امانی اور فکری زوال
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۶، صفحہ ۲۸
اس کو زندہ کرنے کے لیے صرف یہ کرنا ہے کہ اس کے اندر جوش و ولولہ پیدا کر دیا جائے۔ اقبال کا یہ شعر اسی ذہن کی نمائندگی کرتا ہے:
نوارا تلخ تر می زن چو ذوق نغمہ کم یابی خدی را تیز تر می خواں چو محمل را گراں بینی یعنی، اگر جذبہ اور شوق کم پڑ جائے تو اپنی آواز میں شدت پیدا کر، اور جب سفر بوجھ لگنے لگے تو حوصلہ بڑھانے والے ترانے کو بلند آواز میں گا۔
مگر امت کی احیا کا یہ صحیح طریقہ نوہیں۔ امت کی احیا کا مطلب یہ ہے کہ امت کے افراد کو صحیح اور مثبت راستے پر ڈالا جائے ان کو "امانی" سے باہر نکالا جائے۔ قانون فطرت کے مطابق اس دنیا میں کوئی بھی تعمیری مشن غوغائی سیاست سے شروع نہیں ہوتا۔ تعمیری مشن ہمیشہ افراد سازی سے شروع ہوتا ہے۔ احیائے امت کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے اس بات کو تسلیم کیا جائے کہ موجودہ زمانے کے مسلمان خیر امت کی سطح پر نہیں ہیں، بلکہ وہ ایک زوال یافتہ امت (degenerated community) ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے یہود و نصاریٰ کون تھے۔ وہ دراصل دورِ قدیم کی زوال یافتہ امت تھے۔ قرآن میں ان کی جو حالت بیان کی گئی ہے، وہ امت مسلمہ کے موجودہ دورِ زوال کے لیے ایک آئینہ ہے۔ یعنی امت مسلمہ کو اپنی اصلاح کے لیے وہی طریقہ اختیار کرنا چاہیے، جو قرآن میں اہل کتاب کی اصلاح کے لیے بیان کیے گئے ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ بعد کے مسلم رہنماؤں کے لیے کرنے کا کام یہ نہیں ہے کہ وہ امت کے افراد کو خیر امت فرض کر کے کام کا آغاز کریں، بلکہ وہ اصلاح سے پہلے اس حقیقت کو تسلیم کریں کہ یہ امت زوال کے اُس مرحلے میں پہنچ چکی ہے جہاں یہود و نصاریٰ پہنچے تھے۔ اس بنا پر اُن کی اصلاح کے لیے عملاً ہی طریقہ کارآمد ہو سکتا ہے جو قرآن میں یہود و نصاریٰ کی اصلاح کے لیے بیان کیے گئے ہیں۔ اور ان تمام باتوں کا خلاصہ سورۃ الحدید (17-16 :57) میں اس طرح بتایا گیا ہے کہ پہلے افرادِ امت کے شعور کو بیدار کرنا اور اس کے بعد اس کی عملی اصلاح کرنا۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2026 All issues