حدیث اور قرآن
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۶، صفحہ ۲۰
حدیث اور قرآن
قرآن میں وہ تمام حقیقتیں بیان کی گئی ہیں، جو انسان کی سعادت کے لیے ضروری ہیں۔ مگر یہ بیان، زیادہ تر، عمومی انداز میں ہے، وہ تعین اور تحدید (specification) کی زبان میں نہیں ۔ اس اعتبار سے، حدیث گویا کہ قرآن کا تکملہ (complement) ہے۔ حدیث میں قرآن کی عمومی تعلیمات کو محدّد زبان میں بیان کیا گیا ہے:
Hadith specifies the general teaching of Quran.
مثال کے طور پر قرآن کی سورۃ الاحزاب میں ارشاد ہوا ہے: يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا اللَّهَ ذِكْرًا كَثِيرًا (33:41)۔ یعنی، اے ایمان والو، اللہ کو بہت زیادہ یاد کرو۔ یہ آیت صرف ذکر کثیر کی تعلیم دیتی ہے، مگر ذکر کثیر کی عملی صورت کیا ہے، وہ قرآن کی اس آیت سے معلوم نہیں ہوتی۔ قرآن ایک کتاب ہے، اس لیے اُس میں کسی تعلیم کو صرف اصولی طور پر بیان کیا جا سکتا ہے۔ کسی تعلیم کی عملی صورت کو ایک کتاب میں بیان کرنا ممکن نہیں۔
اس لیے قرآن میں بتایا گیا ہے کہ رسول تمہارے لیے اسوہ ہیں (33:21)۔ اسوہ کا مطلب ہے عملی نمونہ (practical model)۔ چنانچہ قرآن کی مذکورہ تعلیم (ذکرِ کثیر) کا عملی ماڈل حدیث کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں حضرت عائشہ کی ایک روایت ہماری رہنمائی کرتی ہے۔ اُس روایت کے الفاظ یہ ہیں: كَانَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وسلم يَذْكُرُ اللهَ عَلَى كُلِّ أَحْيَانِهِ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 117)۔ یعنی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، اللہ کو ہر حین (occasion) پر یاد کرتے تھے۔ رسول اللہ کے اس اسوہ سے قرآن کی مذکورہ آیت کا مفہوم واضح طور پر معلوم ہو جاتا ہے۔ وہ یہ کہ ذکر کثیر کا مطلب کیا ہے۔ یعنی واقعات اور تجربات کو پوائنٹ آف ریفرنس (point of reference) بنا کر اللہ کو یاد کرنا۔ واقعات اور تجربات آدمی کی زندگی میں ہر لمحہ پیش آتے رہتے ہیں۔ اس بنا پر انسان کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ ہر لمحہ پیش آنے والے واقعات اور تجربات کے حوالے سے اللہ کو یاد کرتا رہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کو قرآن میں ذکر کثیر کہا گیا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2026 All issues