اختلاف ایک فطری معاملہ
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۵، صفحہ ۳۳
اختلاف ایک فطری معاملہ
ابن قیم الجوزیۃ 691ھ میں دمشق میں پیدا ہوئے ۔ 751ھ میں ان کی وفات ہوئی۔ ان کی ایک مشہور کتاب اعلام الموقعین ہے۔ اس کتاب میں وہ لکھتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق اور حضرت عبداللہ بن مسعود کے درمیان سو مسائل (نَحْوَ مِائَةِ مَسْأَلَة) میں باہم اختلاف تھا۔ اسی طرح انھوں نے دوسرے صحابہ کے درمیان رایوں کے اختلاف کا ذکر کیا ہے (اعلام الموقعین، جلد 3، صفحہ 102)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اصحاب رسول میں سے کسی نے بھی اختلاف کو برا نہیں مانا، تمام لوگوں نے اس کو ایک فطری معاملہ سمجھا، جس سے نہ باہمی محبت ختم ہوتی اور نہ مسلمانوں کی جماعت میں کوئی انتشار پیدا ہوتا۔
یہ اسلام کی وہ صورت حال ہے جو اصحاب رسول کے زمانہ میں تھی۔ یعنی وہ زمانہ جس کو اسلام کی تاریخ میں معیاری دور کہا جاتا ہے۔ اس زمانہ میں ہر مسلمان آزادانہ طور پر اختلاف رائے کرتا تھا۔ یہ اختلاف رائے اکثر نہایت شدید الفاظ میں ہوتا تھا۔ اس کے باوجود کبھی ایسا نہیں ہوا کہ اختلاف اور تنقید کرنے والے کو روکا جائے یا اس کو کوئی ناپسندیدہ کام سمجھا جائے۔
اس کے برعکس، موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کو دیکھیے تو صورت حال بالکل مختلف نظر آئے گی۔ آج اگر کسی مسلم شخصیت پر تنقید کر دی جائے تو مسلمان فوراً مشتعل ہو جاتے ہیں۔ وہ ناقد کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ دور صحابہ اور موجودہ زمانہ میں اس فرق کا سبب کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ صحابہ صرف ایک اللہ کو بڑا بنائے ہوئے تھے۔ اللہ کے بعد تمام انسان ان کی نظر میں برابر تھے۔ اس لیے انسانوں پر تنقید سے ان پر کوئی اثر نہیں پڑتا تھا۔ اس کے برعکس، موجودہ زمانہ کے مسلمان اللہ کے ساتھ دوسرے انسانوں کو بھی بڑا بنائے ہوئے ہیں۔ ان انسانی بڑوں کے لیے انھوں نے مبتدعانہ طور پر ”اکابر“ کا لفظ وضع کر رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان اپنی محبوب شخصیتوں پر تنقید سے بھڑک اٹھتے ہیں۔
دین میں معیار بہر حال اصحاب رسول ہیں۔ مسلمان اگر اس کے سوا کوئی اور معیار بنائیں تو وہ بلاشبہ بدعت ہے، اور بدعت اسلام میں مقبول نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2025 All issues