Al-Risala · March 2026 · page 49

انتم گیت

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۶، صفحہ ۴۹

پر لے کر اپنا مطب کھول لیا۔ ان کی زندگی کے تلخ تجربات اور مستقبل کی خاطر ان کی طویل جدوجہد نے ان کو بہت کچھ سکھا دیا تھا۔ انھوں نے نہایت محنت اور ہوشیاری کے ساتھ اپنا مطب چلایا۔ صرف چھ ماہ بعد ان کی آمدنی اتنی ہوگئی کہ ایک مکان لے کر وہ بچوں کے ساتھ ب فراغت رہنے لگے۔ ایک سال کے بعد انھیں مقامی طبی کالج میں لیکچرر کی جگہ بھی مل گئی۔ اس طرح ان کی معاشی زندگی میں مزید استحکام پیدا ہو گیا۔ کل کے ملاجی اب ڈاکٹر صاحب بن کر زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کو عزت بھی حاصل ہے اور معاشی فارغ البالی بھی۔

زندگی کے ناموافق حالات زندگی کے نئے زینے ہوتے ہیں جن کو استعمال کر کے آدمی آگے بڑھ سکتا ہے۔ بشرطیکہ وہ ناموافق حالات سے نفرت اور شکایت کا سبق نہ لے ۔ بلکہ مثبت ذہن کے تحت اپنے لیے نیا مستقبل بنانے میں لگ جائے۔ (الرسالہ، مئی 1982)

انتم گیت

ٹیگور نے کہا تھا کہ ساری عمر باجے کے تاروں کو درست کرنے میں بیت گئی، اور میں انتم گیت نہ گا سکا۔

The song that I came to sing remains unsung to this day. (Gitanjali, Ch. 13)

میرا انشا نہ انتم گیت نہ تھا بلکہ جنت تھا۔ میں کہوں گا کہ ساری عمر جنت کے شوق میں بیت گئی اور میں جنت کی اہلیت کا ثبوت نہ دے سکا۔ اب 75 سال کی عمر کو پہنچ کر میں اپنی عمر کے آخری مرحلہ میں ہوں ۔ بہت جلد میں اپنے آپ کو اگلی دنیا میں پاؤں گا۔ اہلیت کی بنا پر تو میں جنت کا مستحق نہیں الا یہ کہ اللہ اپنی رحمت خاص سے مجھے جنت میں داخلہ دے دے۔ (ڈائری، 31 دسمبر 1996)

‹ Previous page Next page › Contents of March 2026 All issues

Printed page