Al-Risala · March 2026 · page 23

امر بالمعروف، نہی عن المنکر

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۶، صفحہ ۲۳

امر بالمعروف، نہی عن المنکر

معروف کا حکم کرنا اور منکر سے روکنا اسلامی شریعت کی ایک اہم تعلیم ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلم خاندان یا مسلم معاشرے میں محاسبہ (introspection) کی روح ہمیشہ زندہ رہے۔ ایک مومن دوسرے مومن کا سچا نا صح بنا ہوا ہو۔ مومنانہ کردار کی ادائیگی میں جب بھی کوئی شخص کوتاہی کرے تو اس کا ساتھی یا اس کا پڑوسی یا اس کا ہم صحبت پوری خیر خواہی کے ساتھ اس کو نصیحت کرے۔ حدیث کے الفاظ میں ہر مومن دوسرے مومن کا آئینہ بن جائے ـــــ المؤمن مرأۃ المؤمن (سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 4918)۔ جس طرح آئینہ اپنے دیکھنے والے کو کسی کا مپلکس (complex) کے بغیر ٹھیک ٹھیک نشان دہی کرتا ہے، اسی طرح ہر مومن دوسرے مومن کے لیے آئینے جیسا کردار ادا کرتا رہے۔ موجودہ زمانے میں کچھ لوگوں نے معروف ومنکر کی تعلیم میں بطور خود جامعیت کا تصور شامل کر کے اسلام کی اس مثبت تعلیم کو منفی رخ دے دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ معروف ومنکر کی تعلیم کا تعلق صرف انفرادی زندگی سے نہیں، بلکہ وہ اجتماعی زندگی تک محیط ہے۔ اس تعلیم کا تقاضا ہے کہ اہل ایمان معروف ومنکر کی تعلیم کو پوری اجتماعی زندگی میں نافذ کریں، اس راہ میں جو سیاسی یا غیر سیاسی رکاوٹ ہو، اس سے لڑ کر اس کو راستے سے ہٹا دیں۔

معروف ومنکر کا یہ جامع تصور بلاشبہ ایک خود ساختہ تصور ہے، اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ اسلام کی اصل تعلیم سے یقینی طور پر ایک انحراف ہے۔ مسلم دنیا میں نظام عدل کی اقامت کے نام پر اس وقت جو تشدد کلچر جاری ہے، وہ براہ راست طور پر اس انحراف کا نتیجہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام کا اصل نشانہ فرد (individual) ہے، نہ کہ نظام (system)۔ قرآن وحدیث میں جہاں بھی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی تعلیم آئی ہے، وہاں اس سے مراد فرد کی اصلاح ہے، نہ کہ سماجی اور سیاسی نظام (socio-political system) میں کسی قسم کے قانون کا بزور نفاذ۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2026 All issues

Printed page