کھلا پن
الرسالہ، مئی ۲۰۲۶، صفحہ ۳۲
کھلا پن
موجودہ زمانے میں ایک ٹرم اکثراستعمال ہوتی ہے۔ وہ ہے کھلا پن (openness) ۔ اس کا مطلب ہے ۔ کسی ریزرویشن کے بغیر بات کو کھلے ذہن کے ساتھ سننا، خواہ وہ اپنے نقطہ نظر کے مطابق ہو یا خلاف :
The quality of being honest and willing to talk about things without preoccupation. یہ حسن ذوق کی بات ہے، اور یہ حسن ذوق فطرت کا ایک انوکھا عطیہ ہے، جو کسی انسان کو دیا جاتا ہے۔ جس آدمی کے اندر یہ حسن ذوق موجود ہو، اس کے اندر گویا فطری حق کو پہچاننے اور اس کو قبول کرنے کا استحقاق موجود ہے۔
یہ کھلا پن یا یہ حسن ذوق اس انسان کو ملتا ہے، جو اپنی فطرت کو محفوظ حالت میں باقی رکھتے ہیں۔ جو فطرت کے عطیے کو بگاڑ کا شکار نہ ہونے دے۔ فطرت کو محفوظ رکھنا گویا جنت کے استحقاق کو محفوظ رکھنا ہے۔ اس حسن ذوق کے بغیر کسی کو جنت میں داخل کرنا ایسا ہی ہے، جیسے کسی حیوان کو ایک انسانی محل میں داخل کر دینا۔
کھلا پن کا فائدہ کیا ہے۔ کھلا پن کا فائدہ یہ ہے کہ جہاں کھلا پن ہو، وہاں تعلّم (learning) برابر جاری رہے گی، لرننگ کا تسلسل کہیں ختم نہ ہوگا۔ تعلّم ایک دو طرفہ عمل ہے۔ سیکھنے والے کے لیے بھی، اور سکھانے والے کے لیے بھی۔ تعلّم کا تسلسل صرف اس وقت ختم ہوتا ہے، جب کہ انسان پیشگی مفروضہ کے ساتھ باتوں کو سننا شروع کر دے۔ حقیقت یہ ہے کہ قوموں کی ترقی کے لیے تعلیم اور تعلّم دونوں یکساں طور پر اہم ہیں۔
اس اصول کے مطابق ، کسی انسان کو اپنے اندر آبجیکٹیو تھنکنگ (objective thinking) کی صفت پیدا کرنی چاہیے، یعنی غیر جانبداری کا انداز۔ آدمی کے اندر جتنا زیادہ غیر جانبداری کا انداز ہوگا، اتنا ہی وہ فطرت کے اس نظام سے فائدہ اٹھا پائے گا۔