Al-Risala · July 2026 · page 5

اسلام کا تصغیری فارم

الرسالہ، جولائی ۲۰۲۶، صفحہ ۵

اسلام کا تصغیری فارم

ایک مغربی اسکالر نے مذاہب کا تاریخی مطالعہ کیا۔ اس کے بعد اس نے اپنے نتیجہ مطالعہ کو ان الفاظ میں بیان کیا— مذہب ایک زندہ آئیڈیا لوجی کے طور پر شروع ہوتا ہے۔ لیکن کچھ نسلوں کے بعد مذہب ایک بے روح فارم بن جاتا ہے:

Religion begins as a living ideology, but after some generation, it is reduced to a lifeless form. تاریخی اعتبار سے یہ بلاشبہ ایک حقیقت ہے۔ مسلمانوں کا بھی اس معاملے میں کوئی استثنا نہیں ۔ دورِ اول کے اہل ایمان نے جب اسلام کو اپنایا تو اسلام ان کی زندگیوں میں ایک زندہ آئیڈیا لوجی کے طور پر داخل ہوا۔ اسلام نے ان کی سوچ کو بدل دیا، ان کے طرز زندگی کو بدل دیا، ان کی پوری زندگی میں اسلام ایک متحرک عنصر بن کر شامل ہو گیا، اسلام ان کی زندگی کا واحد مشن بن گیا۔ مگر بعد کی نسلوں میں بگاڑ آیا۔ آج کی مسلم نسلوں میں بظاہر اسلام ہے، لیکن وہ صرف ایک بے روح کلچر ہے، نہ کہ حقیقی معنوں میں زندہ اسلام۔

موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں کلمۂ شہادت محض کلمہ گوئی کے ہم معنی بن گیا ہے، نہ کہ حق کی دریافت کا اعلان۔ خدا کی کتاب ان کے لیے صرف کتاب تلاوت ہے، نہ کہ کتاب تدبر۔ ذکر ان کے یہاں ورد کے ہم معنی ہے، وہ اللہ کی عظمتوں کو یاد کرنے کے ہم معنی نہیں۔ دعوت ان کے یہاں مناظرہ (debate) کے ہم معنی ہے، نہ کہ اللہ کے بندوں کے ساتھ خیر خواہی کے ہم معنی۔ عبادت ان کے لیے ایک مقرر رسم کی ادائیگی کا نام ہے، وہ خدا وند ذو الجلال سے قربت کے ہم معنی نہیں، وغیرہ۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کے اندر جو یہ زوال آیا ہے۔ اس کو دور کرنے کا نام تجدید و احیا ہے۔ مسلمانوں کی موجودہ صورتِ حال تجدید و احیا کے عمل کو زندہ کرنے کا تقاضا کرتی ہے۔ لیکن موجودہ زمانے میں تجدید و احیا کا یہ کام روایتی انداز میں نہیں ہو سکتا۔ ضروری ہے کہ تجدید کا یہ عمل عصر حاضر کی رعایت کرتے ہوئے کیا جائے، جس تجدید میں عصر حاضر کی رعایت شامل نہ ہو، وہ حقیقی معنوں میں تجدید دین اور احیائے ملت کا عمل نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2026 All issues

Printed page