اسلامی مسلک
الرسالہ، جولائی ۲۰۲۶، صفحہ ۳۴
اسلامی مسلک
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اے لوگو، اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اس سے اس کا جوڑا پیدا کیا اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں (4:1)۔ مفسر ابن کثیر نے اس کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ پیدائش کی اصل ایک باپ اور ایک ماں سے ہے تا کہ لوگ ایک دوسرے کی طرف مائل ہوں: أَنَّ أَصْلَ الْخَلْقِ مِنْ أَبٍ وَاحِدٍ وَأُمٍّ وَاحِدَةٍ لِيَعْطِفَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ (تفسیر ابن کثیر، جلد 1، صفحہ 488)۔
حدیث میں یہی بات اس طرح کہی گئی ہے کہ تمام انسان یکساں طور پر اللہ کے بندے ہیں اور سب آپس میں بھائی بھائی ہیں: أَنَّ الْعِبَادَ كُلَّهُمْ إِخْوَةٌ (مسند احمد، حدیث نمبر (19293)۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرمایا کہ تمام انسان آدم کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے پیدا کیے گئے تھے: كُلُّكُمْ بَنُو آدَمَ، وَآدَمُ خُلِقَ مِنْ تُرَابٍ (مسند البزار، حدیث نمبر 2938)۔ اس اسلامی اصول کے مطابق، مسلمان اور غیر مسلم سب ایک دوسرے کے لیے بھائی بھائی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ہندوستان میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے باہمی تعلق کی صحیح ترین صورت یہ ہے کہ اس کو برادرانہ بنیاد پر استوار کیا جائے۔ مولانا سید حسین احمد مدنی نے اس کو "متحدہ قومیت" سے تعبیر کیا تھا (ملاحظہ ہو مولانا موصوف کی کتاب، متحدہ قومیت اور اسلام، مطبوعہ 1938، مجلس قاسم العلوم دیو بند)۔ مولانا حسین احمد مدنی کے ہند و مسلم اتحاد کے نقطہ نظر کو مزید سمجھنے کے لیے ملاحظہ ہو، مکتوبات شیخ الاسلام، جلد 1، مکتوب 65، معارف، 1952۔
1947 سے پہلے ہندوستان کے تقریباً تمام علما اس مسلک پر متفق تھے۔ وہ ہندوؤں اور مسلمانوں کو بھائی بھائی کی طرح متحد کرنا چاہتے تھے۔ مگر بعض ناموافق اسباب کی بنا پر، قومی اتحاد کی کوشش کامیاب نہ ہوسکی۔ اس کے برعکس، دونوں فرقوں کا تعلق تقسیم اور علاحدگی پسندی کی بنیاد پر قائم ہو گیا۔ اس تفریقی سیاست کے نہایت مہلک نتائج برآمد ہوئے۔
ملک کی تقسیم کے بعد فرقہ وارانہ سیاست کا طوفان ختم ہوا۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے دسمبر 1947 میں لکھنو میں ایک مسلم کانفرنس کی۔ مولانا آزاد نے اس موقع پر صدارتی تقریر کرتے
‹ Previous page Next page › Contents of July 2026 All issues