حسن رفاقت کا معاشرہ
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۶، صفحہ ۱۱
حسن رفاقت کا معاشرہ
جنت کیا ہے ۔ جنت کے بارے میں قرآن میں آیا ہے : وَاللَّهُ يَدْعُو إِلَى دَارِ السَّلَامِ (10:25)۔ یعنی ، اور اللہ امن کے گھر کی طرف بلاتا ہے۔ اس حقیقت کو جنت کے حوالے سے دوسرے مقام پر ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: لَا يَسْمَعُونَ فِيهَا لَغْوًا وَلَا تَأْثِيمًا إِلَّا قِيلًا سَلَامًا سَلَامًا (56:25-26)۔ یعنی ، اس میں وہ کوئی لغو اور گناہ کی بات نہیں سنیں گے۔ مگر صرف سلام سلام کا بول۔ قرآن کی ان آیات پر غور کرنے سے جنت کی جو تصویر بنتی ہے، وہ یہ ہے کہ جنت حسن رفاقت کا معاشرہ ہو گا (النساء، 4:69)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جنت میں مکمل طور پر امن کا ماحول ہوگا۔ اس لیے جنت میں وہی لوگ جگہ پائیں گے، جو دنیا کی زندگی میں یہ ثابت کر چکے ہوں کہ وہ حقیقی معنوں میں اپنے سماج کے پر امن شہری بن کر رہ سکتے ہیں۔
جنت میں بسانے کے لیے ایسے لوگ منتخب کیے جائیں گے، جو دنیا کی زندگی میں یہ ثابت کر چکے ہوں کہ وہ پورے معنی میں اعلیٰ کردار کے حامل ہیں، جو دنیا کی زندگی میں دوسرے انسانوں کے ساتھ حسن رفاقت کا معاملہ کریں، جن کا حال یہ ہو کہ ان کے دلوں میں دوسرے انسانوں کے لیے امن اور خیر خواہی کے جذبات کے سوا کچھ اور نہ ہو۔
موجودہ دنیا جنت کے لیے اہلیت ثابت کرنے کا مقام ہے، یعنی یہ ثابت کرنے کا مقام کہ اس دنیا کی زندگی میں کوئی انسان خدا اور اس کے بندوں کے ساتھ کس طرح زندگی گزارتا ہے۔ جو انسان اپنے آپ کو اس امتحان میں کامیاب کرے گا، وہی وہ انسان ہے، جو جنت کا مستحق ہوگا۔ حدیث میں ہے کہ دوصفات سب سے زیادہ انسانوں کے جنت میں داخلہ کا سبب بنیں گے، تقویٰ اور حسنِ اخلاق (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2004)۔ تقویٰ نام ہے، اللہ سے قربت کا، اور حسن اخلاق نام ہے اس بات کا کہ آدمی دنیا میں سلف ڈسپلن (self-discipline) کی زندگی گزارے۔ وہ سماج میں ایک نو پرابلم (no problem) انسان بن کر رہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2026 All issues