DRAFT written by AI from Al-Risala pages only (oneness of God). Tap any [n] to see the printed page with the passage marked (86 of 86 marked automatically). ▶ reads the article aloud, sentence by sentence.
⬇ PDF⬇ Wordfor printing / publishing: numbered references, index and bibliography

ماہنامہ الرسالہ میں تصورِ توحید

ماہنامہ الرسالہ میں، جس کے بانی اور مدیر مولانا وحید الدین خاں ہیں، عقیدۂ توحید کو دینِ اسلام کے مرکزی اور اساسی عنوان کے طور پر پیش کیا گیا ہے ۔ الرسالہ کی فکری اور دعوتی پیش کش کے مطابق توحید محض کوئی روایتی فقہی مسئلہ یا فلسفیانہ تجرید (Abstract Idea) نہیں ہے، بلکہ کائنات کے خالق و مالک کی حقیقی دریافت، انسانی زندگی کے لیے صراطِ مستقیم، اور انسان کے جملہ افکار، جذبات اور اعمال کو صرف اور صرف ایک اللہ کے لیے خاص کر لینے کی ہمہ گیر کیفیت کا نام ہے ۔ الرسالہ کے صفحات میں واضح کیا گیا ہے کہ تاریخی اعتبار سے توحید تمام انبیاء کا بنیادی دین رہا ہے جس کا سب سے بڑا مقابلہ مظاہر پرستی، نیچر پرستی اور خود ساختہ شرک سے رہا ۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے توحیدی انقلاب نے شرک اور سیاسی اقتدار کے گٹھ جوڑ کو توڑ کر تاریخ میں توحید پر مبنی ایک نئے دور کا آغاز کیا ۔ یوں الرسالہ میں توحید کا تصور معرفتِ الٰہی، قلبی کیفیات، انفرادی کردار کی تعمیر، اور فکری و سائنسی بیداری کے سرچشمے کے طور پر ایک مسلسل موضوع کے طور پر جلوہ گر رہا ہے ۔

توحید کا مفہوم، حقیقت اور شرک کی ماہیت

الرسالہ کے مطابق توحید کا تصور یہ ہے کہ اس وسیع کائنات کا ایک ہی خالق ہے، جس نے اپنے منصوبے کے تحت اسے بنایا ہے اور وہی تنہا اس کو چلا رہا ہے ۔ انسان کے لیے صحیح رویہ صرف یہ ہے کہ وہ کائنات کے دیگر اجزاء کی طرح اپنے خالق کا فرماں بردار بن کر رہے ۔ توحید کی حقیقت کو بیان کرتے ہوئے الرسالہ میں لکھا گیا ہے کہ: «توحید کا مطلب یہ ہے کہ خدا کو ایک مانا جائے ۔ یہ یقین کیا جائے کہ تمام طاقتیں اور ہر قسم کے اختیارات صرف ایک خدا کو حاصل ہیں۔ وہی تنہا عبادت کا مستحق ہے۔ عبادت کی قسم کا کوئی بھی فعل خدا کے سوا کسی اور کے لئے جائز نہیں» ۔ جب انسان اللہ رب العالمین کو اپنی ہستی کا مرکز بناتا ہے تو اسی کو توحید کہتے ہیں، اور اگر یہ مرکز اللہ کے سوا کوئی اور ہو تو وہ شرک ہے ۔ آدمی جب خدا کو معبود بناتا ہے تو وہ ایک حقیقی ہستی سے وابستہ ہوتا ہے اور طاقت کا سرچشمہ پا لیتا ہے، جبکہ غیر خدا کو معبود بنانا ایک ایسے توہماتی مفروضے سے جڑنا ہے جس کا خارج میں کوئی وجود نہیں ۔

الرسالہ میں واضح کیا گیا ہے کہ شرک کی اصل حقیقت «مظاہر پرستی» یا «نیچر پرستی (nature worship)» ہے ۔ خالق چونکہ براہ راست نظر نہیں آتا اور مخلوقات و مظاہر فطرت نمایاں دکھائی دیتے ہیں، اس لیے قدیم انسان نے چاند، سورج، ستارے، پہاڑ، سمندر اور دریا جیسی چیزوں کی ظاہری چمک دیکھ کر انہیں معبود کا درجہ دے دیا ۔ شرک اور توحید کے تقابل میں الرسالہ یہ نکتہ اٹھاتا ہے کہ مشرک انسان خدا کا منکر نہیں ہوتا، بلکہ اس کی گمراہی یہ ہوتی ہے کہ خدا کے لیے اس کے پاس صرف لفظی دعویٰ ہوتا ہے جبکہ اس کی حقیقی قلبی کیفیات اور تعظیم دوسری ہستیوں یا اکابر کے لیے ہوتی ہے ۔ اس کے برعکس سچا موحد وہ ہے جو اپنے تمام تر انسانی جذبات، محبت، خوف، طمع اور توکل کو صرف ایک اللہ کے لیے خاص کر لے ۔ خدا تمام یکتا پسندوں سے زیادہ یکتا پسند ہے اور وہ کسی نوعیت کی دوئی گوارا نہیں کرتا، وہ ہر قصور معاف کر سکتا ہے مگر شرک کو معاف نہیں کرے گا ۔

اسی تناظر میں الرسالہ میں کلمۂ توحید یعنی «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ» کی شرح کرتے ہوئے زور دیا گیا ہے کہ اس کا مطلب صرف «لا معبودَ إلا الله» یعنی صرف اللہ ہی معبودِ برحق ہے ۔ الرسالہ بعض متأخر یا خود ساختہ تشریحات کی سختی سے تردید کرتا ہے؛ مثلاً وحدتِ وجود کے تحت اسے «لا موجودَ إلا الله» کہنا، یا سیاسی نقطہ نظر سے متاثر ہو کر «لا حاکمَ إلا الله» کو اس کا لازمی مفہوم قرار دینا، یا شرک کی اقسام میں «شرکِ سیاسی» کا اضافہ کر کے عبادت کو حاکمیت و اطاعتِ سیاسی کے تابع بنا دینا، الرسالہ کی رو سے غیر علمی، بے بنیاد اور دین کی اصل حقیقت کو محدود اور یک رخا کرنے کے مترادف ہے ۔ توحید کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے عجز کا اعتراف کرتے ہوئے خدائے واحد کے آگے جھک جائے ۔

قرآن اور حدیث کے دائرے میں توحید کی نصوص

الرسالہ کے مقالات میں توحید کے اثبات کے لیے قرآنی آیات اور احادیثِ نبویہ سے بکثرت استدلال کیا گیا ہے۔

* **قرآنی نصوص:** الرسالہ سورۃ الاخلاص کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کرتا ہے کہ یہ سورت نہ صرف خدا کے ایک ہونے کی خبر دیتی ہے بلکہ یہ بھی بتاتی ہے کہ ایک ہونے کا مفہوم کیا ہے، یعنی خدا بے نیاز ہے، نہ اس کی اولاد ہے نہ وہ کسی کی اولاد ہے، اور کوئی اس کا ہمسر نہیں ۔ سورۃ ابراہیم کی آیت 10 («أَفِي اللَّهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ») سے وجودِ باری تعالیٰ اور توحید پر استدلال کرتے ہوئے لفظ «فاطر» (پھاڑنے والا) کو ایک قطعی دلیل قرار دیا گیا ہے ۔ سورۃ البقرہ کی آیت 165 («وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ») کی روشنی میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ سچے اہل ایمان کی سب سے نمایاں صفت اللہ سے شدید ترین محبت ہے ۔ سورۃ الانعام (آیت 153) کی بنیاد پر الرسالہ بتاتا ہے کہ اللہ کی صراطِ مستقیم ایک ہی ہے اور دوسری راہیں («سبل») اصل راستے سے جدا کر دیتی ہیں ۔ سورۃ الانبیاء کی آیت 25 کا حوالہ دے کر بیان کیا گیا ہے کہ تمام رسولوں کی طرف یہی وحی کی گئی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں لہٰذا اسی کی بندگی کی جائے ۔ نیز سورۃ المومنون کی آیت 117 («وَمَنْ يَدْعُ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ لَا بُرْهَانَ لَهُ بِهِ») سے استدلال کیا گیا ہے کہ ایک خدا کا وجود توحید پرست اور مشرک دونوں کے نزدیک مسلمہ ہے، لہٰذا متعدد خداؤں کے دعوے کی دلیل کا بار مشرک پر عائد ہوتا ہے ۔

* **احادیثِ نبویہ:** احادیث کے ضمن میں الرسالہ ارکانِ خمسہ والی مشہور حدیث نقل کرتا ہے جس کے مطابق اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے جن میں پہلا رکن اس بات کی گواہی دینا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے رسول ہیں ۔ ابن عباس کی روایت کردہ حدیث میں آتا ہے کہ اگر تمام آسمانوں، زمینوں اور ان کے درمیانی و زیریں وجود کو ترازو کے ایک پلڑے میں رکھا جائے اور دوسرے پلڑے میں «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ» کی گواہی رکھ دی جائے تو کلمۂ توحید کا پلڑا جھک جائے گا ۔ ایک اور حدیث کے مطابق وہ شخص آگ سے نکال لیا جائے گا جس نے «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ» کہا اور اس کے دل میں ایک جو، گیہوں یا ذرہ برابر بھی خیر ہو ۔ زید بن ارقم سے مروی حدیث میں اخلاص کے ساتھ یہ کلمہ کہنے والے کے لیے جنت کی خوشخبری ہے، اور اخلاص کا مفہوم یہ بتایا گیا کہ یہ کلمہ انسان کو محرمات سے روک دے ۔ مسند احمد کی حدیث کے مطابق «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ» کی شہادت جنت کی کنجی ہے ، جبکہ بیعت کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے جن بنیادی امور پر عہد لیا ان میں اس کلمے کا اقرار سرفہرست تھا ۔ اسی طرح اس روایت پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے جس کے مطابق لا الہ الا اللہ کا اقرار کر کے ایمان کی تجدید کا حکم دیا گیا ہے ۔

انبیاء کی دعوت اور تاریخی شواہد

الرسالہ کی تحریروں میں تاریخِ انسانی اور قصصِ انبیاء کے آئینے میں توحید کے سفر کو نمایاں کیا گیا ہے۔

* **حضرت ابراہیم علیہ السلام:** الرسالہ حضرت ابراہیم کے واقعے کو «تلاشِ حق کی کہانی نہیں بلکہ مشاہدۂ حق کی کہانی» قرار دیتا ہے ۔ حضرت ابراہیم تقریباً ساڑھے چار ہزار سال قبل عراق کے ایک ایسے ماحول میں پیدا ہوئے جہاں چاند، سورج اور تاروں کی پوجا رائج تھی ۔ انہوں نے فطرت اور اللہ کی نصرت سے شرک سے محفوظ رہ کر کائناتی شواہد میں توحید کو دیکھا اور ستاروں و سورج کے غروب ہونے پر اعلان کیا کہ وہ شرک سے بری ہیں اور اپنا رخ صرف اس ذات کی طرف کرتے ہیں جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ۔ جب قوم پر شرک کا ایسا تہذیبی غلبہ دیکھا گیا کہ وہ بات سمجھنے کے لیے تیار نہ تھی، تو اللہ کے حکم سے انہوں نے صحرا میں ایک نئی نسل تیار کرنے کا منصوبہ بنایا ۔

* **حضرت نوح اور حضرت ہود علیہما السلام:** حضرت نوح نے اپنی قوم کو پکار کر کہا کہ اللہ کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں اور میں تم پر بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں ۔ اسی طرح قومِ عاد کی طرف مبعوث حضرت ہود نے معبودانِ باطل سے برملا براءت کا اعلان کیا اور اللہ پر توکل کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کا رب صراطِ مستقیم پر ہے، یعنی توحید، عبادت، استغفار، توبہ اور شکر ہی دین کی اصل شاہراہ ہیں ۔

* **رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور دورِ اوّلین:** الرسالہ کے مطابق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کی گلیوں میں اعلان فرمایا: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ قُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ تُفْلِحُوا» (اے لوگو، لا الہ الا اللہ کہو، کامیاب ہو جاؤ گے)، جس کے جواب میں ابو لہب نے آپ پر پتھراؤ کیا اور جھوٹا کہا، مگر آپ 23 سال تک مصائب جھیلتے ہوئے دعوتِ توحید پر قائم رہے ۔ ہجرت کے موقع پر غار میں جب مشرکین سر پر پہنچ گئے تو آپ کا پرسکون جملہ تھا: «يَا أَبَا بَكْرٍ مَا ظَنُّكَ بِاثْنَيْنِ اللهُ ثَالِثُهُمَا» (اے ابوبکر! تمہارا ان دو کے بارے میں کیا گمان ہے جن کا تیسرا اللہ ہو)، جو توکل علی اللہ کا بے نظیر نمونہ ہے ۔

* **تاریخی توحیدی انقلاب اور سائنسی ترقی:** الرسالہ کے مطابق اسلام سے قبل شرک کو نہ صرف مذہبی بلکہ سیاسی اقتدار حاصل تھا اور وقت کی حکومتیں اس کی پشت پناہ تھیں ۔ پیغمبرِ اسلام کے ذریعے برپا ہونے والے انقلاب نے شرک اور سیاسی نظام کا رشتہ ہمیشہ کے لیے منقطع کر دیا، اور شرک کو ایک جارح اور با اقتدار نظام سے ہٹا کر محض ایک ذاتی عقیدے میں تبدیل کر دیا ۔ الرسالہ آرنلڈ ٹوائن بی کے حوالے سے یہ نکتہ پیش کرتا ہے کہ جب تک مظاہرِ فطرت انسان کے لیے پرستش کا موضوع (Object of Worship) بنے ہوئے تھے، اس وقت تک وہ تحقیق کا موضوع (Object of Investigation) نہیں بن سکتے تھے؛ اسلام نے توحید کے ذریعے فطرت کے جھوٹے تقدس کو توڑا اور اسے تسخیر و سائنسی تحقیق کا موضوع بنا دیا، جس سے جدید دور اور آزادیٔ فکر کی راہیں ہموار ہوئیں ۔

مولانا وحید الدین خاں کے افکار میں تصورِ توحید

الرسالہ میں توحید کا نظریہ جس فکری اسلوب میں سامنے آتا ہے اس کے نمایاں خدوخال درج ذیل ہیں۔

1. **فکر اور کردار کی وحدت:** الرسالہ کے نزدیک اسلام میں توحید کوئی بے جان فلسفہ نہیں ہے۔ «اسلام کے نزدیک وہی شخص موحد ہے جو وحدت فکر کے ساتھ وحدت کردار کا بھی حامل بن جائے» ۔ توحید کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ انسان جس طرح کائنات کے خالق و مالک کو ایک مانے، اسی طرح یہ بھی تسلیم کرے کہ اسی ایک ہستی کے آگے وہ جواب دہ ہے، چنانچہ آخرت کا عقیدہ بالواسطہ طور پر عقیدۂ توحید ہی کا جزو بن جاتا ہے ۔

2. **کلمے کی معنوی دریافت، نہ کہ محض منتر:** الرسالہ اس بات پر مسلسل اصرار کرتا ہے کہ کلمۂ توحید «کوئی لفظی منتر نہیں ہے جس کا صرف لسانی تلفظ کر لینا کافی ہو» ۔ حدیثِ پاک میں جو وارد ہوا ہے کہ «جددوا ايمانكم بقول لا اله الا الله» تو اس کا مطلب محض زبان سے الفاظ کا دہرانا یا تکرار نہیں بلکہ فکر کی گہرائی کے ذریعے ایمان کی تقعیر اور تجدید ہے ۔ کلمے کی اصل قیمت اس وقت ہے جب انسان کے دل میں خدا کا خوف اور اخلاص موجود ہو ۔

3. **معرفتِ الٰہی کا نقطۂ آغاز:** الرسالہ کے مطابق دین کا آغاز معرفت سے ہوتا ہے ۔ انسان کائنات، گردشِ لیل و نہار اور فطرت کے شواہد پر غور کر کے جب اپنے خالق کو ایک زندہ ہستی کے طور پر پاتا ہے تو اس کی خود سپردگی (surrender) عمل میں آتی ہے ۔ کائنات کی ہر شے خدا کی میزان اور حق و عدل کی گواہ ہے ۔

4. **سلبی اور ایجابی ترتیب:** الرسالہ یہ فکری نکتہ بیان کرتا ہے کہ جس طرح کلمۂ توحید میں پہلے نفی ہے اور پھر اثبات («لَا إِلٰهَ» کے بعد «إِلَّا اللهُ»)، اسی طرح فکری سطح پر بھی انسان کو پہلے اپنے غیر ربانی مائنڈ سیٹ کے خول سے باہر آنا پڑتا ہے، ذہن کو تعصبات سے پاک کر کے ایک آبجیکٹیو مائنڈ (objective mind) بننا پڑتا ہے، تب ہی جا کر وہ حق اور قرآن کے صحیح فہم تک پہنچ سکتا ہے ۔

5. **غلو سے اجتناب:** الرسالہ دین اور توحید کے نام پر انتہا پسندی اور غلو کی سختی سے مخالفت کرتا ہے ۔ الرسالہ کے مطابق کسی بات کو اس کی آخری منطقی حد تک لے جا کر شدت پسندانہ فتوے صادر کرنا غلط ہے؛ چنانچہ کلمہ گو مسلمانوں کو محض بعض کمزوریوں کی بنا پر دائرۂ اسلام سے خارج کر دینا یا ان کے اعمال کو کلیتاً باطل قرار دینا دین میں غلو ہے جس سے بچنے کی تاکید احادیث میں آئی ہے ۔

توحید کے عملی، اخلاقی اور نفسیاتی تقاضے

الرسالہ میں توحید کے عملی مطالبات کو اخلاقی اور نفسیاتی زندگی سے جوڑا گیا ہے۔

* **عبادات اور ربانی کردار:** توحید کے تقاضے عبادات اور اخلاقیات دونوں پر محیط ہیں ۔ ارکانِ اسلام مثلاً نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج اسی عقیدے کے عملی مظاہر ہیں ۔ حج کو الرسالہ «حق تعالیٰ سے ملاقات» اور شعوری و شہودی سطح پر بندگی کا تجربہ قرار دیتا ہے جہاں حاجی کی زبان پر ہر آن توحید و تکبیر کے نعرے گونجتے ہیں ۔ نمازِ عید اور قربانی کے موقع پر بھی موحد کا یہ عہد زندہ ہوتا ہے کہ اس کی نماز، اس کی قربانی، اس کا جینا اور مرنا صرف اللہ رب العالمین کے لیے ہے ۔

* **عجز و فروتنی اور کبر کی نفی:** الرسالہ کی رو سے سچی معرفت اور عبادت کا نقطۂ انتہا عجز کا اعتراف ہے، یعنی یہ ادراک کہ «انسان عاجز مطلق ہے اور خدا قادرِ مطلق ہے» ۔ انسان چاہے جتنی عبادت کر لے، اس کا احساس یہی رہتا ہے کہ وہ عبادت کا حق ادا نہ کر سکا ۔ یہی احساس انسان کے اندر سے کبر اور فخر کی نفسیات مٹا کر عاجزی پیدا کرتا ہے، جبکہ زمین میں اکڑ کر چلنا صراطِ مستقیم سے انحراف ہے ۔ ندامت اور توبہ انسان کا امتیازی وصف ہے، اور جب بندہ گناہوں کے بعد پکارتا ہے کہ تیرے سوا کوئی گناہ بخشنے والا نہیں تو اللہ اس پر خوش ہوتا ہے ۔

* **دل کی سلامتی اور اخلاص:** نجات کی بنیاد «قلبِ سلیم» ہے، جس کی تفسیر مفسرین کے حوالے سے شرک سے پاک دل اور لا الہ الا اللہ کی تصدیق بیان کی گئی ہے ۔ اللہ کے ہاں اعمال کی قبولیت کا دارومدار اخلاص پر ہے، جسم اور صورتوں پر نہیں ۔ ایمان کی ستر سے زیادہ شاخیں ہیں جن میں بلند ترین شاخ لا الہ الا اللہ کا اقرار اور ادنیٰ درجہ راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹانا ہے ۔

* **مخالفین کے معبودوں کے لیے رویہ:** الرسالہ قرآنی ہدایت (سورۃ الانعام: 108) کے حوالے سے یہ عملی اصول سکھاتا ہے کہ موحدین کو چاہیے کہ وہ غیر اللہ کے معبودوں کو برا نہ کہیں، کیونکہ اس اشتعال کے نتیجے میں دوسرے لوگ بے علمی کی بنا پر سچے معبود کی شان میں گستاخی کرنے لگیں گے ۔

* **اقامتِ دین اور تفرق فی الدین سے اجتناب:** الرسالہ کے مطابق اقامتِ دین درحقیقت سچے دل سے موحد بننے اور ایک اللہ سے لَو لگانے کا نام ہے ۔ توحید کی اصل شاہراہ کو چھوڑ کر سیاسی عنوانات، غلبۂ اقتدار کی تحاریک یا دیگر عنوانات کو اصل مقصد بنا لینا «تفرق فی الدین» ہے ۔ مومن کا مقصودِ حیات رضا الٰہی اور آخرت کی فلاح ہونا چاہیے ۔

الرسالہ کے ادوار میں موضوع کا ارتقاء (۱۹۷۷ء تا ۲۰۲۶ء)

الرسالہ کے قارئین اس بات کا بخوبی مشاہدہ کر سکتے ہیں کہ مجلے کے نصف صدی پر محیط سفر میں توحید کا موضوع کس طرح تدریجی وسعت کے ساتھ جاری رہا۔

* **ابتدائی دور (۱۹۷۷ء تا ۱۹۸۹ء):** اس دور کے مضامین میں توحید کی بنیادی تعریف، کلمۂ توحید کی حقیقت، ارکانِ اسلام کی تفہیم اور انبیاء (بالخصوص حضرت ابراہیم، حضرت نوح اور حضرت ہود علیہم السلام) کی سیرت کے ذریعے توحید و شرک کے فرق کو اجاگر کیا گیا ۔ اسی دور میں الرسالہ نے توحید کے تاریخی و تمدنی اثرات کا مقدمہ قائم کیا کہ کس طرح نبی اکرم کے لائے ہوئے انقلاب نے شرک کا سیاسی تسلط توڑا، فطرت کے جھوٹے تقدس کی نفی کر کے سائنسی ترقی کے دروازے کھولے، اور یہ واضح کیا کہ موجودہ دور میں فکری غلبے کا مرحلہ دلائل و براہین سے سر انجام دیا جانا ہے ۔

* **درمیانی دور (۱۹۹۰ء تا ۲۰۰۹ء):** نوے کی دہائی اور اکیسویں صدی کے اوائل میں الرسالہ نے عقیدۂ توحید کے باطنی اور اخلاقی پہلوؤں یعنی قلبِ سلیم، اخلاص، توبہ، اور معرفت کے داخلی تجربے پر خصوصی زور دیا ۔ اس دور میں اس امر پر شدید فکری تنقید کی گئی کہ توحید کو سیاسی نظریات یا حاکمیت کے اصطلاحی فریم ورک میں ڈھال کر پیش کیا جائے، اور یہ زور دیا گیا کہ «لا الہ الا اللہ» خالصتاً معبودیت کی یکتائی کا اعلان ہے ۔ ساتھ ہی یہ فکر گہری ہوئی کہ انسان قدیم دور میں مظاہر کی نیچر پرستی میں مبتلا تھا اور جدید دور میں اس نے مخلوق کو اپنا مرکزِ توجہ بنا رکھا ہے، حالانکہ دونوں کی روح شرک ہی ہے ۔

* **بعد کا دور (۲۰۱۰ء تا ۲۰۲۶ء):** بعد کے شماروں میں توحید کو ایک ہمہ گیر فکری ماڈل، کائناتی شعور اور انسانی شخصیت کی کلی تعمیر (ربانی انسان) کے طور پر پیش کیا گیا ۔ الرسالہ واضح کرتا ہے کہ توحید اور امن دعوتِ نبوی کے دو لازم و ملزوم اجزاء رہے ہیں ۔ معرفتِ الٰہی کو انسانی وجود کا سب سے بڑا اعزاز قرار دیا گیا جسے الرسالہ دنیا کی سب سے پاکیزہ چیز بتاتا ہے ۔ اس دور کی تحریروں میں یہ بات بار بار دہرائی گئی کہ تاریخ کا رخ خدا کے تکوینی منصوبے کے تحت دینِ توحید کی تائید میں موڑ دیا گیا ہے، تاکہ انسان مکمل آزادی کے ساتھ صراطِ مستقیم پر چلتے ہوئے اپنے خالق کو دریافت کرے اور اس کے سامنے سرنگوں ہو جائے ۔

اس طرح الرسالہ کے آغاز سے لے کر اس کے آخری ادوار تک، عقیدۂ توحید ایک مستقل، مرکزی اور حرکی اساس کے طور پر پوری وضاحت سے جاری و ساری رہا ہے ۔

حوالہ جات

scan

Open the whole page ›