ملی سرگرمی، سیاسی سرگرمی اور دعوتی سرگرمی
مولانا وحید الدین خاں (بانی ماہنامہ الرسالہ، ۱۹۷۶ء) کے فکری نظام میں مسلم تحریکات اور سرگرمیوں کا گہرا اور ہمہ جہت تجزیہ ملتا ہے۔ مولانا کے نزدیک دورِ حاضر میں مسلمانوں کی جدوجہد بنیادی طور پر تین خانوں میں بٹی ہوئی ہے: ملی سرگرمی، سیاسی سرگرمی، اور دعوتی سرگرمی ۔ ان تینوں سرگرمیوں کی جانچ کرتے ہوئے مولانا وحید الدین خاں نے الرسالہ کے مختلف شماروں میں یہ واضح کیا کہ عصرِ حاضر کی ملی سرگرمی دراصل احتجاج، مطالبات اور ردِ عمل پر قائم ہے، جس سے قوم کو تباہی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا ۔ دوسری طرف، سیاسی سرگرمی اور دین کی سیاسی تعبیر نے اسلام کے روحانی اور ربانی مزاج کو بگاڑ کر اسے ایک سیاسی نظام اور نزاعی مہم میں تبدیل کر دیا ہے، جس کا لازمی نتیجہ تصادم اور تخریب کی صورت میں نکلا ہے ۔ مولانا کے نزدیک امتِ مسلمہ کا اصل اور حقیقی فریضہ، جو خاتم النبیین کے بعد نیابتاً اس پر عائد ہوتا ہے، وہ خالص پرامن اور بے غرضانہ ”دعوت الی اللہ“ ہے، جس میں تمام انسانوں کو سیاسی رقیب کے بجائے ”مدعو“ کے روپ میں دیکھا جائے اور یک طرفہ خیر خواہی اور صبر کا رویہ اپنایا جائے ۔
تینوں سرگرمیوں کی تعریف اور ان کے باہمی فروق
مولانا وحید الدین خاں کی تحریروں کی رو سے ان تینوں دائروں میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔
۱. **ملی سرگرمی:** یہ وہ طرزِ عمل ہے جس میں مسلمان اپنی قوم یا برادری کے تحفظ، حقوق، کوٹہ یا مراعات کے حصول کے لیے حکومتوں یا حریف اقوام کے خلاف پرشور تحریکیں، جلسے، جلوس اور احتجاج برپا کرتے ہیں ۔ مولانا بتاتے ہیں کہ قومی کام صرف اپنی قوم کی خیر خواہی کے جذبے کے تحت کیا جاتا ہے اور اس میں مطالبات اور حقوق طلبی کی زبان بولی جاتی ہے ۔ یہ مبنی بر غیر سیاست ہوتی ہے جس میں مسائل کو بڑھا چڑھا کر دکھایا جاتا ہے اور مواقع کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے ۔
۲. **سیاسی سرگرمی اور سیاسی تعبیر:** اس سے مراد اقتدار کے حصول، نظامِ حکومت پر قبضے، یا شریعت کو ایک قانونی اور ریاستی ڈھانچے کے طور پر نافذ کرنے کی تگ و دو ہے ۔ مولانا کے مطابق، اس کا فکری محرک دین کی وہ جدید تعبیر ہے جس میں ریاست اور اقتدار کو اسلام کا بنیادی مقصد اور اصل نشانہ قرار دیا گیا ۔ سیاسی سرگرمی کی نوعیت کشمکش، ٹکراؤ اور الیکشن کی وقتی بازی گری پر مبنی ہوتی ہے ۔
۳. **دعوتی سرگرمی:** یہ خدا کے کلام اور سچائی کے پیغام کو بلا آمیزش تمام انسانوں تک پہنچانے کا پیغمبرانہ کام ہے ۔ اس کا مقصد انسانوں کو آخرت کی فلاح سے آگاہ کرنا، ان کے اندر خدا ترسی اور معرفت جگانا ہے ۔ دعوتی سرگرمی مکمل طور پر نان پولیٹیکل (non-political)، نان کمیونل (non-communal) اور ایک ”دینے والا مشن“ (giver mission) ہے، نہ کہ لینے والا مشن ۔ دعوت کا تعلق پوری انسانیت کے ساتھ غیر مشروط خیر خواہی سے ہوتا ہے ۔
اس طرح ملی سرگرمی قوم کے دائرے میں گھومتی ہے، سیاسی سرگرمی اقتدار اور ریاست کی طلب گار رہتی ہے، جبکہ دعوتی سرگرمی خدا کی رضا، اخروی نجات اور تمام انسانوں کی بے غرض خیر خواہی پر قائم ہوتی ہے ۔
ملی سرگرمی پر مولانا کا تنقیدی جائزہ
مولانا وحید الدین خاں نے مسلم قیادت کی ملی تحریکوں، مطالبات اور احتجاجی مہمات کا سخت محاسبہ کیا ہے۔ ان کے نزدیک پچھلی نصف صدی سے مسلم سیاست صرف ”احتجاج اور مطالبات کا لفظی طوفان“ کھڑا کرنے کا کام کر رہی ہے ۔
مطالبات کی سیاست اور تضادات
مولانا لکھتے ہیں کہ ۱۹۴۷ء کے بعد مسلمانوں کے اندر کوئی ایسی تحریک نہ اٹھی جو مثبت اور تعمیری رجحان قائم کرتی، بلکہ «فوری ردّ عمل کے تحت، ہر باریش اور بے ریش رہنما نے مسلم حقوق کے نام پر مطالبات کی مہم شروع کردی» ۔ یہ مہمات مختلف ادوار میں مختلف نعروں سے چلائی گئیں، مثلاً کبھی علیحدہ تشخص، کبھی بیس نکاتی مطالبات، اور حال کے زمانے میں «مسلم ایمپاورمنٹ» (Muslim Empowerment) ۔
مولانا نے واضح کیا کہ جس طرح ایک بھائی دوسرے بھائی کے لیے نہیں کماتا اور ہر فرد «اپنی تعمیر آپ» کے اصول پر کام کرتا ہے، اسی طرح پوری ملت کے مسائل بھی خود اس کی اپنی تعمیری کوششوں سے حل ہوں گے، کسی بیرونی مطالبے سے نہیں ۔ جب مسلم قائدین حکومت سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ مسلمانوں کو پسماندہ طبقات کی طرح مراعات اور سہولتیں دی جائیں، تو مولانا کے مطابق یہ مطالبہ کرنے والوں کو پہلے خود اپنے خاندان اور گرد و پیش کے پسماندہ افراد پر اپنی دولت خرچ کر کے مساوات دکھانی چاہیے؛ جب وہ خود یہ کرنے کو تیار نہیں تو دوسری قوموں سے کیونکر امید رکھتے ہیں ۔
اسی طرح ۱۹۷۹ء میں دہلی میں ”ملت بچاؤ“ کے عنوان سے چلائی جانے والی ”جیل بھرو تحریک“ کا تذکرہ کرتے ہوئے مولانا نے بتایا کہ جنتا پارٹی کی حکومت گرتے ہی وہ مطالبات غائب ہو گئے اور قائد موصوف نے کانگریس کے دور میں راجیہ سبھا کی نشست قبول کر لی ۔ مسلم لیڈر اپنے اندر اس تضاد پر زندہ ہیں کہ دوسروں کے لیے تو باہمی گفت و شنید اور معقولیت کی اپیلیں کرتے ہیں مگر خود اپنے اختلافی معاملات میں سخت رویہ اپناتے ہیں ۔
جلوس، مظاہرے اور جھوٹا فخر
مولانا نے مسلمانوں میں جلوس نکالنے، سڑکوں پر طاقت دکھانے اور غیر مسلموں کے جلوسوں پر اعتراض کرنے کی سخت مخالفت کی۔ انہوں نے لکھا کہ جلوس کے راستوں پر تنازعات کا سبب دراصل مسلمانوں کا جھوٹا جذبۂ فخر ہے جس کے تحت وہ جلوس کو شان و شوکت کا مظاہرہ سمجھتے ہیں اور دوسروں کا جلوس اپنے علاقے سے گزرنا گوارا نہیں کرتے ۔ بمبئی کی ایک قدیم مثال دیتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ جب ایک مسجد کے متولی نے ہندو جلوس روکنے کے لیے عدالت کا رخ کیا اور ایک مسلم وکیل نے بحث کر کے مسجد کے آگے ہندو جلوس پر پابندی کا بورڈ لگوا دیا تو مسلمانوں نے اس وکیل کو نجات دہندہ سمجھ لیا، حالانکہ وہ الٹی رہنمائی تھی؛ دانشمندی یہ تھی کہ مسلمانوں کو بتایا جاتا کہ «جلوس کے مسئلہ کا حل اس کو ختم کرنا نہیں ہے بلکہ اس کو برداشت کرنا ہے» ۔
مولانا کے مطابق: «برداشت والے لوگ اگر جلوس نکالیں تو اس کا نام مظاہرہ ہے۔ اور بے برداشت لوگ اگر جلوس نکالیں تو اس کا نام فساد» ۔ جب مسلمان غیر مسلموں کے سامنے بے معنی مطالبات لے کر کھڑے ہوتے ہیں، مثلاً یہ کہ ہماری نماز کے وقت اپنی گھنٹیاں نہ بجاؤ یا جلوس نہ نکالو، تو کوئی سنجیدہ شخص انہیں روکنے نہیں اٹھتا، لیکن جب تباہی پھیل جاتی ہے تو سارے لیڈر اسٹیج پر نمودار ہو جاتے ہیں ۔
بے نتیجہ تحریکیں
مولانا کا تجزیہ ہے کہ آزادی کے بعد مسلمانوں کی بیشتر جذباتی مہمات، مثلاً مسلم یونیورسٹی کا مسلم کردار، اردو تحریک، شاہ بانو کیس کا ہنگامہ اور بابری مسجد تحریک، مکمل طور پر بے نتیجہ اور منفی نتائج کی حامل ثابت ہوئیں ۔ مسلم یونیورسٹی کی تحریک نے اس کا تعلیمی معیار پست کیا، ریزرویشن کی مانگ نے خود محنت کرنے کا جذبہ چھین لیا، شاہ بانو ایجی ٹیشن اور بابری مسجد کے جلوسوں نے ہندو فرقہ پرست قوتوں کو از سر نو زندہ کیا اور انتہا پسندی کو اتنا بھڑکایا کہ بالآخر مسجد ڈھا دی گئی ۔ مولانا کہتے ہیں کہ «بابری مسجد کو مسٹر ہندو نے نہیں ڈھایا بلکہ مسٹر ایگو نے ڈھایا۔ اور مسٹر ہندو کو مسٹر ایگو بنانے والے خود مسلمانوں کے نااہل قائدین تھے» ۔
سیاسی سرگرمی اور دین کی سیاسی تعبیر پر تنقید
مولانا وحید الدین خاں نے اپنے رسالے میں دین کی اس تشریح کو چیلنج کیا جسے وہ ”دین کی سیاسی تعبیر“ قرار دیتے ہیں ۔
دین بمقابلہ ریاست
مولانا کے نزدیک اسلام میں دین کا لفظ اصولی طور پر خدا کی اس ہدایت کے لیے ہے جو انسان کے لیے محفوظ ہے، اس میں اصولی اعتبار سے سیاست کا مفہوم شامل نہیں ۔ اسٹیٹ یا ریاست ایک وقتی سماجی ہیئت ہے جس کے اجزاء (آبادی، رقبہ، حاکمیت، حکومت) ہوتے ہیں، جبکہ جمہوریت کے موجودہ دور میں حکومت شخصی اقتدار نہیں بلکہ محض ایک عارضی انتظامیہ (administration) ہے جو فری اور فیئر الیکشن کے ذریعے بدلتی رہتی ہے ۔ مولانا فرماتے ہیں کہ مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی بیسویں صدی کی سیاسی تحریکوں (اشتراکیت، قوم پرستی وغیرہ) سے متاثر ہوئے اور انہوں نے اسلام کو ایک سیاسی نظام اور عالمی حکومت کے روپ میں پیش کر دیا، جو کہ ایک واضح اجتہادی خطا تھی کیونکہ اسلام اصلاً ایک ربانی تحریک ہے ۔ اس تعبیر میں جماعتِ اسلامی نے دین کو ریاست کے مماثل بتایا، جس سے دین کی ایک خود ساختہ اور مبتدعانہ صورت سامنے آئی ۔
اقامتِ دین کا حقیقی مفہوم
مولانا کے مطابق قرآن کی سورہ شوریٰ کی آیت میں «اقیمو الدین» سے مراد شریعت کا مکمل سیاسی اور قانونی نظام دنیا پر نافذ کرنا ہرگز نہیں ہے ۔ اگر ہر قسم کے احکام کو اقامتِ دین مانا جائے تو چونکہ قرآن میں دین جزا اور سزا کے معنوں میں بھی آیا ہے، تو کیا بندوں پر قیامت کا قائم کرنا بھی لازم ہو جائے گا؟ مولانا کے نزدیک: «اقامت دین کا تعلق تمام تر فرد سے ہے»؛ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی انفرادی زندگی میں اللہ سے ڈرے، اس سے محبت کرے، اپنے روز و شب کے معاملات اور نیت کو آخرت پر قائم کرے اور خود دینی زندگی کا حامل بنے ۔ دوسری طرف ”غلبۂ دین“ ایک خارجی واقعہ ہے، جس کا تعلق سیاسی یا غیر سیاسی بالاتری سے ہے ۔ قرآن میں انبیاء کا مشترک فریضہ توحید اور ایمانیات تھا، اگر تفصیلی و ذیلی احکام پر مستقل اصرار کیا جائے تو امت میں تفریق و انتشار واقع ہوگا اور ایسی فضا بنے گی «جو دین کے لئے قاتل کی حیثیت رکھتی ہے» ۔
سیاسی تعبیر کا متشددانہ اور نزاعی انجام
مولانا دلیل دیتے ہیں کہ حکومت اور اقتدار ایک ایسی چیز ہے جس پر پہلے سے کوئی نہ کوئی گروہ قابض ہوتا ہے ۔ جب آپ یہ عقیدہ بنا لیں گے کہ اقامتِ دین کا مطلب حکومت قائم کرنا ہے، تو قائم شدہ حکومت سے ٹکرانا اور اس سے اقتدار چھیننا ناگزیر ہو جائے گا ۔ یہی وجہ ہے کہ مولانا کے نزدیک: «دین کی سیاسی تعبیر اپنے نتیجے کے اعتبار سے ایک نزاعی تعبیر ہے» (Political interpretation of Islam in terms of result is confrontational interpretation of Islam) اور اس میں تشدد اور تصادم ایک لازمی جز بن کر داخل ہو جاتا ہے ۔ اس سیاسی سوچ کا انجام دنیا میں سوائے اس کے کچھ نہیں نکلا کہ «ایک "مسٹر شاطر" کی جگہ دوسرے مسٹر شاطر اقتدار کی کرسی پر قبضہ کر لیتے ہیں» اور دین کے نام پر نکلنے والے صرف محرومی کا شکار رہتے ہیں ۔
اس کی مثال دیتے ہوئے مولانا نے پاکستان میں جماعت اسلامی کے سیاسی تجربات پر روشنی ڈالی کہ پہلے ایوب خان کے خلاف ہنگامہ آرائی کی گئی، ان کے ہٹنے کے بعد ذوالفقار علی بھٹو آئے تو انہیں ایوب خان سے بھی برا قرار دے کر مہم چلائی گئی، پھر جنرل ضیاء الحق کا ساتھ دیا گیا اور بالآخر ان کا دور بھی پچھلوں سے برا قرار پایا ۔ اسلام میں سیاست اور حکومت کوئی اصل مقصود نہیں بلکہ ایک ثانوی ذمہ داری اور وقتی عطیۂ خداوندی ہے جو مشورے اور سماجی حالات کے تابع ہے ۔
انتخابی سیاست کا نادان طریقہ کار
ہندوستان میں مسلمانوں کی انتخابی حکمت عملی پر گرفت کرتے ہوئے مولانا نے لکھا کہ مسلم رہنماؤں نے ”مہاذاتی سیاست“ اور ”منفی ووٹنگ“ (ہراؤ سیاست) کا نعرہ لگایا ۔ مسلم ووٹر جذباتی بن کر کسی پارٹی کو ہرانے کے لیے ووٹ دیتے ہیں مگر وزارتوں کے بٹوارے کے بعد اسٹیج پر شکوے کرتے نظر آتے ہیں کہ ہمارے مطالبات پورے نہیں ہوئے ۔ مفروضہ فسطائی یا اینٹی مسلم پارٹیوں کو ہرانے کی یہ پالیسی اتنی ناکام ثابت ہوئی کہ وہ جماعتیں مرکز اور ریاستوں میں مضبوط ہو کر حکومتوں میں آ گئیں ۔ سیاست کوئی عقیدہ نہیں بلکہ عملی افادیت کا میدان ہے؛ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ کسی پارٹی کو پرو مسلم یا اینٹی مسلم کا لیبل نہ لگائیں بلکہ قومی جذبے کے ساتھ ملک کے مفاد کو دیکھ کر فیصلہ کریں ۔ جیمز فری مین کلارک کے حوالے سے مولانا فرماتے ہیں کہ «سیاست دان اگلے الیکشن کے لیے سوچتا ہے۔ اور مدبر اگلی نسل کے لیے سوچتا ہے»؛ محض الیکشن جیتنے کے لیے عوام کے جذبات کو بھڑکانا قوم کو برباد کر دیتا ہے ۔
دعوتی سرگرمی: منہج، شرائط اور ترجیحات
مولانا وحید الدین خاں کی فکر کا مرکزی نکتہ اور زندگی بھر کا حاصل ”دعوت الی اللہ“ ہے ۔ ان کے نزدیک اسلام کی اصل حقیقت اور پیغمبرانہ مشن یہی ہے ۔
داعی اور مدعو کا رشتہ
مولانا کے مطابق امتِ مسلمہ کی حقیقی قرآنی حیثیت دنیا کے انسانوں کے اوپر «شہداء علی الناس» اور داعی کی ہے ۔ مسلمان اور دوسری قوموں کے درمیان رشتہ حریف، سیاسی رقیب یا دشمن کا نہیں بلکہ ”داعی اور مدعو“ کا رشتہ ہے ۔ نبوت کا سلسلہ ختم ہو چکا ہے، لہٰذا اب خاتم النبیین کے نیابتی فریضے کے طور پر امتِ مسلمہ ”مقامِ نبوت“ پر فائز ہے اور اس پیغام رسانی کو دنیا کے ہر فرد تک پہنچانا اس کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے جس کی بازپرس قیامت کے دن ہوگی ۔
دعوت کا دائرہ صرف مسلمانوں کی باہمی اصلاح نہیں ہے۔ مولانا فرماتے ہیں کہ «'اصلاحِ مسلم' کے کام کو تبلیغ و دعوت کا عنوان دینا بھی اس مسئلے کا کوئی حل نہیں... دعوت الی اللہ کا مطلب ہے — غیر مسلموں تک خدا کے پیغام کو پہنچانا» ۔
داعی کے اوصاف: ناصح اور امین
قرآنِ مجید کی اصطلاح کے مطابق ایک داعی کو ہر حال میں دو صفات کا حامل ہونا چاہیے: ”ناصح“ (خیر خواہ) اور ”امین“ (دیانت دار) ۔
- **ناصح ہونا:** داعی کا دل اپنے مخاطب اور مدعو کے لیے غیر مشروط، یک طرفہ محبت اور خیر خواہی سے لبریز ہو ۔ اس کے اندر اتنی اعلیٰ انسانی صفت ہو کہ وہ «نفرت کے باوجود محبت کر سکے» ۔ اگر مدعو کی طرف سے زیادتی یا تکلیف بھی پہنچے، تب بھی داعی کے سینے میں شکایت کا ادنیٰ احساس پیدا نہ ہو ۔ ناصح ہونے کی ایک بڑی قرآنی دلیل یہ ہے کہ داعی اپنی قوم سے کسی اجر، مالی مفاد یا شکریہ کا طلب گار نہ ہو تاکہ اس کی خیر خواہی بے داغ رہے ۔
- **امین ہونا:** داعی خدا کے پیغام کو جوں کا توں پیش کرے، اس میں معاشی شکایات، سیاسی جھگڑے، یا قومی مطالبات کی آمیزش نہ کرے ۔ جہاں سیاسی اور قومی شکایات شامل ہوئیں، وہاں دعوتی کلام بگڑ کر محض ایک قومی تحریک بن جاتا ہے ۔
جدید دور، سائنسی اسلوب اور زبان
دورِ حاضر میں مواصلات کے ذرائع سے دنیا سکڑ چکی ہے، اس لیے مولانا موجودہ زمانے کو ”مدعو کا دور“ قرار دیتے ہیں جہاں مدعو خود چل کر داعی کے پاس آ رہا ہے ۔ ایسے میں داعی کا فرض ہے کہ وہ مدعو کی ذہنی ساخت اور اس کے سائنسی اسلوب کو سمجھے ۔ روایتی اسلوب کے بجائے آج کا انسان عقلی اور سائنسی استدلال کو سمجھتا ہے، جس کے لیے جدید افکار کا بے تعصبانہ مطالعہ ناگزیر ہے ۔ نیز داعی پر لازم ہے کہ وہ دعا کو دعوت کا جزوِ لاینفک بنائے؛ وہ اپنے لیے بھی توفیق کی دعا کرے اور مدعو کے لیے بھی تالیفِ قلب اور ہدایت کی التجا کرتا رہے ۔
مولانا نے اپنی ترجیحات میں یہ واضح کیا کہ موجودہ دور میں قرآن کا درست انگریزی ترجمہ اور اس کی عالمی اشاعت اسلام کی عظیم ترین خدمت اور کارِ نبوت ہے ۔
ردِ عمل اور شکایت بمقابلہ صبر اور اعراض
مولانا وحید الدین خاں نے الرسالہ کے صفحات پر مسلمانوں کی نفسیاتی بیماریوں، بالخصوص منفی ردِ عمل اور مظلومیت کی نفسیات کا مفصل علاج پیش کیا ہے۔
ردِ عمل اور مظلومیت کا روگ
مولانا کے مطابق جب اٹھارویں صدی میں مغربی قوموں نے عسکری و سیاسی غلبہ حاصل کیا، تو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں مسلمانوں کے لیے یہ ”داخلی احتساب“ (introspection) کا لمحہ تھا ۔ مگر مسلم قائدین اور علماء نے ردِ عمل کا شکار ہو کر جدید تہذیب اور مغربی دنیا کو اسلام دشمن قرار دے دیا اور امت کو نفرت، شکایت اور تصادم کی راہ پر ڈال دیا ۔ اس کا انجام یہ ہوا کہ مغربی قومیں، جو دراصل دعوتی نقطۂ نظر سے ”مدعو“ تھیں، انہیں دشمن کا درجہ دے دیا گیا ۔
مولانا لکھتے ہیں کہ منفی سوچ دراصل «نفسیاتی ہلاکت کا دوسرا نام ہے» اور «نفرت منفعل دہشت گردی (passive terrorism) ہے، اور دہشت گردی عملی نفرت (terrorism in action) کا نام ہے» ۔ اکثر لیڈر ذاتی نفرت یا اشتعال کے زیر اثر کام کرتے ہیں مگر دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ مثبت کام کر رہے ہیں ۔ ایسی منفی تفکیر ہمیشہ سازشوں اور مظلومیت کا واویلا کرتی ہے، جبکہ قرآن کی رو سے اصل مسئلہ سازش نہیں بلکہ صبر اور تقویٰ کی کمی ہے؛ اگر صبر اور تقویٰ ہو تو کسی کی سازش کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی ۔
صبر، اعراض اور پرامن تدبیر
اس کے متبادل کے طور پر مولانا نے قرآنی تعلیمات سے ”صبر“، ”اعراض“ اور ”ہجرِ جمیل“ کے اصول کو پیش کیا ۔ صبر محض ایک بے بسی کا فعل نہیں بلکہ یہ منفی ردِ عمل سے خود کو بچانے، ذہنی انضباط قائم رکھنے اور دانشمندانہ پرامن منصوبہ بندی (peaceful planning) کا نام ہے ۔ جب آدمی کو غصہ آئے اور وہ خاموش ہو جائے تو اس کی اخراج شدہ توانائی مثبت رخ اختیار کر لیتی ہے ۔
مولانا کا ایک بنیادی فارمولا یہ تھا: «مسائل کو نظر انداز کرو، اور مواقع کو استعمال کرو» (Ignore the problems, avail the opportunities) ۔ اگر ٹکراؤ کے حالات پیش آئیں تو یک طرفہ صبر اور اعراض کے ذریعے اشتعال کو بجھا دیا جائے تاکہ فریقین کے مابین تعلقات بحال رہیں اور اصلاح و دعوت کے ممکنہ مواقع ہاتھ سے نہ نکلیں ۔ دشمنی کے مقابلے میں دشمنی کرنا اسے بڑھاتا ہے، جبکہ اچھائی اور حسنِ سلوک دشمنی کو ختم کر دیتا ہے ۔
پیغمبرانہ نمونہ اور تاریخی مثالیں
مولانا نے اپنے افکار کی تائید میں سیرتِ نبویؐ اور تاریخ سے ٹھوس دلائل پیش کیے۔
مکی دور اور مدنی دور کی حقیقت
عام طور پر یہ مانا جاتا ہے کہ مکی دور منسوخ ہو چکا ہے اور اب صرف مدنی دور ہی قابل عمل ہے۔ مولانا اس نظریے کی تردید کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ مکی اور مدنی تقسیم مقامِ کار کے اعتبار سے ہے، نہ کہ نوعیتِ کار کے اعتبار سے، کیونکہ حضورؐ کی پوری زندگی کا اصل کام فقط دعوتِ حق تھا ۔ مکی دور متواضع اور غیر اقتدار والی حالت کا معیاری نمونہ ہے اور مدنی دور با اقتدار حالت کا نمونہ ہے؛ یہ دونوں حالتیں یکساں طور پر مطلوب ہیں اور دونوں میں کوئی کمتر یا برتر نہیں ۔ مکی دور کا صبر اور اعراض کا حکم دائمی ہے؛ جب بھی مکہ جیسے حالات پیش آئیں گے تو صبر کا حکم اسی طرح واجب ہو جائے گا ۔
مولانا بتاتے ہیں کہ نبوت کی زندگی تدریجی تھی: ابتدائی دورِ اسرار (خفیہ تبلیغ)، دورِ اعلان (کھلم کھلا دعوت)، ہجرت کے بعد دورِ مصالحت (صحیفہ مدینہ جس میں مسلمانوں اور یہودیوں کا مشترک نظام تھا: «لليهود دينهم وللمسلمين دينهم»)، اور فتح مکہ کے بعد دورِ اقتدار ۔ انسان اسی حکم کا مکلف ہوتا ہے جس کے مطابق اس کے حالات ہوں ۔ حضورؐ کی پالیسی کی بابت حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ آپؐ کو جب دو چیزوں کے درمیان انتخاب کا موقع ملتا تو آپ ہمیشہ آسان راستے کو ترجیح دیتے ۔ ۸۰ غزوات میں سے آپؐ نے اعراض اور حسنِ تدبیر کے ذریعے عملی تصادم کو ٹال دیا اور صرف تین مواقع (بدر، احد، حنین) پر مجبوراً قتال کا سامنا کرنا پڑا ۔
صلحِ حدیبیہ کی حکمت
مولانا کے نزدیک صلحِ حدیبیہ تاریخِ اسلام کا وہ درخشندہ واقعہ ہے جس نے ہمیشہ کے لیے اسلامی پیش رفت کا رخ طے کر دیا ۔ ۶ ہجری میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کی یک طرفہ کڑی شرائط کو تسلیم کر کے دس سال کا نایجنگ معاہدہ کر لیا ۔ بظاہر یہ پسپائی معلوم ہوتی تھی، مگر درحقیقت یہ ایک «بائی ٹائم اسٹریٹیجی» (buy time strategy) تھی جس نے تصادم کو یک طرفہ طور پر ختم کر کے دعوت کے بے پناہ مواقع کھول دیے ۔
یہی وجہ ہے کہ قرآن نے جنگوں کے بجائے صلحِ حدیبیہ کو «فَتْحًا مُّبِينًا» (کھلی فتح) قرار دیا ۔ مولانا نے وضاحت کی کہ مکہ میں کعبہ کے اندر ۳۶۰ بت موجود تھے، مگر آپؐ نے بتوں کے مسئلے پر قریش سے کوئی ٹکراؤ مول نہیں لیا بلکہ اس مسئلے کو عملاً نظر انداز کرتے ہوئے توحید کا پرامن پیغام سناتے رہے ۔ صلح حدیبیہ کا بنیادی سبق یہ ہے کہ تنازع اور ٹکراؤ کے بجائے صلح کا پرامن ماحول بناؤ، اسلام کی اشاعت خود بخود ہونے لگے گی ۔
ہندوستانی مسلمانوں کے لیے رہنمائی
ہندوستان کے معروضی حالات میں مولانا وحید الدین خاں نے مسلمانوں کو بارہا متنبہ کیا کہ وہ تقسیمِ ہند کے بعد پیدا شدہ تلخیوں اور مطالبات کی سیاست سے باہر نکلیں۔
غیر سیاسی سلطنت اور موجودہ مواقع
مولانا نے توجہ دلائی کہ آزادی کے بعد سیکولر اور جمہوری ہندوستان میں مسلمانوں کو ایک وسیع ”غیر سیاسی ایمپائر“ قائم کرنے کے آزادانہ مواقع حاصل ہیں ۔ ملک کے کونے کونے میں بلند و بالا مساجد، عظیم دینی مدارس، پریس، کانفرنسیں اور جدید سہولیات (ٹیلیفون، کمپیوٹر، فیکس وغیرہ) اس بات کا ثبوت ہیں کہ مسلمانوں کو اپنی باطنی اور تعلیمی تعمیر کے وہ مواقع حاصل ہیں جو ماضی کے بادشاہوں کو بھی میسر نہ تھے ۔ قانون کی تبدیلی سے سماج نہیں بدلتا بلکہ افراد کی ذہن سازی سے بدلتا ہے ۔ مسلمانوں کا اصل کام یہ ہے کہ وہ شکوے چھوڑ کر جدید تعلیم، سائنس، صنعت و تجارت میں آگے بڑھیں اور سیاسی اقتدار کے باہر کھلے ہوئے مواقع سے فائدہ اٹھائیں ۔
ردِ عمل اور خوف کی نفسیات کا علاج
ہندوستان میں فسادات کے اسباب کا جائزہ لیتے ہوئے مولانا نے بتایا کہ دونوں فریق (ہندو اور مسلمان) نفسیاتِ خوف (fear psychosis) میں مبتلا ہیں ۔ ہندوؤں کے اندر یہ بے بنیاد خوف بٹھایا گیا کہ مسلمان چار شادیاں کر کے اپنی آبادی بڑھا لیں گے اور غالب آ جائیں گے، جبکہ مسلمانوں کے اندر یہ مفروضہ پھیلا دیا گیا کہ ہندو انہیں اسپین کی طرح ختم کرنا چاہتے ہیں ۔ اخبارات کے سطحی پروپیگنڈے نے دونوں طرف کے ذہنوں کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے ۔
مولانا کے مطابق فرقہ وارانہ فسادات کا واحد علاج ”اعراض“ (نظر انداز کرنا) ہے؛ اگر مسلمان چھیڑ چھاڑ پر مشتعل نہ ہوں اور منفی ردِ عمل ترک کر دیں تو فسادات کا سلسلہ ختم ہو جائے گا ۔ اگر ہندوستان کی مسلم اقلیت کا موازنہ پاکستان کی ہندو اقلیت سے کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ہندوستانی مسلمانوں کو بدرجہا زیادہ حقوق، ترقی اور مذہبی آزادی حاصل ہے ۔ اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ شاہ بانو کیس اور بابری مسجد جیسے تنازعات پر کی گئی ماضی کی احتجاجی غلطیوں کا اعتراف کریں اور ٹکراؤ کے راستے کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ دیں ۔
افکار کا ارتقاء اور تسلسل (۱۹۷۶ء تا ۲۰۲۵ء)
الرسالہ کے مطالعے سے واضح ہوتا ہے کہ مولانا کے افکار میں چار دہائیوں سے زائد عرصے میں کوئی تضاد نہیں آیا بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ ان کے بنیادی خیالات مزید گہرے، صیقل اور واضح ہوتے چلے گئے۔
- **۱۹۷۰ء کی دہائی:** ابتدا ہی سے مولانا نے دین کی سیاسی تعبیر کے مقابلے میں اقامتِ دین کی روحانی و انفرادی تفہیم پیش کی، ۱۹۷۷ء کے انتخابات کے تناظر میں مسلم لیڈروں کی موقع پرستی کا پردہ چاک کیا اور مطالبات کی سیاست کو کھوکھلا ثابت کیا ۔
- **۱۹۸۰ء کی دہائی:** اس دہائی میں بابری مسجد تنازع کے ابھرنے، شاہ بانو کیس کے شور اور جماعت اسلامی کے سیاسی نظریات کے تضادات پر کھل کر لکھا، اور صلحِ حدیبیہ اور مکی دور کے صبر کو بطور ابدی سنت کے اجاگر کیا ۔
- **۱۹۹۰ء کی دہائی:** ۶ دسمبر ۱۹۹۲ء کے المیے کے بعد مولانا نے ثابت کیا کہ یہ المیہ دراصل مسلم قیادت کی انا، جذباتی ریلیوں اور غیر دانشمندانہ ایجی ٹیشن کا نتیجہ تھا ۔ اسی دور میں انہوں نے واضح کیا کہ مکی دور اور مدنی دور محض وقتی ترتیب نہیں بلکہ دونوں معیاری نمونے ہیں، اور جدید اسلوب میں قرآن کے انگریزی ترجمے اور پرامن دعوتی مشن کو اولین ترجیح بنایا ۔
- **۲۰۰۰ء کی دہائی اور بعد کے سال:** مولانا نے گلوبلائزیشن کے دور میں جدید تہذیب کو اسلام کا موید قرار دیا، دہشت گردی اور نفرت کے فکری محرکات کا رد کیا، اور اس پر اصرار کیا کہ مغربی اور دیگر قومیں دشمن نہیں بلکہ مدعو ہیں ۔ انہوں نے ”سیاسی ماڈل“ کے مقابلے میں ”روحانی ماڈل“ اور کراؤڈ جمع کرنے کے بجائے ”فرد کی ذہن سازی“ پر پورا زور صرف کیا ۔ اپنے آخری دور کے مضامین میں انہوں نے خلاصہ کیا کہ ان کی زندگی کا کل نچوڑ یہ ہے: «پرابلم کو اگنور کرنا، اور مواقع کو دریافت کرکے اس کو اویل کرنا» ۔
---
خلاصہ
الرسالہ کے وسیع ذخیرۂ مضامین سے یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ مولانا وحید الدین خاں کے نزدیک۔
۱. **ملی سرگرمی** حقوق اور مراعات کے خارجی مطالبات، شکوہ و شکایت اور وقتی ہنگاموں پر کھڑی ہے، جس نے مسلمانوں کو عمل اور خود اعتمادی سے محروم کر کے خسارے میں ڈالا ہے ۔
۲. **سیاسی سرگرمی** دین کی ایک غلط فکری تعبیر کا نتیجہ ہے، جس نے اقتدار کو مقصد بنا کر اسلام کے نام پر ٹکراؤ اور فساد کی راہیں کھولیں ۔
۳. نجات اور کامیابی کا واحد راستہ **دعوتی سرگرمی** ہے، جو انسانوں سے کسی مفاد کے بغیر سراپا خیر خواہی بن کر، منفی حالات میں یک طرفہ صبر و اعراض کا دامن تھامے ہوئے، توحید اور آخرت کا ابدی پیغام عقل اور سائنسی بصیرت کے ساتھ انسانیت تک پہنچانے کا نام ہے ۔