شکر: ماہنامہ الرسالہ کے افکار و تحریرات کی روشنی میں
ماہنامہ «الرسالہ» کے فکری ذخیرے میں «شکر» کا تصور محض زبانی کلمات کی ادائیگی کا نام نہیں بلکہ یہ پورے دین کی روح، عبودیت کی اصل اور انسانی شخصیت کی گہری داخلی کیفیت کی حیثیت رکھتا ہے ۔ الرسالہ کی تحریروں کے مطابق اسلام کا سنٹرل تھیم (central theme) اور سپر فارمولا شکر اور حمد ہی ہے، جس کا آغاز قرآن کی پہلی آیت «الحمد للہ رب العالمین» سے ہوتا ہے اور یہی کیفیت دنیا سے لے کر آخرت تک مومن سے مطلوب ہے ۔ انسان جب اس کائنات میں اپنے وجود، لائف سپورٹ سسٹم اور پروردگار کی بے شمار نعمتوں کو شعوری سطح پر دریافت کرتا ہے، تو اس کے نتیجے میں اس کے اندر خالق کے منعم و محسن ہونے کا گہرا اعتراف جنم لیتا ہے، جسے شرعی اور دینی اصطلاح میں شکر کہا گیا ہے ۔ انسان کے لیے سب سے بڑی عبادت یہی ہے کہ وہ اپنے دل، دماغ اور عمل کے ساتھ اپنے رب کا شکر گزار بندہ بن کر رہے اور ناشکری و لا حمد للہ کی منافقانہ نفسیات سے بچ کر ہر حال میں مثبت رویہ برقرار رکھے ۔
شکر کی حقیقت، لغوی و اصطلاحی تعریف اور ماہیت
الرسالہ میں شکر کی حقیقت واضح کرتے ہوئے اہل لغت اور مفسرین کے حوالے پیش کیے گئے ہیں ۔ عربی لغت کی مستند کتاب «لسان العرب» کے مطابق «الشكر: عرفان الإحسان ونشره» یعنی احسان کی معرفت اور اس کے تذکرے کا نام شکر ہے ۔ علامہ راغب اصفہانی کی «المفردات فی غریب القرآن» کے مطابق شکر کا مفہوم «تصور النعمة وإظهارها» یعنی نعمت کے بارے میں سوچنا اور اس کا اظہار کرنا ہے ۔ اسی طرح مفسر قرطبی نے لکھا ہے کہ «الشکر: معرفة الإحسان والتحدث به» یعنی شکر نام ہے احسان شناسی اور اس کے اعتراف و چرچا کرنے کا ۔ انگریزی میں اس قلبی کیفیت کو گریٹ فل نیس (gratefulness) کہا جاتا ہے ۔
انسانی اخلاق میں جس صفت کو اعتراف (acknowledgement) کہا جاتا ہے، خدا کی نسبت سے وہی صفت شکر کہلاتی ہے ۔ مفسر ابوالبرکات النسفی کی تشریح کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ «الإيمان: معرفة المنعم، والشكر: الاعتراف بالنعمة» یعنی ایمان دراصل منعم کی معرفت کا نام ہے اور شکر نعمت کے اعتراف کا نام ہے ۔ انسان اور خدا کے درمیان تعلق کی بنیاد یہی ہے کہ بندہ مخلوق کے مشاہدے سے خالق کا تعارف حاصل کرے اور اس کے دیے ہوئے انعامات پر دل سے اس کا معترف ہو جائے ۔
الرسالہ میں شکر کو محض خارجی یا لفظی تکرار سے بلند کر کے ایک داخلی کیفیت قرار دیا گیا ہے ۔ انسان اگر صرف اپنی ذات تک محدود فائدے پر شکر ادا کرے تو یہ شکر کی بہت ناقص صورت ہے کیونکہ کائنات میں رب کا احسان لامحدود ہے، اس لیے محدود احسان کے تصور سے محدود شکر پیدا ہوتا ہے جبکہ لامحدود احسان کے ادراک سے لامحدود شکر کا سمندر سینے میں موجزن ہو جاتا ہے ۔ نیز شکر کا تعلق احساسِ لذت (sense of enjoyment) سے ہے؛ کائنات میں انسان ہی وہ مخلوق ہے جو لذت کو محسوس کرتی ہے اور موجودہ دنیا میں انسان کو اسی لیے رکھا گیا ہے کہ وہ ان لذتوں کے ذریعے منعم حقیقی کا اعتراف کر کے ابدی جنت کا استحقاق حاصل کرے ۔ اس کے برعکس جو شخص صرف جانوروں کی طرح کھا پی کر رہ جائے وہ حیوانی درجے کی سطح پر جیتا ہے، جبکہ انسان سے «انسانی درجے کا شکر» مطلوب ہے جو انتہائی شعوری ہوتا ہے ۔
قرآن و حدیث کی روشنی میں شکر کا مقام
الرسالہ کی نصوص میں قرآنی آیات اور احادیث نبوی کی کثیر اسناد و تشریحات کے ذریعے شکر کی اہمیت واضح کی گئی ہے۔
* **قرآنی آیات کی تعبیر:** قرآن مجید کا آغاز «الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» سے ہوتا ہے جو کہ کلمہ شکر ہے اور یہ واضح کرتا ہے کہ تمام تعریفیں اور شکر گزاری صرف اسی خدا کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے ۔ سورہ النحل میں حکم دیا گیا: «وَاشْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ» یعنی اللہ کی نعمت کا شکر ادا کرو اگر تم اسی کی بندگی کرنے والے ہو ۔ سورہ البقرہ میں روزے کا مقصد بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ تاکہ تم گنتی پوری کرو اور اللہ کی بڑائی بیان کرو اور شکر گزار بنو ۔ سورہ ابراہیم میں نعمتوں کی وسعت بتائی گئی کہ اگر اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو شمار نہیں کر سکتے («وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَتَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا») ۔ سورہ التکاثر میں جواب دہی کی تنبیہ ہے: «ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ» یعنی اس دن تم سے نعمتوں کے بارے میں ضرور بازپرس ہوگی ۔ سورہ الاعراف میں شیطان کے اس دعوے کا ذکر ہے کہ «وَلَا تَجِدُ أَكْثَرَهُمْ شَاكِرِينَ» یعنی تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہیں پائے گا ۔ سورہ الفاطر اور سورہ یونس میں اہل جنت کے کلمات نقل ہوئے ہیں کہ وہ کہیں گے: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ» اور ان کا آخری قول «أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» ہوگا ۔
* **احادیث نبوی کی روشنی:** رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انسانوں کے ساتھ رویہ خدا کے ساتھ تعلق کا آئینہ دار ہے: «مَنْ لَمْ يَشْكُرِ النَّاسَ لَمْ يَشْكُرِ اللَّهَ» یعنی جو انسانوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کر سکتا ۔ مسند احمد اور صحیح مسلم کی روایت میں مومن کی عجب شان بیان ہوئی کہ اس کے ہر معاملے میں خیر ہے؛ اگر اسے خوشی اور بھلائی ملے تو وہ شکر ادا کرتا ہے جو اس کے لیے خیر ہے، اور اگر تکلیف و مصیبت پہنچے تو وہ صبر کرتا ہے اور یہ بھی اس کے لیے باعث خیر ہے ۔ بیہقی کی شعب الایمان کی حدیث ہے: «الْحَمْدُ رَأْسُ الشُّكْرِ، مَا شَكَرَ الله عَبْدٌ لَا يَحْمَدُهُ» یعنی حمد شکر کی بنیاد اور اصل ہے، جس نے حمد نہ کی اس نے اللہ کا شکر ادا نہ کیا ۔ ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ «الْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلَأُ الْمِيزَانَ» یعنی الحمد للہ کا کلمہ اعمال کے پلڑے کو بھر دیتا ہے ۔ کھانے کے بعد کی مسنون دعاؤں میں بھی شکر اور اعتراف عجز کا باقاعدہ درس دیا گیا ہے ۔
مولانا وحید الدین خان کی فکر میں شکر کا مرکزی کردار
الرسالہ کے صفحات میں مولانا وحید الدین خان کی فکر کے چند بنیادی ستون شکر کے ساتھ براہ راست وابستہ نظر آتے ہیں۔
1. **حمد اسپرٹ اور توحید:** مولانا کے نزدیک دین کا خلاصہ خدا سے گہرا تعلق ہے اور اس تعلق کا مظہر شکر کا جذبہ ہے ۔ وہ لکھتے ہیں کہ سچے مومن کا معیار یہ ہے کہ وہ «الحمد للہ کی نفسیات» میں جیے، جبکہ اس کے برعکس شکوہ، شکایت اور بے اطمینانی کی زندگی «لا حمد للہ کی نفسیات» ہے جو منافقت کے مترادف ہے ۔ کائنات کے مشاہدے سے حاصل ہونے والی سچی معرفت ہی دراصل انسان کی زبان پر سچی حمد جاری کرتی ہے ۔
2. **شکر اور صبر کا باہمی ربط:** دنیا چونکہ مشقت اور آزمائش کی جگہ ہے («لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي كَبَدٍ»)، اس لیے ناپسندیدہ حالات اور انسانی زیادتیوں پر صبر کیے بغیر شکر گزاری کی اسپرٹ کو قائم رکھنا ممکن نہیں ۔ مصائب پر صبر کرنا شاکرانہ قلب کا ثبوت ہے اور منفی حالات کے باوجود مثبت اندازِ فکر (positive thinking) کو زندہ رکھنا ہی شکر کا اصل امتحان ہے ۔
3. **محبتِ الٰہی کا منبع:** شکر اور محبت الٰہی لازم و ملزوم ہیں ۔ جب انسان یہ دریافت کرتا ہے کہ خدا نے اسے عدم سے وجود بخشا، بہترین ساخت پر پیدا کیا اور کائنات کے شاندار لائف سپورٹ سسٹم کے ذریعے اس کی کفالت کی، تو بندے کے اندر رب کے لیے شدید محبت کا سمندر موجزن ہو جاتا ہے اور یہی محبت جب زبان اور طرزِ عمل پر آتی ہے تو اعتراف اور شکر بن جاتی ہے ۔
4. **تزکیہ اور عبادت کی روح:** شکر تمام عبادات کا خلاصہ اور افضل ترین عبادت ہے ۔ نماز اپنی اصل میں منعم کے انعام کا اعتراف ہے جہاں بندہ اپنے مکمل عجز کا اظہار سجدے کی صورت میں کرتا ہے ۔ اسی طرح روزہ انسان کو بھوک و پیاس کے احساس کے ذریعے پانی اور غذا جیسی بظاہر عام نعمتوں کی عظمت کا احساس دلا کر شکر گزاری کی اعلیٰ تربیت فراہم کرتا ہے ۔ زکوٰۃ بھی خدا کی ملی ہوئی نعمتوں پر ایک مالی شکرانہ ہے ۔
عملی رہنمائی، روزمرہ زندگی کے مظاہر اور قناعت
الرسالہ میں شکر گزاری کو خیالی فلسفے کے بجائے روزمرہ کے مظاہر اور رویوں کے ساتھ جوڑ کر پیش کیا گیا ہے۔
* **عام مادی نعمتوں کا شعور:** روزمرہ پیش آنے والی چیزیں مثلاً پیاس لگنے پر پانی کا ملنا، صبح سورج کا طلوع ہونا، تازہ ہوا میں سانس لینا اور آکسیجن کی فراہمی، تھکن کے بعد رات کو گہری نیند آنا اور صبح بیدار ہونا؛ یہ سب ایسے عظیم احسانات ہیں جن کا اگر گہرائی سے ادراک کیا جائے تو انسان شکر کے آنسوؤں میں ڈوب جائے ۔ جیسے انسان اگر سوچے کہ اگر نیند نہ آئے تو آدمی چند دن میں پاگل ہو جائے، تو اس کی زبان بے اختیار رب کے احسان کے گیت گانے لگتی ہے ۔ اسی طرح جدید دور میں پانی کی شفاف بوتل پر غور کرنا زمین کے نادر لائف سپورٹ سسٹم اور علم الماء کی عکاسی کرتا ہے ۔
* **چھینک اور شکر کا میکانزم:** جب کسی کو چھینک آتی ہے اور وہ «الحمد للہ» کہتا ہے تو یہ درحقیقت جسمانی نعمت کی فوری یاد دہانی ہے ۔ ایک نعمت پر شکر ادا کرنے سے ذہن بیدار ہوتا ہے اور انسان کائنات کی دیگر بے شمار نعمتوں پر بھی شکر بجا لانے کے قابل ہو جاتا ہے ۔
* **قناعت کا اصول:** شکر کے عملی تقاضوں میں سے ایک اہم پہلو «قناعت» ہے ۔ قناعت کا مطلب یہ ہے کہ انسان ان حالات سے مطابقت پیدا کر کے رہے جنہیں وہ بدل نہیں سکتا، اور جو کچھ ملا ہوا ہے اس پر مطمئن رہے ۔ جو شخص ملے ہوئے پر راضی نہیں ہوتا وہ حرص اور ناشکری کا شکار ہو کر بقیہ صلاحیتوں کو بھی گنوا بیٹھتا ہے ۔
* **بندوں کا شکریہ اور انا کی نفی:** اکثر لوگ کسی انسان کا احسان اس لیے تسلیم نہیں کرتے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس سے وہ محسن کے سامنے چھوٹے ہو جائیں گے ۔ شیطان انسان کے اندر تکبر ابھار کر اسے احسان مندی سے روکتا ہے، حالانکہ جو شخص انسانوں کے احسانات کا معترف نہیں ہوتا وہ دراصل اپنے اندر سے اعتراف کی صلاحیت ہی ختم کر دیتا ہے اور بالآخر خدا کے شکر سے بھی محروم ہو جاتا ہے ۔
* **رسمی کلچر کے بجائے شعوری بیداری:** الرسالہ کے مطابق محض زبان سے الحمد للہ کہہ دینا کافی نہیں اگر دل میں شکر کا احساس نہ ہو ۔ عرب معاشرے میں گفتگو کے دوران تکلفاً بولے جانے والے الفاظ اور بغیر سمجھے دہرائی جانے والی دعائیں ایک رسمی کلچر کی علامت ہیں، جبکہ مطلوب یہ ہے کہ لفظ کے پیچھے گہری شعوری معرفت کارفرما ہو ۔ اسی طرح کسی خاص جغرافیائی خطے (جیسے دبئی وغیرہ) میں پیدا ہونے کو فخر بنا کر الحمد للہ کہنا درست فہم نہیں کیونکہ تمام خطے خدا کے ہیں اور اصل شکر زندگی اور وجود کے ملنے پر ہونا چاہیے ۔
الرسالہ کے ادوار میں موضوع کا ارتقاء (۱۹۷۸ء تا ۲۰۲۵ء)
الرسالہ کی فائلوں کا جائزہ لینے سے ظاہر ہوتا ہے کہ شکر کا موضوع آغاز سے لے کر آخری شماروں تک مختلف فکری پہلوؤں کے ساتھ مسلسل پروان چڑھا ہے۔
* **ابتدائی دور (۱۹۷۸ء تا ۱۹۸۹ء):** اس دور میں شکر کو بنیادی طور پر ذکر الٰہی، عبدیت کی اصل، معرفت کی کنجی اور روزے جیسے احکام کے تربیتی مقاصد کے تحت بیان کیا گیا ۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ محض وظائف کی گنتی اصل دین نہیں بلکہ شعوری ہستی کا نذرانہ پیش کرنا شکر ہے ۔ دنیا کی نعمتوں کے ادراک سے آخرت کی جنت کے استحقاق کا تعلق بھی اسی زمانے کی تحریروں میں واضح کیا گیا ۔
* **درمیانی دور (۱۹۹۰ء تا ۲۰۰۹ء):** نوے کی دہائی اور اکیسویں صدی کی پہلی دہائی میں شکر کے موضوع میں کائناتی سائنس، نفسیاتی تجزیے اور دقیق لغوی تشریحات کا اضافہ ہوا ۔ حدیث «من لم یشکر الناس» کی نفسیاتی اور اخلاقی بنیادوں پر مفصل بحثیں سامنے آئیں ۔ اسی دور میں «صبر اور شکر» کے دو طرفہ خیر کے اصول، روزے کی تربیتی افادیت، اور لسان العرب و راغب اصفہانی کے حوالوں سے شکر کی علمی و لغوی تعریفات تحریروں کا خاص حصہ بنیں ۔
* **پختہ اور آخری دور (۲۰۱۰ء تا ۲۰۲۵ء):** اس دور میں شکر کو باقاعدہ «اسلام کا سنٹرل تھیم»، «حمد کلچر» اور «تحدیث نعمت» کی اصطلاحات کے تحت نظامِ زندگی کے طور پر پیش کیا گیا ۔ دنیا کو «دار الکبد» (مشقت کا گھر) قرار دے کر منفی حالات میں مثبت سوچ اور صبر کے ساتھ حمد الٰہی میں جینے کی گہری فلسفیانہ وضاحتیں کی گئیں ۔ سورہ الزمر اور سورہ یونس کے حوالے سے یہ تصور نکھار کر سامنے لایا گیا کہ دنیا میں ادا کی جانے والی حمد جزوی ہے اور یہی حمد جنت میں اہل ایمان کا مستقل اور لامتناہی مشغلہ بن جائے گی ۔ مئی ۲۰۲۱ء اور بعد کے شماروں میں مولانا کی اپنی سادہ اور شاکرانہ زندگی کے مشاہدات بھی سامنے آئے کہ کس طرح سادگی، صبر، اور تفکر ان کے شب و روز کا حصہ تھے ۔ جولائی ۲۰۲۵ء کی تحریروں میں سائنسی ڈیٹا اور کائناتی تخلیق کے حقائق کے ذریعے حمد و شکر کے فکری پہلو پر زور دیا گیا ۔
تقابل: دنیا میں شکر اور آخرت میں حمد
الرسالہ میں موجودہ دنیا کی زندگی اور اخروی زندگی کے مابین شکر اور حمد کے تعلق کی ایک نہایت وقیع حکمت بیان کی گئی ہے ۔ اس کائنات میں انسان اپنی تمام تر محدودیتوں (limitations) کے درمیان رہتا ہے اور اسے ہر چیز ضرورت کے مطابق دی گئی ہے ۔ اس بنا پر دنیا میں انسان جو شکر یا حمد ادا کرتا ہے وہ ایک ابتدائی نوعیت کا اعتراف ہوتا ہے ۔ تاہم جو شخص اس آزمائش گاہ میں مشقتوں اور محرومیوں کے باوجود خدا کی عظمت کا معترف رہا اور شاکرانہ مزاج کے ساتھ جیتا رہا، وہ ان پاکیزہ روحوں میں شامل ہو جاتا ہے جنہیں جنت کے ابدی انعامات کے لیے منتخب کیا جانا ہے ۔
آخرت کی لامحدود دنیا میں جب اہل ایمان جنت میں داخل ہوں گے، تو وہاں نعمتیں خدائی میزبانی (divine hospitality) کے طور پر درجہ اشتہاء میں حاصل ہوں گی ۔ اس وقت انسان پر کلماتِ الٰہی کی انتہائی وسعتیں آشکار ہوں گی اور وہاں اہل جنت کا مستقل مشغلہ «حمد کلچر» بن جائے گا ۔ وہ پکار اٹھیں گے کہ تمام شکر اس خدا کے لیے ہے جس نے غم کو ہم سے دور کر دیا اور اپنا وعدہ سچ کر دکھایا ۔ یوں الرسالہ کی رو سے، شکر محض ایک وقتی احساس یا مخصوص فریضہ نہیں بلکہ یہ مومن کے دنیا کے سفر کا توشہ اور اس کے اخروی وجود کا ابدی ترانہ ہے ۔