DRAFT written by AI from Al-Risala pages only (objections to Islam and Maulana's answers). Tap any [n] to see the printed page with the passage marked (166 of 166 marked automatically). ▶ reads the article aloud, sentence by sentence.
⬇ PDF⬇ Wordfor printing / publishing: numbered references, index and bibliography

اسلام پر اعتراضات اور ان کے جوابات

ماہنامہ «الرسالہ» کے بانی اور معروف اسلامی مفکر مولانا وحید الدین خان نے اپنے رسالے میں اسلام پر وارد ہونے والے مختلف جدید و قدیم اعتراضات کا مسلسل، مدلل اور سنجیدہ جائزہ پیش کیا ہے۔ ان کا طرزِ استدلال عقل، سائنسی شواہد، مثبت زاویۂ نظر، معروضی مکالمے اور سنجیدہ مطالعے پر مبنی تھا ۔ مولانا کے نزدیک معترضین کا جواب روایتی جذباتی نعروں یا تکفیری فتووں سے نہیں دیا جا سکتا، بلکہ اس کے لیے خالص علمی و سائنسی دلائل، پُرامن مکالمے اور اعراض و رواداری کے اسلوب کی ضرورت ہے ۔ اسلام پر جب بھی شبہات اٹھائے گئے تو مولانا نے الزامات کا توڑ کرنے کے لیے ان کے بنیادی مآخذ اور منطق کا تجزیہ کیا اور ثابت کیا کہ خرابی بذاتِ خود اسلامی تعلیمات میں نہیں بلکہ یا تو معترضین کی سطحی فہم اور سیاق و سباق سے کاٹ کر مفہوم اخذ کرنے میں ہے، یا پھر خود مسلمانوں کے غیر اسلامی طرزِ عمل اور غلط نمائندگی کے نتیجے میں پیدا ہوئی ہے ۔

مولانا کا طریقہ کار برائے جوابِ اعتراضات

مولانا وحید الدین خان نے اعتراضات و شبہات کے ازالے کے لیے ایک واضح اور محکم فکری منہج وضع کیا تھا۔

۱۔ **الزام اور مدلل تنقید میں تفریق:** مولانا کا کہنا تھا کہ «تنقید ہر آدمی کا فطری حق ہے۔ ہر آدمی کو یہ حق ہے کہ وہ دوسرے آدمی میں کوئی غلط بات دیکھے تو بر ملا اس کا اظہار کرے» لیکن یہ حق مدلل اختلافِ رائے کے لیے ہے، الزام تراشی یا عیب جوئی کے لیے نہیں ۔ محض الزامات لگانے اور بلا ثبوت کسی کو ملزم گرداننے سے معاشرے میں شبہات کی فضا جنم لیتی ہے، حالانکہ «شبہ سے شبہ جنم لیتا ہے اور اعتماد سے اعتماد پیدا ہوتا ہے» ۔

۲۔ **فتویٰ ازم کے بجائے سائنسی و عقلی استدلال:** مولانا کے نزدیک جدید ذہن کے شکوک کا ازالہ فتووں سے ممکن نہیں؛ «یہاں فتویٰ ایکٹوزم نہیں بلکہ سائنسی ایکٹوزم کی ضرورت تھی» ۔ ان کا طریقہ یہ تھا کہ ملحد مفکرین اور سائنس دانوں کا رد انہی کے تسلیم شدہ علمی و عقلی اصولوں اور سائنسی مسلمات کے ذریعے کیا جائے ۔

۳۔ **مسلمانوں کے عمل اور اسلام میں تفریق:** مولانا یہ بنیادی اصول سامنے رکھتے تھے کہ «اسلام مسلمانوں کے کسی رویہ کا نام نہیں ہے۔ اسلام ایک اصولی مسلک کا نام ہے، نہ کسی قوم کے قومی طرز عمل کا نام نہیں۔ مسلمانوں کے عمل کو اسلام سے جانچا جائے گا نہ کہ اسلام کو مسلمانوں کے عمل سے جانچا جانے لگے» ۔ اگر بعض مسلمانوں نے تشدد یا غیر معتدل روش اپنا رکھی ہے تو اس کے ذمہ دار وہ خود ہیں، نہ کہ اسلام ۔

۴۔ **سیاق و سباق کا لحاظ اور سارٹ آؤٹ (Sort out) کی صلاحیت:** معترضین عموماً عبارتوں اور احکام کو سیاق و سباق سے کاٹ کر پیش کرتے ہیں ۔ ایک مفکر کا کام یہ ہے کہ وہ «چیزوں کو سارٹ آؤٹ (sort out) کر سکے، وہ مختلف اور متفرق اجزا کے ڈھیر میں پائے جانے والے مطلوب جُز اور غیر مطلوب جُز کو ایک دوسرے سے الگ کر سکے» اور انتشار کے بیچ مثبت فکری رخ متعین کرے ۔

۵۔ **رواداری، مثبت رویہ اور اعراض:** اگر اعتراض اخبارات و رسائل میں برائے تنقید و پروپیگنڈا ہو تو مولانا عموماً خاموشی، بے تعلقی اور اعراض کو ترجیح دیتے تھے، البتہ براہِ راست سنجیدہ سوال کا جواب دلیل کے ساتھ دیتے تھے ۔

اعتراض: اسلام عقل اور جدید سائنس کے خلاف ہے

معترضین کا دعویٰ تھا کہ انیسویں صدی کے بعد ابھرنے والا جدید الحاد (خواہ ڈارون کا سائنسی الحاد ہو یا مارکس کا سوشلسٹ الحاد) سائنسی و عقلی بنیادوں پر قائم ہے، جس کے بعد خدا کے وجود کی گنجائش نہیں رہی اور مذہب بے بنیاد ثابت ہو چکا ہے ۔ اس نظریے کے تحت کہا گیا کہ کائنات کسی خدا کے بغیر اسباب و علل کے مادی قانون کے تحت خودبخود ارتقا پذیر ہے ۔

مولانا وحید الدین خان نے اس اعتراض کے جواب میں واضح کیا کہ سائنس اور مذہب کے طریقِ استدلال میں کوئی بنیادی تضاد نہیں ہے، اور جس طرح کے استدلال کی بنیاد پر سائنس کے حقائق تسلیم کیے جاتے ہیں بعینہٖ اسی طرز پر مذہب کا اثبات بھی ممکن ہے ۔ الحاد کا سائنسی دعویٰ ایک فریب ہے؛ ڈارون ازم بذاتِ خود «صرف ایک قیاسی نظریہ (speculative theory) کی حیثیت رکھتا تھا»، کوئی ثابت شدہ سائنسی حقیقت نہ تھا ۔ سائنس کی جدید ترین دریافتوں نے ثابت کر دیا ہے کہ کائنات بکھرے ہوئے مادے کا بے معنی انبار نہیں بلکہ اس میں کامل درجے کی «ذہین ڈیزائن (intelligent design)» پائی جاتی ہے، اور ایک ذہین ڈیزائن لازمی طور پر ایک «ذہین ڈیزائنر (intelligent designer)» کے وجود کا قطعی ثبوت ہے، جو بے شعور قدرتی انتخاب کا نتیجہ ہرگز نہیں ہو سکتی ۔ سائنس نے جن حقائق کو دریافت کیا ہے وہ درحقیقت خدا کی توحید اور اس کی صناعی کی نشانیاں ہیں جن کا غلط رخ موڑ کر ملحدین نے الحاد کی عمارت کھڑی کرنے کی کوشش کی تھی ۔ چنانچہ اسلام پر عقل و سائنس کی مخالفت کا الزام محض ایک سطحی مغالطہ ہے ۔

اعتراض: اسلام تلوار کے زور سے پھیلا اور یہ تشدد و دہشت گردی کی تعلیم دیتا ہے

مستشرقین اور جدید نقادوں کی جانب سے اکثر یہ اعتراض اٹھایا جاتا ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا، یہ جنگ و جدل کا مذہب ہے، اور عصر حاضر میں مسلمانوں کی جانب سے کی جانے والی عسکری کارروائیاں اور دہشت گردی دراصل اسلامی جہاد کا حصہ ہیں ۔

مولانا نے اس اعتراض کو کلی طور پر بے بنیاد قرار دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ «خونریزی اسلام کی تعلیم ہی نہیں۔ اسلام کی تمام تعلیمات امن اور انسانی خیر خواہی پر مبنی ہیں» ۔ قرآن میں جہاد کا مادہ ۳۵ بار آیا ہے اور ہر جگہ اس سے مراد «پرامن جدوجہد» یا فکری و دعوتی کوشش ہے، جیسا کہ فرمایا گیا: «وَ جَاهِدْهُمْ بِهِ جِهَادًا كَبِیرًا (25:52)» یعنی قرآن کے ذریعے فکری و نظریاتی طور پر بڑا جہاد کرو ۔ اسی طرح حدیث نبوی میں اپنے نفس کے خلاف خدا کی اطاعت کی جدوجہد کو جہاد کہا گیا ہے ۔ اسلام میں مسلح کارروائی کے لیے قتال کا لفظ آیا ہے اور اس کی اجازت صرف اور صرف ایک منظم، باقاعدہ قائم شدہ ریاست کے دائرہ اختیار میں ہے («الرحیل للامام»)، اور وہ بھی محض اپنے دفاع کے لیے آخری چارہ کار کے طور پر ہوتی ہے، کسی غیر ریاستی گروہ کو مسلح کارروائی کا کوئی شرعی حق حاصل نہیں ۔ غیر ریاستی تنظیموں کا مسلح تشدد یا خودکش حملے جہاد نہیں بلکہ صریح «فساد فی الارض» اور امن عامہ کو سلب کرنا ہیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ میں قتال کا اقدام کبھی جنگ چھیڑنے کے لیے نہیں تھا بلکہ محض دفاعی تھا اور آپ نے ہمیشہ ٹکراؤ سے اعراض اور صلح و امن کو ترجیح دی ۔ مزید برآں گیتا یا انجیل جیسے دیگر مذہبی صحائف میں بھی جنگ کا ذکر استثنائی حالات سے متعلق ہوتا ہے جبکہ عمومی زندگی امن پر قائم رہتی ہے ۔

اعتراض: اسلام میں ارتداد کی سزا قتل ہے اور فکر و مذہب کی آزادی نہیں

معترضین کا استدلال یہ تھا کہ اسلام میں آزادی فکر نہیں ہے، جو مسلمان مذہب چھوڑ دے (مرتد ہو جائے) شریعت اس کے قتل کا حکم دیتی ہے، اور اسلام مذہبی جبر (persecution) پر قائم ہے ۔

مولانا وحید الدین خان نے اس اعتراض کے رد میں لکھا کہ «اسلام میں مرتد کی سزا قتل ہے۔ یہ ایک بے بنیاد مسئلہ ہے۔ کیوں کہ یہ حکم نہ قرآن سے ثابت ہے، اور نہ حدیث سے» ۔ قرآن کا دوٹوک اعلان ہے: «لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ (2:256)» ۔ سچائی کو بزور منوانا خود سچائی کی توہین ہے؛ ایمان وہ ہے جو قانونی جبر کے تحت نہیں بلکہ آزادانہ سوچ اور «سیلف ڈسکوری (self discovery)» کے تحت حاصل ہو ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عبید اللہ بن جحش کے عیسائی ہونے (ارتداد) کا واقعہ پیش آیا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے قتل کا کوئی حکم صادر نہیں فرمایا ۔ قدیم زمانے میں بادشاہتوں کا یہ چلن تھا کہ جو بادشاہ کا مذہب ہو وہی رعایا کا مذہب ہو، جس کے باعث مذہبی ایذارسانی کا دور دورہ تھا ۔ اسلام نے اسی تاریخی جبر اور فتنے کا خاتمہ کر کے مکمل مذہبی اور فکری آزادی عطا کی ۔ بعد کے فقہا نے جن مسائل کی بنیاد رکھی وہ اسلام کی روح کے خلاف تھے ۔ عصر حاضر میں جو لوگ شکوک کا شکار ہوتے ہیں وہ دشمنی کی بنا پر نہیں بلکہ غلط فہمی یا عدم اطمینان کی وجہ سے ہوتے ہیں، اس لیے ان کا علاج علمی مکالمہ، ڈسکشن اور دعا ہے نہ کہ تشدد ۔

اعتراض: شتمِ رسول (توہینِ رسالت) پر تشدد اور ناموسِ رسالت کے قوانین کا جواز

سلمان رشدی کی کتاب «شیطانی آیات»، ڈنمارک کے کارٹون اور دیگر واقعات کے تناظر میں یہ اعتراض اٹھایا گیا کہ مسلمان معمولی تنقید یا توہین پر مشتعل ہو کر قتل و غارت گری اور فتووں کی سیاست کرتے ہیں، جس سے اسلام کا پرتشدد چہرہ سامنے آتا ہے ۔

مولانا وحید الدین خان نے وضاحت کی کہ سلمان رشدی کی کتاب بلاشبہ ایک غلیظ، فحش اور لغو کتاب ہے اور وہ شتم رسول کا مجرم ہے ، لیکن شاتم کا علاج قتل کے فتوے یا سڑکوں پر ہنگامے نہیں ہیں ۔ مولانا کے مطابق «ناموسِ رسالت کا قانون ایک بے بنیاد قانون ہے۔ اگر کوئی شخص پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف وہ فعل کرے جس کو سب وشتم کہا جاتا ہے، تب بھی اس کا جواب دلیل سے دیا جائے گا، نہ کہ گولی سے» ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ یہ تھا کہ جب مکہ کے مشرکین آپ کو «مذمم» کہہ کر سب و شتم کرتے تو آپ نے خوبصورت انداز میں اسے نظر انداز کر دیا کہ «یہ لوگ مذمم کی سب و شتم کرتے ہیں۔ مگر ان کی سب و شتم میرے اوپر پڑنے والی نہیں کیوں کہ میرا نام محمد ہے نہ کہ مذمم» ۔ مدینہ میں عبد اللہ بن ابی سب سے بڑا منافق اور شاتم رسول تھا، حضرت عمرؓ نے اس کے قتل کی اجازت مانگی لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اندیشے سے منع فرما دیا کہ اس سے اسلام بدنام ہوگا اور لوگوں کو اسلام کی تصویر بگاڑنے کا موقع ملے گا ۔ ڈنمارک کے اخبار میں چھپنے والا کارٹون ایک صحافتی جوک تھا، جسے نظر انداز کرنا چاہیے تھا جیسا کہ مولانا نے انگریزی اخبار میں لکھا تھا «Muslims Must Ignore Cartoons»، لیکن مسلمانوں کے متشددانہ ردعمل نے کارٹون سے زیادہ خود اسلام اور رسول کی تصویر کو مسخ کیا ۔

اعتراض: اسلام میں عورت کو کمتر درجہ حاصل ہے، پردہ قید ہے اور مساوات نہیں

مغربی مفکرین اور حقوقِ نسواں (فیمینزم) کی تحریک کی طرف سے یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ اسلام میں عورت کو دبا کر رکھا جاتا ہے، پردے کے ذریعے اس کی آزادی چھین لی گئی ہے اور اسے مرد کے ماتحت بنا کر مساوات سے محروم کیا گیا ہے ۔

اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے مولانا نے جدید سائنسی، حیاتیاتی اور نفسیاتی تحقیقات کے حوالے پیش کیے۔ انہوں نے ہارورڈ اور دیگر اداروں کی ریسرچ اور پروفیسر اسٹیون گولڈ برگ کی تصانیف کے شواہد دیے کہ مرد اور عورت کا فرق محض سماجی حالات کی پیداوار نہیں بلکہ یہ گہرے «حیاتیاتی عوامل (biological factors)» پر مبنی ہے ۔ عورت اور مرد کے دماغی خلیوں اور نفسیات میں فرق ایک فطری تقسیمِ کار کے لیے ہے ۔ مولانا نے فرمایا: «عورت اور مرد کے درمیان مساوات بہ اعتبار رتبہ ہے، نہ کہ بہ اعتبار رول: Equal in status, but different in role» ۔ اسلام میں عزت اور حقوق کے اعتبار سے دونوں میں کوئی فرق نہیں، البتہ ان کا مقامِ عمل (place) مختلف ہے ۔ مغرب نے مطلق مساوات کے غیر فطری اصول پر عورت کو سڑکوں، بازاروں اور اشتہارات میں لا کر اسے صرف جوانی اور جنسی کشش کی چیز بنا دیا اور وہ خاندانی تحفظ سے محروم ہو گئی ۔ پردہ اور حیا عورت کی نسوانیت کی حفاظت کا ذریعہ ہیں نہ کہ قید ۔

اعتراض: تعددِ ازدواج مردانہ خود غرضی ہے اور یکطرفہ طلاق عورت پر ظلم ہے

معترضین کا الزام ہے کہ اسلام نے مرد کو چار شادیاں کرنے کی کھلی چھوٹ دے کر عورت کی حق تلفی کی ہے، اور اسی طرح تین طلاق کا حق دے کر عورت کی زندگی کو غیر محفوظ بنا دیا ہے ۔

مولانا وحید الدین خان نے اس اعتراض کے جواب میں واضح کیا کہ اسلام میں عام قاعدہ ایک ہی شادی کا ہے، کیونکہ فطرت ہمیشہ عورت اور مرد کی تعداد میں توازن قائم رکھتی ہے ۔ قرآن (سورہ النساء: ۳) میں چار شادیوں کی اجازت کوئی عمومی حکم نہیں بلکہ ایک «استثنائی حکم» ہے جو جنگ یا دیگر ہنگامی حالات کے تحت پیش آتا ہے جب معاشرے میں بیواؤں اور یتیموں کی تعداد زیادہ ہو جائے اور مرد کم ہو جائیں ۔ اگر ایسی صورت میں زائد عورتوں کے لیے دوسرے نکاح کی اجازت نہ ہو تو معاشرہ جنسی انارکی کا شکار ہو جائے گا؛ لہٰذا یہ اجازت مرد کی عیاشی کے لیے نہیں بلکہ عورتوں کی سماجی حفاظت کا بندوبست ہے ۔ شماریاتی اعتبار سے مسلم معاشرے میں چار گنا عورتیں موجود ہی نہیں ہیں کہ ہر شخص چار شادیاں کر سکے ۔ طلاق کے معاملے میں مولانا نے واضح کیا کہ طلاق اللہ کے نزدیک ایک مبغوض ترین فعل ہے ۔ اسلام کا اصل طریقہ یہ ہے کہ طلاق الگ الگ دو مہینوں (طہروں) میں وقفے کے ساتھ دی جائے تاکہ صلح کا موقع رہے ۔ ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دے دینا شریعت کے منشا کے خلاف ہے اور مولانا اس معاملے میں سلفی مسلک کو درست سمجھتے تھے کہ ایک مجلس کی تین طلاقیں دراصل ایک ہی طلاق شمار ہوتی ہیں ۔ مزید برآں، عورت کے حقوق کے تحفظ کے لیے اسلام نے خلع اور «نکاحِ تفویض» کا باقاعدہ اختیار دیا ہے جس کے ذریعے عورت بھی طلاق کا حق پا سکتی ہے ۔ اس کے برعکس مغرب اور دیگر معاشروں میں طلاق پر مکمل پابندی یا انتہائی بھاری تلافی کے قوانین نے نکاح کے نظام کو تباہ کر دیا اور غیر منکوحہ زندگی کے رجحان کو فروغ دیا ۔

اعتراض: اسلامی حدود اور سزائیں وحشیانہ اور غیر انسانی ہیں

مغرب کے علمِ جرمیات (Criminology) اور انسانی حقوق کے علمبرداروں نے اسلامی حدود بالخصوص چوری پر ہاتھ کاٹنے اور قتل پر قصاص کی سزاؤں کو وحشیانہ، قرونِ وسطیٰ کی ظالمانہ اور بے رحمانہ سزائیں قرار دیا ہے ۔

مولانا نے جواب دیا کہ اٹھارویں صدی میں یورپ نے جرم کو انسان کا اضطراری عمل مان لیا تھا، جبکہ اسلامی شریعت کی بنیاد اس حقیقت پر ہے کہ انسان بااختیار مخلوق ہے اور وہ اپنے ارادے سے جرم کرتا ہے، لہٰذا سزا ایسی ہونی چاہیے جو دوسروں کے لیے عبرت (نکال) بن سکے ۔ چور کا ہاتھ کاٹنا ایک جراحی عمل کی مانند ہے: «یہ ایسی ہی بات ہے جیسے کوئی کہے کہ میڈیکل سائنس کا یہ نظریہ غلط ہے کہ کسی عضو میں سیپٹک ہو جائے تو اس کو فوراً کاٹ دینا چاہئے۔ میڈیکل سائنس کے اس نظریہ کے عملی رواج کے باوجود اگر تمام لوگ بغیر ہاتھ پاؤں کے نہیں ہو گئے ہیں تو چوری کے بارہ میں اسلامی قانون کی وجہ سے لوگ بے ہاتھ کیوں ہو جائیں گے» ۔ یہ سزا معاشرے کو محفوظ بنانے کے لیے ہے ۔ مزید برآں اسلامی سزائیں نفرت کے جذبے کے تحت نہیں دی جاتیں بلکہ صرف حدود اللہ کے نفاذ کے لیے ہوتی ہیں ۔ خود مغربی ممالک (جیسے ٹیکساس، امریکہ) میں سزاؤں کے بے اثر ہونے کے بعد سخت اور عبرت ناک سزاؤں کی ضرورت تسلیم کی جا رہی ہے ۔ مولانا نے یہ بھی واضح کیا کہ اسلام محض کسی «فوجداری قانون کا نام نہیں» ہے؛ حدود و تعزیرات مسلم معاشرے کی تنظیمی ضرورت ہیں لیکن اصل اسلام توحید، دعوت اور اصلاحِ قلب کا نام ہے، صرف سزاؤں کے نفاذ کو اسلامی نظام سمجھ لینا دین کا اصل مدعا مسخ کرنے کے مترادف ہے ۔ فقہی جزئیات میں حالات کے لحاظ سے تطبیق کا فرق پایا جا سکتا ہے جیسا کہ جدید دور میں آپریشن کے اصول پر عمل کرنا ۔

اعتراض: اسلام نے غلامی کو منسوخ نہیں کیا بلکہ اسے برقرار رکھا

ناقدین یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ جس طرح اسلام نے سود اور شراب نوشی کو قطعی طور پر حرام اور منسوخ قرار دیا، اسی طرح خطبہ حجۃ الوداع میں غلامی کے خاتمے کا صریح اعلان کیوں نہیں کیا، اور اسلامی تاریخ میں غلام اور لونڈیاں کیوں رکھی جاتی رہیں ۔

مولانا وحید الدین خان نے اس کا تاریخی اور سماجی تجزیہ پیش کرتے ہوئے لکھا کہ غلامی دراصل قدیم «زرعی دور (agricultural period)» کا ایک معاشی اور ناگزیر تقاضا تھی جس میں مشینی طاقت نہ ہونے کی بنا پر زرعی مزدوری کے لیے انسانوں کا استعمال ناگزیر تھا ۔ یونان میں ارسطو جیسے مفکرین غلامی کو پیدائشی و فطری سمجھتے تھے اور دنیا بھر میں انسانی تفریق راسخ تھی ۔ ایسی صورت حال میں اسلام نے غلامی کے تدریجی خاتمے کے لیے ایک فطری حکمت عملی اختیار کی، جس کی بنیاد دو اصولوں پر تھی: «تضييق المدخل وتوسيع المخرج» یعنی نئے غلام بنانے کے راستوں کو بند کرنا اور موجودہ غلاموں کی آزادی کے راستوں کو زیادہ سے زیادہ وسیع کرنا ۔ اسلام نے ہر گناہ کے کفارے میں غلام آزاد کرنے کا حکم دیا اور غلام آزاد کرنے کو عظیم ترین نیکی قرار دیا ۔ اس کے ساتھ ساتھ اسلام نے غلاموں کو مکمل انسانی وقار عطا کیا؛ حضرت بلال حبشی کو کعبے کی چھت پر اذان دینے کا اعزاز بخش کر نسلی غرور کو پاش پاش کیا، اور خلفائے راشدین غلاموں کے حقوق اور ان کی دیکھ بھال کی سختی سے نگرانی کرتے تھے ۔ آگے چل کر جب مشین کا دور آیا تو معاشی اعتبار سے انسانی غلامی کی بنیادیں خود بخود ختم ہو گئیں ۔

اعتراض: قرآن اور احادیث تاریخی طور پر محفوظ نہیں ہیں

مستشرقین اور دیگر ناقدین قرآن کے متن کی حفاظت اور احادیث کے ذخیرے کی تاریخی استنادیت پر شک و شبہات پیدا کرتے ہیں ۔

مولانا نے اس اعتراض کو تاریخی حقائق کی روشنی میں رد کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسلام کی حقانیت کا راز ہی یہ ہے کہ «اسلام مکمل طور پر ایک محفوظ دین ہے اس لیے وہ خدا کی ہدایت کو جاننے کا مستند ذریعہ ہے» ۔ پچھلے انبیا کے بعد کتابوں میں تحریف ہو جانے کی وجہ سے نیا نبی بھیجنا پڑتا تھا، مگر چونکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں اس لیے خدا کے تکوینی منصوبے کے تحت دین کے متن کی حفاظت کا مستقل انتظام کیا گیا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود اپنی نگرانی میں وحی کو قرطاس پر لکھواتے تھے اور آپ کے بعد حضرت زید بن ثابت کی قیادت میں صحابہ کی کمیٹی نے حافظے اور تحریری نسخوں کے باہمی تقابل (ڈبل چیکنگ) کے بعد قرآن کا مستند نسخہ تیار کیا جسے امت نے تواتر سے محفوظ رکھا ۔ اس تاریخی استناد کا اعتراف متعصب مستشرق سر ولیم میور نے بھی کیا ہے کہ دنیا میں بارہ صدیوں تک قرآن کے سوا کوئی ایسی کتاب نہیں جو اتنی کامل حفاظت کے ساتھ باقی رہی ہو ۔ جہاں تک احادیث کا تعلق ہے تو امت کے محدثین نے اسماء الرجال اور تنقیدِ روایات کے کڑے اصولوں پر کام کیا، اور جدید دور میں بھی شیخ البانی جیسے محققین نے مستند اور غیر مستند روایتوں کو الگ الگ کر کے اس کی تاریخی جانچ کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا ۔ چنانچہ قرآن و سنت کا اصل متن اور اس کا فہم آج بھی مکمل طور پر محفوظ ہے ۔

اعتراض: اسلام غیر مسلموں کے لیے متعصب ہے اور لفظِ کافر تحقیر آمیز ہے

بعض غیر مسلم حلقوں کا یہ اعتراض ہے کہ اسلام میں غیر مسلموں کو حقارت سے دیکھا جاتا ہے، ان کے لیے «کافر» اور «مشرک» کے نجس اور تضحیک آمیز الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں اور اسلامی ریاست میں انہیں برابر کے حقوق حاصل نہیں ہوتے ۔

مولانا نے جواب دیا کہ «اس ملک کے غیر مسلموں کو کافر کہنا سرے سے غلط اور غیر اسلامی ہے۔ کافر کے معنی منکر کے ہیں۔ اور کسی شخص کا منکر ہونا اس وقت متحقق ہوتا ہے جب کہ اس کے سامنے بات پوری طرح پیش کر دی جائے اور پھر بھی وہ اس کا انکار کرے» ۔ چونکہ موجودہ مسلمانوں نے دوسروں تک اسلام کا پیغام صحیح طور پر پہنچایا ہی نہیں، اس لیے پیشگی طور پر انہیں کافر کہنا بالکل غلط ہے؛ سنتِ رسول کے مطابق وہ ہمارے «وطنی بھائی» اور قوم کے افراد ہیں ۔ قرآن میں کافر کسی مخصوص نسل یا قوم کا ابدی نام نہیں ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر مسلم حکمرانوں کو خطوط لکھتے ہوئے کبھی کافر نہیں لکھا (مثلاً «عظیم الروم» لکھا، کافر الروم نہیں کہا) اور نہ ہی صحابہ نے فتوحات کے وقت دیگر اقوام کو کفار کے نام سے پکارا، بلکہ ہر قوم کو اسی نام سے مخاطب کیا جو انہوں نے خود اختیار کیا تھا ۔ اسی طرح اسلام توحید کا علمبردار ہے لیکن بت پرستی کی مذمت کے باوجود قرآن باطل معبودوں کو برا کہنے سے روکتا ہے تاکہ فتنہ نہ پھیلے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجران کے عیسائی وفد کو مسجد نبوی میں اپنے طریقے پر عبادت کرنے کی اجازت دے کر عملی رواداری کی اعلیٰ ترین مثال قائم فرمائی ۔ آج کے دور میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے باہمی تعلقات کی بنیاد بین الاقوامی معیارات اور «بااہمی احترام (mutual respect)» پر ہوگی جس کا قرآنی اصول «لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِينِ» ہے ۔

اعتراض: اسلام جمہوریت، سیکولرزم اور جدید تہذیب سے مطابقت نہیں رکھتا

مغربی اسکالرز اور روشن خیال ناقدین کا کہنا ہے کہ اسلام قرونِ وسطیٰ کا ایک روایتی مذہب ہے جو جدید دور کی سیکولر اقدار، جمہوری اصولوں، اختلافِ رائے کی آزادی اور سائنسی و صنعتی تہذیب کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہو سکتا ۔

مولانا وحید الدین خان نے اس اعتراض کا رد کرتے ہوئے فرمایا کہ جدید تہذیب اور اسلام کے مابین کوئی حقیقی تصادم نہیں ہے بلکہ «جدید تہذیب موافق اسلام تہذیب ہے» ۔ مسلمانوں کے روایتی مفکرین کی یہ غلطی رہی کہ انہوں نے جمہوریت اور سیکولرزم کو کفر اور لادینیت قرار دے کر مسترد کر دیا، حالانکہ ان کے ساتھ ایڈجسٹمنٹ کی ضرورت تھی ۔ سیکولرزم دراصل کسی مذہب کی مخالفت نہیں بلکہ ایک عملی پالیسی کے طور پر ریاست کو باہمی مذہبی جھگڑوں سے بچانے اور ہر فرد کو مذہب و فکر کی مکمل آزادی دینے کی تدبیر ہے، جو عین اسلام کا مطلوب ہے ۔ جمہوریت نے قدیم استبدادی بادشاہتوں کے جبر کو ختم کر کے انسان کو فکری آزادی دی اور اسلام میں بھی نظمِ حکومت کو «شوریٰ» کے اصول پر عوامی رائے کا تابع رکھا گیا تھا ۔ مغرب کی اصل ترقی کا راز «اختلاف رائے کو انسان کا ناقابلِ تنسیخ حق سمجھنا (To accept dissent as an absolute human right)» تھا ۔ مزید برآں، جدید مغربی سائنس، پریس، گلوبل مواصلات اور ہوائی جہاز رانی نے اسلام کے لیے عالمی دعوت کے شاندار مواقع پیدا کیے ہیں، اور یہ درحقیقت حدیث نبوی «إِنَّ اللَّهَ لَيُؤَيِّدُ هَذَا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ» کی عملی مصداق ہیں جس کے تحت اللہ تعالیٰ نے ایک سیکولر قوم کے ذریعے اسلام کے تکمیلی دعوتی دور کے اسباب پیدا کر دیے ہیں ۔

خلاصہ

ماہنامہ الرسالہ کے صفحات پر اسلام پر وارد ہونے والے اعتراضات کے جوابات کا اگر بحیثیتِ مجموعی جائزہ لیا جائے تو ایک واضح قدرِ مشترک سامنے آتی ہے۔ مولانا وحید الدین خان کے نزدیک اسلام پر ہونے والے زیادہ تر اعتراضات اسلام کی اصل تعلیمات پر مبنی نہیں ہیں، بلکہ وہ یا تو معترضین کی سطحی فہم اور تاریخی سیاق سے ناواقفیت کا نتیجہ ہیں، یا پھر موجودہ دور کے مسلمانوں کے غیر دانشمندانہ، جذباتی اور پرتشدد رویوں کے ردعمل میں پیدا ہوئے ہیں ۔

مولانا کے جوابات کا بنیادی محور یہ ثابت کرنا ہے کہ اسلام دینِ فطرت ہے، جس کا جدید عقل، انسانی حقوق اور سائنسی حقائق سے کوئی ٹکراؤ نہیں ہے ۔ مولانا کا مستقل مؤقف رہا کہ اعتراضات کا مقابلہ جارحیت، فتووں اور احتجاجی ہنگاموں کے ذریعے کرنے کے بجائے مثبت سوچ، ٹھوس علمی استدلال، رواداری اور پرامن دعوتی اسلوب کے ساتھ کیا جانا چاہیے ۔ ان کے نزدیک شریعت کا اصل مطمحِ نظر محض فوجداری سزاؤں کا اجراء نہیں بلکہ انسانی نفوس کی اصلاح اور دعوتِ حق کا ابلاغ ہے، اور اگر اسلام کو اس کے اصل ربانی و اخلاقی ڈھانچے میں پیش کیا جائے تو دورِ جدید کی کوئی بھی علمی فکر اس کے سامنے ٹھہر نہیں سکتی ۔

حوالہ جات

scan

Open the whole page ›