تخلیقی منصوبہ
الرسالہ، مئی ۲۰۲۶، صفحہ ۵
تخلیقی منصوبہ
ایک قاری الرسالہ نے یہ سوال لکھا ہے: کریشن پلان آف گاڈ جاننا کیوں ضروری ہے، کیا اس کو جاننے سے انسان کی زندگی کا سفر آسان ہو جائے گا، یا انسان کے اشکالات دور ہو جائیں گے، آخر اس کی اتنی اہمیت الرسالہ مشن میں کیوں ہے؟ ( حافظ سید اقبال احمد عمری، عمر آباد، تامل ناڈو) قرآن کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سوال ایک بنیادی سوال ہے۔ اس سوال کا جواب معلوم کرنا ہر انسان کی ذمے داری ہے۔ اس سوال کا جواب معلوم کرنے سے آدمی اپنے لیے راہِ راست کو پا لیتا ہے، اور اگر وہ اس راہِ راست کو نہ پائے، تو وہ زندگی کی راہوں میں بھٹکتا رہے گا، وہ اپنے لیے صراطِ مستقیم (right path) کو دریافت نہ کر سکے گا۔
یہ حقیقت قرآن کی اس آیت کے مطالعے سے معلوم ہوتی ہے: اَلَّذِيۡ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْغَفُورُ (67:2)۔ یعنی جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تا کہ وہ تم کو جانچے کہ تم میں سے کون اچھا کام کرتا ہے۔ اور وہ زبردست ہے، بخشنے والا ہے۔ قرآن کی اس آیت کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ تخلیق سے خالق کا مقصد کیا ہے۔ وہ ہے احسن العمل افراد کا بذریعہ امتحان انتخاب کرنا۔ افراد کو امتحان کے حالات میں ڈال کر یہ دیکھنا کہ لوگوں میں وہ فرد کون سا ہے، جس نے امتحان میں احسن العمل کردار کا ثبوت دیا۔ مثلاً وہ کون ہے جو اصولوں پر قائم رہ کر اپنے ہمسایوں کے لیے قابلِ پیشین گوئی کردار کا حامل بن گیا ہے۔ یعنی اس کے ہمسائیگی میں رہنے والے یہ یقین کر سکتے ہیں کہ اس سے کوئی نزاع پیدا ہو جائے، تو وہ حق کے راستے سے کبھی نہیں ہٹے گا۔ وہ اس اصول کا حامل بن رہا ہے، جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَى أَلَّا تَعْدِلُوا اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى (5:8)۔ یعنی، کسی گروہ کی دشمنی تم کو اس پر نہ ابھارے کہ تم انصاف نہ کرو، انصاف کرو، یہی تقویٰ سے زیادہ قریب ہے۔ یہی وہ منتخب لوگ ہیں، جن کو آخرت کی دنیا میں جنت میں داخلہ ملے گا۔