Al-Risala · January 2026 · page 7

خالق کی معرفت

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۶، صفحہ ۷

خالق کی معرفت

کائنات کے سائنسی مطالعہ معلوم ہوتا ہے کہ مائنڈ باگلنگ سطح پر اس نظام قائم ہے۔ اس کے مطالعہ کا لازمی نتیجہ یہ ہونا چاہیے کہ انسان اس حقیقت کو دریافت کرے کہ اس کائنات کا کوئی پیدا کرنے والا اور چلانے والا ضرور موجود ہے، جو اس بے حد وسیع اور پیچیدہ کائناتی نظام کو انتہائی اعلی درجہ کی حکمت کے ساتھ چلا رہا ہے۔ اس کے باوجود انسانی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ انسان جس حقیقت سے سب سے زیادہ ناواقف اور بے خبر رہا ہے، وہ خالق کائنات کی معرفت ہے۔ اس حقیقت کو مالک بن دینار تابعی (وفات 127ھ) نے درست طور پر ان الفاظ میں بیان کیا ہے: خَرَجَ أَهْلُ الدُّنْيَا مِنَ الدُّنْيَا وَلَمْ يَذُوقُوا أَطْيَبَ شَيْءٍ فِيهَا۔ قَالُوا: وَمَا هُوَ يَا أَبَا يَحْيَى؟ قَالَ: مَعْرِفَةُ اللَّهِ تَعَالَى (حلیة الاولیاء، جلد 2، صفحہ 357)۔ یعنی، اہل دنیا دنیا سے چلے گئے، اور اس کی سب سے پاکیزہ چیز کو نہیں چکھا، لوگوں نے پوچھا، وہ کیا ہے، اے ابو یحییٰ، انھوں نے جواب دیا: اللہ کی معرفت۔ اللہ کا راستہ صراط مستقیم کہلاتا ہے، یعنی درست راستہ۔ جو انسان صراط مستقیم کو پہچان کر اس پر ثابت قدمی کے ساتھ چلتا رہے، وہ گمراہی سے محفوظ رہے گا۔ اس لیے ہر انسان کا پہلا اور بنیادی کام یہ ہے کہ وہ صراط مستقیم اور غیر صراط مستقیم کی درست پہچان حاصل کرے ۔ یعنی صحیح اور غلط کے امتیاز کے ساتھ زندگی کا سفر طے کرے۔ جو شخص اس پہچان سے محروم رہ جاتا ہے، وہ زندگی کے مختلف راستوں میں بھٹکتا رہتا ہے، حالاں کہ وہ اس گمان میں رہتا ہے کہ وہ درست اور مطلوب راستے پر چل رہا ہے۔ جو آدمی معرفت کی منزل تک پہنچنا چاہتا ہے، اس کو سب سے پہلے یہ جاننا چاہیے کہ معرفت کے راستے کا نقطہ آغاز کیا ہے۔ صحیح نقطہ آغاز سے اپنا سفر شروع کرنے والا منزل پر پہنچے گا، اور جو شخص صحیح نقطہ آغاز کی پہچان سے محروم رہے، وہ ہمیشہ مختلف راستوں میں بھٹکتا رہے گا، اور صحیح منزل سے محروم رہے گا۔ آدمی کو اس سے بچنا چاہیے کہ وہ ہر کھلے راستے پر چل پڑے، اور آخر میں اس کا انجام یہ ہو کہ وہ کبھی اپنی منزل مقصود پر نہ پہنچے۔ اس لیے آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے سفر کا آغاز صحیح اور غلط کی پہچان سے شروع کرے اور اس کا سرا خدا کی معرفت ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2026 All issues

Printed page