں ہوتیں۔ لوگ بظاہر چپ ہو جاتے ہیں لیکن شکایت تھی وہ بدستور دل میں باقی رہتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہمارا سماج پورا کا پورا شکایت سے بھرا ہوا سماج بن گیا ہے۔ ہر ایک منفی نفسیات میں جیتا ہے۔ مثبت نفسیات میں جینے والا انسان کہیں نظر نہیں آتا۔ اس معاملے کا حل صرف یہ ہے کہ موجودہ طریقے کو ختم کر دیا جائے۔ شکایت پیش آنے کی صورت میں اس کی صفائی کی کوشش نہ کی جائے، بلکہ سیدھے طور پر اپنی غلطی مان لی جائے۔ اپنے کو درست ثابت کرنے کے بجائے یہ کہہ دیا جائے کہ — میں غلطی پر تھا، مجھے معاف کر دو۔ یہ طریقہ عظیم اخلاقی قدر (moral value) کا حامل ہے۔ اپنی غلطی نہ ماننا، ہمیشہ کبر کی بنا پر ہوتا ہے، لیکن بحث کے بغیر اپنی غلطی کو مان لینا، آدمی کے اندر وہ عظیم صفت پیدا کرتا ہے جس کو تواضع (modesty) کہا گیا ہے۔
اصل یہ ہے کہ اختلافی معاملے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ وہ معاملہ ذاتی شکایت کا معاملہ ہو۔ اور دوسرا یہ کہ وہ معاملہ علمی اور دینی معاملہ ہو۔ اگر معاملہ ذاتی شکایت کا ہو تو اس کو ختم کرنے کی بہترین صورت یہ ہے کہ یہ نہ دیکھا جائے کہ حقیقی معنوں میں کس کی غلطی تھی، بلکہ تواضع کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے فوراً خود اپنے کو غلط مان لیا جائے۔ اس طرح معاملہ فی الفور ختم ہو جائے گا۔ البتہ اگر معاملہ علمی یا دینی ہو، یعنی اس کا تعلق اصولی نوعیت کا ہو تو دلائل کے ذریعے اس کی وضاحت کی کوشش کرنا چاہیے ۔ مگر یہاں بھی ضروری ہے کہ بات کو صرف دلائل تک محدود رکھا جائے، اُس کو ضد تک نہ پہنچنے دیا جائے۔ دلیل کے ذریعے جو بات ثابت ہو جائے اُس کو دونوں فریق مان لیں۔ اس طرح نہ صرف یہ کہ معاملہ ختم ہوگا، بلکہ وہ دونوں کے لیے ذہنی اور روحانی ارتقا کا ذریعہ بن جائے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2025 All issues