Al-Risala · July 2026 · page 7

خدا کا خوف

الرسالہ، جولائی ۲۰۲۶، صفحہ ۷

خدا کا خوف

کتابوں میں عمر بن عبدالعزیز (101-61ھ) اور حسن بصری (110-21ھ) کے بارے میں آتا ہے کہ وہ دونوں سب سے زیادہ خوف رکھنے والے تھے، گویا کہ آگ انھیں دونوں کے لیے پیدا کی گئی ہو: مَا رَأَيْتُ أَخْوَفَ مِنَ الْحَسَنِ وَعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ كَأَنَّ النَّارَ لَمْ تُخْلَقْ إِلَّا لَهُمَا (الطبقات الکبریٰ لابن سعد، جلد 5، صفحہ 398)۔

اکابر اہل ایمان کے بارے میں عام طور پر اسی قسم کے اقوال کتابوں میں آئے ہیں۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا سبب یہ نہیں تھا کہ یہ لوگ بڑے بڑے گناہوں میں مبتلا ہوئے تھے۔ اس کا سبب غالباً اللہ رب العالمین کی عظمت کا احساس تھا۔ جس انسان کو اللہ رب العالمین کی معرفت حاصل ہو جائے، اس کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ اللہ کی عظمت کے احساس میں جینے لگتا ہے۔ اللہ کی عظمت کا احساس اس کے اوپر اتنا زیادہ چھا جاتا ہے کہ وہ بظاہر اللہ کی عظمت کے سوا کچھ اور سوچنے کے قابل نہیں رہتا۔

اگر آپ صحرا (desert) میں ہوں، اور کبھی آفتاب (Sun) کو دیکھیں، جب کہ وہ کھلے آسمان میں بھر پور انداز میں دکھائی دے رہا ہو۔ تو آپ کے اوپر عجیب قسم کی دہشت طاری ہو جائے گی۔ اس وقت آپ اپنے وجود کو بھول جائیں گے، اور آپ کو صرف آفتاب کی بڑائی یاد آئے گی۔ اس تجربے سے بے حساب گنا زیادہ بڑا تجربہ وہ ہے، جب کہ بندہ مومن کو اللہ رب العالمین کی ہستی کا ادراک ہو جائے۔ وہ اللہ کی عظمت کے احساس سے کانپ اٹھے گا۔ اس کو اپنا وجود اتنا حقیر دکھائی دے گا، گویا کہ اس کی کوئی حقیقت نہیں۔ یہی تجربہ زیادہ بڑے درجے میں اہل ایمان کو اس وقت ہوتا ہے، جب کہ وہ اللہ رب العالمین کی عظمت میں جینے والے بن گئے ہوں۔ اللہ رب العالمین کی عظمت تمام عظمتوں سے زیادہ عظیم ہے۔ اس کا تجربہ آپ اس طرح کر سکتے ہیں کہ آپ قرآن کی آیت الکرسی (البقرۃ، 2:255) کو گہرے احساس کے ساتھ پڑھیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2026 All issues

Printed page