Al-Risala · January 2026 · page 9

شرک ، توحید

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۶، صفحہ ۹

شرک ، توحید

شرک اور توحید کو عام طور پر بتوں کو پوجنے یا نہ پوجنے تک محدود سمجھ لیا جاتا ہے۔ جو آدمی بظاہر بت کو پو جے ، وہ مشرک ہے اور جو آدمی بظاہر بت کو نہ پو جے ، وہ موحد ہے۔ مگر یہ شرک اور توحید کا ایک بے حد کم تر اندازہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ شرک کا تعلق انسان کی گہری نفسیات سے ہے۔ انسان خود اپنی نفسیات کی سطح پر مشرک یا موحد بنتا ہے، نہ کہ کسی خارجی مجسمے کی سطح پر۔ اصل یہ ہے کہ انسان کے اندر ایک انتہائی طاقتور طاقت ور جذبہ ہے۔ یہ محبت کا جذبہ موجود ہے ، یعنی کسی کے لیے اسٹرانگ افکشن (strong affection) کا ہونا۔ اس شدید جذبہ محبت کو انسان اگر کسی غیر خدا کے ساتھ وابستہ (associate) کرے تو وہ شرک ہے، اور اگر وہ اس جذبے کو اللہ کے ساتھ مخصوص کر دے تو وہ توحید ہے۔

یہی وہ حقیقت ہے ۔ جو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے :

وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّتَّخِذُ مِنْ دُونِ اللَّهِ اَنْدَادًا يُحِبُّوْنَهُمْ كَحُبِّ اللَّهِ ، وَالَّذِيْنَ اَمَنُوْا اَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ (2:165)۔ یعنی ، کچھ لوگ ایسے ہیں۔ جو اللہ کے سوا دوسروں کو اس کے برابر ٹھہراتے ہیں ۔ وہ اُن سے ایسی محبت رکھتے ہیں، جیسی محبت اللہ سے رکھنا چاہیے۔ اور جو اہل ایمان ہیں، وہ سب سے زیادہ اللہ سے محبت رکھنے والے ہیں۔

اللہ سے حب شدید (strong affection) اصلاً ایک قلبی حالت کا نام ہے۔ تاہم اس کے کچھ خارجی مظاہر ہیں۔ اس کا ایک مظہر یہ ہے کہ ایسا آدمی اللہ سے اپنے شدت تعلق کی بنا پر مجبور ہوتا ہے کہ وہ بار بار اللہ کا چرچا کرے ۔ اس کی مجلس میں گہری کیفیت کے ساتھ اللہ کا ذکر کرتا رہے۔ اس کے دماغ میں ایسا فکری بھونچال جاری رہے، جو ایک انفجار (explosion) بن کر لفظوں میں ظاہر ہو جائے — یہ گہرا قلبی تعلق اگر کسی غیر اللہ سے ہو تو وہ شرک ہے اور اگر وہ اللہ سے ہو تو اسی کا نام توحید ہے۔ آخرت میں مشرک کے لیے جہنم ہے اور موحد کے لیے جنت۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2026 All issues

Printed page