DRAFT written by AI from Al-Risala pages only (character building). Tap any [n] to see the printed page with the passage marked (98 of 103 marked automatically). ▶ reads the article aloud, sentence by sentence.
⬇ PDF⬇ Wordfor printing / publishing: numbered references, index and bibliography

تعمیرِ شخصیت: ماہنامہ الرسالہ کے افکار کا تحقیقی جائزہ

تعمیرِ شخصیت ماہنامہ «الرسالہ» (جس کا اجرا سنہ 1976ء میں مولانا وحید الدین خاں کی زیرِ سرپرستی ہوا) کے مرکزی ترین اور ہمہ گیر موضوعات میں سے ایک ہے ۔ الرسالہ کی فکر میں تعمیرِ شخصیت کا عمل دراصل تزکیۂ نفس، اعلیٰ اخلاقیات، صبر و اعتدال اور مثبت طرزِ فکر کے ذریعے انسان کے باطن کی تطہیر کا نام ہے ۔ الرسالہ کے مطابق انسان کی حقیقی قدر و قیمت اس کے مادی یا سیاسی اقتدار میں نہیں بلکہ اس کے بلند کردار اور بااصول اخلاق میں ہے، جو داخلی اور نفسیاتی سطح پر شعور کی بیداری سے وجود میں آتا ہے ۔ انسان کو اس دنیا کے اندر آزمائش کے تحت کامل آزادی عطا کی گئی ہے، اور اس آزادی کو سیلف ڈسپلن (خود اختیاری ڈسپلن) کے دائرے میں استعمال کرتے ہوئے اپنے اندر ربانی صفات پیدا کرنا ہی شخصیت کی تعمیر ہے ۔ الرسالہ کے تمام ادوار میں یہ نکتہ بار بار واضح کیا گیا ہے کہ ایک صالح سماج کی تخلیق، آخرت میں نجات اور جنت کا داخلہ صرف اسی مزکّیٰ اور مثبت شخصیت کے حامل انسان کے لیے ممکن ہے جو ہر قسم کی ردِ عمل کی نفسیات اور منفی ماحول سے بلند ہو کر زندگی گزارتا ہو ۔

معنی اور فکری تعریف: تزکیہ اور نفسیاتی ارتقا

الرسالہ میں تعمیرِ شخصیت کے مفہوم کو تزکیۂ نفس کے ساتھ لازم و ملزوم قرار دیا گیا ہے۔ الرسالہ کے مطابق: «تزکیہ نفس کو دوسرے لفظوں میں تعمیر شخصیت کہا جا سکتا ہے، یعنی روح انسانی کی تطہیر (purification of soul)» ۔ مزید یہ کہ «تزکیہ دراصل شخصیت کی دینی تعمیر کا دوسرا نام ہے» ۔ الرسالہ اس عام غلط فہمی کا ازالہ کرتا ہے کہ تزکیہ کا تعلق کسی پراسرار چیز، صوفیانہ ریاضتوں یا مروجہ مراقبہ (meditation) سے ہے؛ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ تزکیہ سے مراد تزکیۂ فکر یا تزکیۂ ذہن ہے ۔

نفسیاتی اصطلاح میں انسان کی اصل حقیقت اس کے ذہن یا مائنڈ سے عبارت ہے ۔ انسانی وجود کو بیان کرنے کے لیے جو دیگر الفاظ مثلًا روح، نفس اور فطرت بولے جاتے ہیں، وہ محض ادبی استعمالات (literary usage) ہیں؛ دوسری تمام چیزیں اسی اصل وجود کے مظاہر ہیں ۔ انسانی شخصیت اپنے اندر نمو پانے کی ایسی ہی صلاحیت رکھتی ہے جیسے درخت کا ایک بیج، جس سے اگر تمام موانع (obstacles) ہٹا دیے جائیں تو وہ خود بخود نشوونما پا کر ایک تناور اور پھل دار درخت بن جاتا ہے ۔

شخصیت کی تعمیر کے لیے آدمی کو «ڈی کنڈیشننگ» (deconditioning) اور اپنے ذہن کی «ری انجینئرنگ» پر راضی ہونا پڑتا ہے ۔ انسان سماجی اور ماحولیاتی اثرات، مفادات اور مصالح کے زیرِ اثر جن غلطیوں میں مبتلا ہوتا ہے، ان کو دور کرنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے اوپر ایک «بے رحمانہ اصلاح (merciless deconditioning)» کا عمل جاری کرے اور خود اپنا نگراں بنے ۔ اس باطنی عمل اور خود احتسابی کے نتیجے میں جو وجود ڈھلتا ہے، وہ «انسانِ اصلی (man cut to size)» کہلاتا ہے اور سچی معرفت تک پہنچتا ہے ۔ جب آدمی اپنی فکری اور نظریاتی غلطیوں کو ڈھونڈ کر نکالتا ہے تو وہ ایک مزکّی اور مطہّر شخصیت بن جاتا ہے ۔

قرآنی اور نبوی بنیادیں: نصوص کی روشنی میں کردار سازی

الرسالہ نے تعمیرِ شخصیت کے تصور کو پوری طرح قرآنِ مجید اور احادیثِ نبوی کے نصوص پر استوار کیا ہے۔

* **تزکیہ اور اخروی فلاح:** قرآن کی سورہ طٰہٰ میں ارشاد ہوا: «ذَلِكَ جَزَاءُ مَنْ تَزَكَّى» (20:76) یعنی جنت اس کے لیے ہے جو اپنا تزکیہ کرے ۔ اسی طرح سورہ اعلیٰ میں فرمایا گیا: «قَدْ أَفْلَحَ مَنْ تَزَكَّى» (87:14) ، اور سورہ الشمس میں انسانی کامیابی کی شرط نفس کی پاکیزگی کو قرار دیا گیا ۔ تزکیہ اور اخلاقی تیاری کے بغیر کوئی انسان جنت کا مستحق نہیں بن سکتا ۔

* **خُلقِ عظیم اور نبوی نمونہ:** قرآن نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے فرمایا: «وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ» (القلم: 4) ۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نہ صرف اخلاق پر تھے بلکہ آپ اعلیٰ اخلاق کے عملی نمونہ تھے، جنہوں نے عملاً بتایا کہ حقیقی معنوں میں بااصول زندگی کیسے گزاری جائے ۔

* **صبر اور تقویٰ بطور ڈھال:** قرآن نے مخالفین کے دباؤ اور سازشوں کے توڑ کے لیے صبر اور تقویٰ کو کلیدی شرط ٹھہرایا ہے: «وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئًا» (آل عمران: 120) ۔ سازش بارش کی طرح ہے اور صبر و تقویٰ پختہ چھت کی طرح ۔ مزید یہ کہ سورہ الشوریٰ میں ارشاد ہوا: «وَلَمَنْ صَبَرَ وَغَفَرَ إِنَّ ذَلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ» (42:43) یعنی صبر کرنا اور معاف کر دینا بڑی عزیمت کے کاموں میں سے ہے ۔ سورہ احقاف (35) میں اولوالعزم انبیاء کے صبر کا حوالہ دے کر استقامت اور عزم کی تعلیم دی گئی ہے ۔

* **نفس کی کیفیات:** قرآن میں انسانی شخصیت کے داخلی نشیب و فراز کو نفسِ امارہ، نفسِ لوامہ اور نفسِ مطمئنہ کے ذریعے بیان کیا گیا ہے ۔ انسان جب نفسِ لوامہ (ضمیر) کی مدد سے نفسِ امارہ (خواہشات) پر قابو پاتا ہے تو وہ «النفس المطمئنہ» بن جاتا ہے، جو حقیقت میں رب کے تخلیقی نقشے پر راضی ہونے والی بلند شخصیت ہے ۔

* **احادیثِ نبوی کی ہدایات:** الرسالہ نے متعدد نبوی ارشادات سے شخصیت کی تعمیر کے اصول اخذ کیے ہیں۔

1. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انسانوں کے جنت میں داخلے کا سب سے بڑا سبب «تقویٰ اور حسنِ اخلاق» ہیں (سنن ترمذی: 2004) ۔

2. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «سب سے اچھا انسان وہ ہے جو اخلاق میں سب سے اچھا ہو» ۔

3. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مومن کے مزاج کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اس کا سارا معاملہ ہی بھلائی پر مبنی ہے؛ اگر اسے خوشی یا بھلائی پہنچتی ہے تو وہ شکر کرتا ہے، اور اگر کوئی مصیبت یا تکلیف پہنچتی ہے تو وہ صبر کرتا ہے، یوں اسے ہر حال میں اجر ملتا ہے (صحیح مسلم: 2999، مسند احمد) ۔

4. شکر گزاری کی فضیلت بتاتے ہوئے فرمایا گیا: «مَنْ لَمْ يَشْكُرِ النَّاسَ لَمْ يَشْكُرِ الله» (مسند احمد، ترمذی) یعنی جو انسانوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ خدا کا شکر بھی ادا نہیں کر سکتا ۔

5. اولاد کے لیے بہترین تحفہ اچھے اخلاق و ادب کی تربیت ہے: «مَا وَرَثَ وَالِدٌ لِوَلَدٍ خَيْرًا مِنْ أَدَبٍ حَسَنٍ» (المعجم الاوسط للطبرانی: 3658) ۔

6. داعیانہ اخلاق کا بلند ترین معیار یہ حدیث ہے: «أَمَرَنِي رَبِّي أَنْ أَصِلَ مَنْ قَطَعَنِي، وَأُعْطِيَ مَنْ حَرَمَنِي، وَأَعْفُوَ عَمَّنْ ظَلَمَنِي» یعنی میرے رب نے مجھے حکم دیا ہے کہ جو مجھ سے کاٹے میں اس سے جڑوں، جو مجھے محروم کرے میں اسے دوں، اور جو مجھ پر ظلم کرے میں اسے معاف کروں ۔

7. فطرتِ انسانی کی اصل کے متعلق فرمایا کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، بعد میں ماحول (والدین) اس کے اندر تبدیلیاں پیدا کرتے ہیں (صحیح البخاری: 1385) ۔

8. سماجی اختلاط اور صبر کے حوالے سے فرمایا گیا کہ وہ مومن جو لوگوں سے میل جول رکھتا ہے اور ان کی اذیت پر صبر کرتا ہے، وہ اس شخص سے افضل ہے جو تنہائی اختیار کرتا ہے اور اذیتوں پر صبر نہیں کرتا ۔

مولانا وحید الدین خاں کی فکر میں تعمیرِ شخصیت کا مقام

مولانا وحید الدین خاں کے فکری نظام میں تعمیرِ شخصیت کے چند بنیادی ستون ہیں۔

یک طرفہ اخلاقیات بمقابلہ جوابی اخلاقیات

الرسالہ کے نزدیک اخلاق کی دو سطحیں ہیں: ایک معمولی اخلاق اور دوسرا اعلیٰ اخلاق ۔ معمولی اخلاق «جوابی اخلاق» یا دو طرفہ اخلاقیات (bilateral ethics) ہے، جس کا اصول یہ ہوتا ہے کہ «جو مجھ سے جیسا کرے گا میں بھی اس کے ساتھ ویسا ہی کروں گا» ۔ اس کے برعکس برتر اور حقیقی اسلامی اخلاق «یک طرفہ اخلاقیات» (unilateral ethics) ہے ۔ اعلیٰ اخلاق کا حامل انسان دوسروں کے طرزِ عمل کی پروا کیے بغیر اپنا اصولی رویہ متعین کرتا ہے؛ وہ برائی کے بدلے بھی بھلائی کرتا ہے اور کسی حال میں ردِ عمل کی نفسیات کا شکار نہیں ہوتا ۔ «ایسے آدمی کی شخصیت حالات کی پیداوار نہیں ہوتی بلکہ خود اپنے اعلیٰ اصولوں کی پیداوار ہوتی ہے» ۔

مثبت طرزِ فکر (Positive Thinking)

تعمیرِ شخصیت کی عمارت منفی طرزِ فکر پر کھڑی نہیں ہو سکتی ۔ انسان کے اندر کا مثبت فکری عمل ہی اس کو ایک ارتقا یافتہ وجود بناتا ہے ۔ الرسالہ کا واضح موقف ہے کہ «نفرت اور تشدد کا ماحول تزکیہ کے عمل کے لیے قاتل (killer) کی حیثیت رکھتا ہے۔ نفرت اور تشدد کے ماحول میں شخصیت کے تزکیہ کے عمل کا جاری ہونا ممکن نہیں» ۔ سچی روحانی اور باکردار شخصیت وہ ہے جسے معاشرے میں منفی تجربات ہوں لیکن وہ ان تلخ اور منفی تجربات کو اپنے لیے مثبت فکری اور روحانی غذا میں تبدیل کر لے ۔

باطنی ضمیر کی رہنمائی

فطرت نے ہر انسان کے باطن میں ایک عدالت قائم کر رکھی ہے جسے «ضمیر (conscience)» کہا جاتا ہے ۔ ضمیر انسان کے اندر ایک «خدائی معلم» اور «رہبرِ تزکیہ (tazkia guide)» کے طور پر خاموش زبان میں ہمیشہ حق اور باطل کا فیصلہ سناتا ہے ۔ جب بھی انسان کسی غلط کام کا ارادہ کرتا ہے، ضمیر اسے فورا متنبہ کرتا ہے ۔ ضمیر دراصل خدا کی حجت ہے اور اس کی آواز کو دبانا حقیقت میں خدا کی آواز کو نظر انداز کرنا ہے ۔ جب انسان اپنے ضمیر کے خلاف چلتا ہے تو وہ اپنی ہی نگاہ میں گر جاتا ہے، اور جو اپنے ضمیر کے سامنے گر جائے اس کا باطن تباہ ہو جاتا ہے ۔

صبر، تقویٰ اور شکر کا باہمی ربط

خدا کے تعلق سے انسان کے اندر عاجزی اور بندگی کی جو کیفیات ابھرتی ہیں، وہ «تقویٰ» اور «تضرع» ہیں، جبکہ اس کی نعمتوں کے احساس سے «شکر» اور «حمد» کے جذبات پیدا ہوتے ہیں ۔ تقویٰ کا تعلق دراصل ایک محتاط اور منظم زندگی گزارنے سے ہے ۔ دوسری طرف، انسانی معاملات میں ان کیفیات کا ظہور «حسنِ اخلاق» کی شکل اختیار کرتا ہے ۔ تقویٰ اور حسنِ اخلاق دونوں باہم پیوست ہیں، ایک کے بغیر دوسرے کا وجود ممکن نہیں ۔ اس سفر میں استقامت کا ذریعہ «صبر» ہے، کیونکہ امتحان کی اس دنیا میں شکایتوں، تلخیوں اور محرومیوں پر قابو پائے بغیر نہ شکر ادا ہو سکتا ہے اور نہ اخلاق پر قائم رہا جا سکتا ہے ۔

عملی رہنمائی اور کردار سازی کے ذرائع

الرسالہ نے محض نظری بحثوں پر اکتفا نہیں کیا بلکہ روزمرہ کی زندگی میں شخصیت کو پروان چڑھانے کے لیے ٹھوس عملی ہدایات فراہم کی ہیں۔

1. **صوم (روزہ) بطور تربیتی نظام:** رمضان کا مہینہ درحقیقت شخصیت کی باقاعدہ تربیت کا مہینہ ہے ۔ حدیث میں اسے «شہر الصبر» (صبر کا مہینہ) کہا گیا ہے ۔ صوم کے لغوی معنی «رکنے» کے ہیں ۔ جیسے قدیم زمانے میں گھوڑے کو مشقت جھیلنے کے لیے بھوکا پیاسا رکھ کر تربیت دی جاتی تھی، بالکل اسی طرح روزہ انسان کے اندر خواہشات اور نفس کے مقابلے میں رکنے اور ضبطِ نفس کی صلاحیت پیدا کرتا ہے ۔ تقویٰ اور صبر سال بھر مطلوب ہیں لیکن رمضان میں ان کی خصوصی مشق کرائی جاتی ہے تاکہ یہ انسان کے مزاج کا حصہ بن جائیں ۔

2. **سماجی اختلاط اور اذیتوں پر صبر:** الرسالہ گوشہ نشینی کے بجائے سماجی زندگی میں رہ کر کردار بنانے کی تلقین کرتا ہے ۔ لوگوں کے ساتھ میل جول (interaction) کے دوران جب اختلاف، ناپسندیدہ رویے اور اذیتیں پیش آتی ہیں تو ان پر صبر کرنا انسان کے ذہنی ارتقا اور «پرسنالٹی ڈیولپمنٹ» کا ذریعہ بنتا ہے ۔ اگر معاشرے میں اختلاف اور افکار کا ٹکراؤ نہ ہو تو سماج جامد پتھروں کا ڈھیر بن جائے اور انسانوں کی فکری ترقی رک جائے ۔

3. **رواداری اور تحمل:** ناخوشگوار صورتِ حال یا مخالفانہ بات پر مشتعل نہ ہونا اور منفی اثر نہ لینا ہی انسان کے ذہنی اعتدال کا ضامن ہے ۔ رواداری (tolerance) کوئی کمزوری یا مجبوری نہیں بلکہ زندگی کا ایک اعلیٰ، فعال اور مثبت اصول ہے جو انسان کی کارکردگی کی عمر کو بڑھاتا ہے ۔

4. **خود احتسابی (Introspection):** اپنی خامیوں کو نظر انداز کر کے دوسروں پر الزامات دھرنا خود فریبی ہے ۔ انسان کی یہ کمزوری ہے کہ وہ اپنے عیوب کی تاویل کرتا ہے اور دوسروں کی خوبیوں کو گھٹاتا ہے ۔ باکردار انسان وہ ہے جو اپنی فکری غلطیوں کو تلاش کرے اور غیر مشروط طور پر اپنی اصلاح کرے ۔

5. **سوشل ذمہ داری اور قابلِ پیشین گوئی کردار:** ایک بااخلاق اور متوازن فرد وہ ہے جو معاشرے میں «نو پرابلم انسان» بن کر رہے ۔ اس کی شخصیت ایسی ہونی چاہیے جس کا ردِ عمل سب کے لیے قابلِ فہم اور خیر پر مبنی ہو (predictable character) تاکہ سماجی زندگی میں ٹکراؤ کی نوبت نہ آئے ۔

6. **تدریجی ارتقا:** زندگی کا نظام تدریج (gradualism) کے اصول پر قائم ہے نہ کہ یکبارگی توازن پیدا کرنے پر ۔ شخصیت کی پختگی اور سماجی ترقی دونوں تدریج کے فطری راستے پر چل کر ہی حاصل کی جا سکتی ہیں ۔

عملی اور تاریخی مثالیں: قیادت کا بحران اور تاریخی اسباق

الرسالہ نے کردار اور تعمیرِ شخصیت کی بحث کو واضح کرنے کے لیے تاریخ، قیادت کے رویوں اور معاشی و سماجی احوال سے کئی زندہ مثالیں پیش کی ہیں۔

* **رہنماؤں کا اخلاقی افلاس:** الرسالہ کے مطابق جلسوں اور اسٹیجوں پر اخلاق کے بلند بانگ دعوے کرنا آسان ہے مگر عملی میدان میں ان کو برتنا دشوار ہے ۔ الرسالہ اس امر پر گہری تنقید کرتا ہے کہ: «ایک سونے والا دوسرے سونے والے کو کیوں کر جگا سکتا ہے»؛ جو رہنما خود اپنے مخالفین کے لیے سانپ بنے ہوئے ہوں اور عام حالات کے بگڑتے ہی فساد پر اتر آتے ہوں، وہ قوم کو اخلاق و انسانیت کا درس نہیں دے سکتے ۔ خود معمولی اخلاق پر رہ کر دوسروں کو غیر معمولی اخلاق کا وعظ کہنا قرآن کی رُو سے خدا کے غضب کو دعوت دینا ہے (آل عمران: 188) ۔

* **مسلم قیادت کی غلط سمت:** جدید تاریخ میں مسلمانوں کی زوال پذیری کا سبب بیرونی سازشیں نہیں بلکہ ان کے قائدین کا نااہلانہ طرزِ عمل رہا ہے ۔ لیڈروں نے عوام کو جذباتی، غیر متعلق نعروں اور حکومت سے ٹکراؤ کی سیاست میں الجھائے رکھا جس سے لیڈروں کو تو ذاتی شہرت مل گئی لیکن قوم عظمت سے محروم رہی ۔ مغل بادشاہ اورنگ زیب عالمگیر (1618–1707) کے بعد سے لے کر بیسویں صدی کے اختتام تک، برصغیر کے مسلمان تین سو سال اسی بے تدبیری کا شکار رہے ۔ مسلم قیادت کا کام یہ تھا کہ وہ مسلمانوں کے اندر خود احتسابی کا مزاج پیدا کرتے، انہیں سیاسی ٹکراؤ سے نکال کر جدید تعلیم، جدید سائنس، صنعت، تجارت اور پرامن داخلی تعمیر کے وسیع مواقع سے فائدہ اٹھانے کی ترغیب دیتے ۔

* **داعی اور تاجر کا کردار:** ایک تاجر اور دادا گیری کرنے والے کے اخلاق میں بنیادی فرق ہوتا ہے ۔ اسی طرح جو شخص اللہ کے دین کا داعی بنے، اس کا کردار بھی داعیانہ ہونا لازمی ہے ۔ اگر داعی کا رویہ غیر دعوتی ہو اور وہ مدعو سے غیر ضروری نزاعات میں الجھ جائے تو وہ عوام کی نظر میں ایک مسخرہ بن کر رہ جائے گا ۔ داعی کا اصل کمال یہ ہے کہ مدعو کی گالیوں، بے رخی اور مخالفت کے باوجود وہ یک طرفہ صبر اور دعائیہ رویہ اختیار کرے ۔

* **عورت کا فطری و تعمیری کردار:** سماج میں ایک باشعور عورت اپنا حقیقی تعمیری کردار تبھی ادا کر سکتی ہے جب وہ اپنے جذبات کے ساتھ دوسروں کے احساسات کو سمجھے اور صبر و برداشت کی قربانی دے کر اپنے خالق کے تفویض کردہ انسانی کردار کو نبھائے ۔

* **معاشی و قانونی توازن:** کردار کی تعمیر صرف نجی معاملات تک محدود نہیں بلکہ اس کا تعلق معاشی دیانت داری سے بھی ہے ۔ اسلام نے انتہاؤں کے درمیان توازن قائم کیا اور پروفیسر میسی نَن کے بقول کردار کی تعمیر پر زور دیا جو تہذیب کی جڑ ہے ۔ اس کے لیے شریعت نے سود، اجارہ داری، ذخیرہ اندوزی، مصنوعی قلت اور بغیر کمائی ہوئی آمدنیوں جیسے سماج دشمن طریقوں پر پابندی لگائی تاکہ معاشی دائرے میں خود غرضی کا خاتمہ ہو اور کردار کی طہارت قائم ہو ۔ اسی طرح معاشی زندگی میں بلاوجہ روزگار بدلنے کے بجائے استقامت اور شکر گزاری کی روش اختیار کرنا ضروری ہے ۔

موضوع کا ارتقا: الرسالہ کے صفحات میں (1976ء سے بعد کے سالوں تک)

الرسالہ کے اواخرِ ستر کی دہائی سے لے کر بعد کے تمام ادوار کے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ تعمیرِ شخصیت کا تصور مجلے کی بنیادی ترجیحات میں ہمیشہ اولیت کا حامل رہا ہے اور وقت کے ساتھ اس کے فکری دائرے میں وسعت اور اصطلاحی نکھار آتا گیا۔

* **ابتدائی دور (1970ء اور 1980ء کی دہائیاں):**

1979ء کے اوائل میں الرسالہ نے روایتی جلسوں، سجے ہوئے پنڈالوں کی تقریروں اور مسلم رہنماؤں کے دوہرے اخلاقی رویوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے بااصول اور غیر معمولی اخلاقیات کی بنیادی ضرورت پر زور دیا ۔ 1981ء اور 1982ء میں «داعیانہ اخلاق»، برتر اخلاق بمقابلہ جوابی اخلاق، اور تہذیب کی بنیاد کے طور پر معاشی و سماجی کردار سازی کی ضرورت کو واضح کیا گیا ۔ 1983ء سے 1989ء کے دوران صوم کے تربیتی کردار، صبر، استقامت، گھوڑے کی ریاضت کی تمثیل، اور عجز و انکسار کے ذریعے تضرع اور شکر پیدا کرنے پر تفصیلی مضامین شائع ہوئے ۔

* **درمیانی دور (1990ء کی دہائی):**

نوے کی دہائی میں تعمیرِ شخصیت کا فریم ورک مزید نکھر کر سامنے آیا۔ 1991ء میں حسنِ خلق کو خدا کی ہمہ وقت نگرانی کے احساس کا نام دیا گیا اور تدریج کے اصول کو زندگی کی تعمیر کی کلید ٹھہرایا گیا ۔ 1992ء میں «خود احتسابی» کے ذریعے انسانِ اصلی (man cut to size) بننے کی فلسفیانہ تشریح کی گئی اور انسانی شکر گزاری کو خدا ترسی کی لازمی علامت قرار دیا گیا ۔ اسی سال شائع ہونے والے کتب مراکز کے اعلانات میں «زندگی کی تعمیر اور اصلاحِ انسانیت سے تعلق رکھنے والی بلند پایہ کتابیں» کے عنوان کے تحت اس موضوع کے لٹریچر کی وسیع تر فراہمی کا ذکر ملتا ہے ۔ 1995ء اور 1996ء میں رواداری (tolerance)، بااصول کردار، اور عبادت و انسانی خدمت کے اٹوٹ رشتے پر مضامین آئے ۔ اپریل 1998ء میں الرسالہ نے خصوصی طور پر «اسلامی اخلاق» کے عنوان کے تحت انسانی ہمدردی، عفو، تواضع، زبان کی حفاظت، اور ضمیر کی عدالت پر ایک ہمہ گیر فکری مہم چلائی ۔

* **اکیسویں صدی کا دور (2000ء سے 2010ء کی دہائی):**

سنہ 2000ء کے بعد الرسالہ میں جدید اصطلاحات مثلاً «ڈی کنڈیشننگ» (deconditioning)، «سیلف تھنکنگ» (نطشے کے حوالے سے)، «انٹیگریٹڈ پرسنالٹی» (integrated personality)، اور «کمپلیکس فری سول» (complex-free soul) کا کثرت سے استعمال شروع ہوا ۔ 2002ء سے 2004ء کے عرصے میں قرآنی آیات کی روشنی میں ثابت کیا گیا کہ مسلمانوں کا اصل مسئلہ بیرونی سازشیں نہیں بلکہ صبر اور تقویٰ کا فقدان ہے ۔ تزکیہ کو صوفیانہ مشقوں کے بجائے خالص «تزکیۂ فکر» اور «نفسیاتی تطہیر» کے طور پر متعارف کرایا گیا ۔ 2005ء اور 2006ء میں دو طرفہ اخلاقیات کے مقابلے میں «یک طرفہ اخلاقیات» (unilateral ethics) پر تفصیلی بحثیں ہوئیں ۔ 2008ء اور 2010ء میں «النفس المطمئنہ» کی تعمیر کے لیے داخلی بے رحمانہ محاسبے کو ناگزیر قرار دیا گیا ۔

* **آخری اور بعد کے سال (2011ء سے 2026ء تک):**

2011ء تا 2016ء کے شماروں میں تعمیرِ شخصیت کے تصور کو ایک جامع قرآنی اور عقلی سانچے میں پیش کیا گیا، جس میں ثابت کیا گیا کہ روح دراصل انسانی ذہن کا نام ہے اور تزکیہ انسانی صلاحیتوں کی تکمیل کا عمل ہے جیسے خام لوہا تپ کر کارآمد مشین بنتا ہے ۔ اسی عرصے کے اشاریوں اور کتابوں کی فہرستوں میں «تعمیرِ حیات»، «تعمیرِ انسانیت»، «تعمیرِ ملت»، «تزکیۂ نفس»، «قرآن کا مطلوب انسان»، اور «رازِ حیات» جیسی تصانیف کی مسلسل اشاعت اس فکری تسلسل کو نمایاں کرتی ہے ۔ 2017ء تا 2026ء کے مضامین میں سماجی اختلاط کے ذریعے ذہنی ارتقا، خود اختیار کردہ اخلاقیات (self-imposed ethics)، مثبت طرزِ فکر کے ذریعے فرشتوں کی معیت، اور «نو پرابلم انسان» بن کر جینے کی عملی ہدایات اپنے کمال کو پہنچیں ۔ مئی 2023ء اور مئی 2024ء کے شماروں کی فہرستوں اور مرکزی مضامین میں «شخصیت کی تعمیر»، «زندگی کی تعمیر»، «سیلف ڈسپلن»، اور «مثبت سوچ» کو خصوصی عناوین کے طور پر مستقل جگہ دی گئی ۔

یوں الرسالہ کے نصف صدی پر محیط لٹریچر میں تعمیرِ شخصیت کا تصور ایک مستقل، غیر متزلزل اور مرکزی قدر کے طور پر جلوہ گر رہا ہے، جس کا واحد مقصد انسان کو دنیا کے منفی حالات میں بھی بااصول، صابر، شاکر اور اعلیٰ ربانی کردار کا نمونہ بنانا ہے ۔

حوالہ جات

scan

Open the whole page ›