ہمت کے ذریعہ
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۲، صفحہ ۱۱
ہمت کے ذریعہ
سیف اللہ خاں (پیدائش ۱۹۵۲) ایک نوجوان انجینئر ہیں۔ وہ ٹونک (راجستھان) کے ایک شریف خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے گھر کے مالی حالات اچھے نہ تھے۔ ہائر سکینڈری میں انھوں نے سائنس لی تھی مگر اچھے نمبر نہ لاسکے۔ ہائر سکینڈری کا نتیجہ آیا تو اس نے ان کو صرف یہ خبر دی کہ وہ "علم کے دروازہ" میں داخل ہونے کی کوشش میں ناکام ہو چکے ہیں۔
سیف اللہ خاں بازی ہار چکے تھے مگر وہ ہمت نہیں ہارے تھے۔ ہائر سکینڈری کے امتحان میں ناکامی نے ان کے اندر حوصلہ کا ایک نیا طوفان پیدا کر دیا۔ انھوں نے محسوس کیا کہ گھر کے حالات ان کے لئے مزید تعلیمی جدوجہد کے سلسلہ میں حوصلہ افزا ثابت نہ ہوں گے۔ انھوں نے ایک نئے اقدام کا فیصلہ کیا۔ وہ اپنا آبائی وطن ٹونک چھوڑ کر بھوپال چلے گئے اور جاتے ہوئے یہ کہہ گئے کہ اب میں ٹونک اسی وقت واپس آؤں گا جب کہ میں انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کرلوں۔
سیف اللہ خاں بھوپال میں اکیلے تھے۔ مگر اکیلے ہو کر انھوں نے اپنے کو زیادہ طاقت ور بنا لیا تھا۔ اب نہ ان کے شاعر دوست تھے جو اپنی "تازہ غزل" سنا کر ان کا وقت چھیننے کی کوشش کریں، نہ گھر کے وہ حالات ان کے سامنے تھے جو ان کے ذہن کو مسلسل منتشر کرتے رہتے تھے۔ نہ وہ ماحول تھا جو ان کی ناکامی کو یاد دلا کر ان کے حوصلے پست کر دیتا تھا۔ اب وہ تھے اور ان کی جدوجہد تھی۔ انھوں نے ٹیوشن کے ذریعہ اپنی ضروریات کا انتظام کیا اور خاموشی کے ساتھ تعلیمی محنت میں لگ گئے۔ ہر سہارے کا ٹوٹنا ان کے لئے زیادہ بڑا سہارا بن گیا۔ کیوں کہ اس نے ان کی چھپی ہوئی تمام قوتوں کو جگا دیا تھا۔
سیف اللہ خاں نے بھوپال میں اپنے مقصد کی تکمیل کے لئے بے پناہ جدوجہد کی۔ پہلے انھوں نے انجینئرنگ کا ڈپلوما لیا۔ اس کے بعد ان کو بھوپال میں ایک ملازمت مل گئی۔ اب وہ ٹیوشن کی دوڑ دھوپ سے آزاد ہو گئے۔ تاہم انھوں نے تعلیم نہیں چھوڑی۔ ملازمت کے دوران ہی انھوں نے بھوپال سے ،۷۰ میل دور ودیشہ کے انجینئرنگ کالج میں داخلہ لیا اور بالآخر وہاں سے انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کر لی۔ تقریباً آٹھ سال تک ان کا معمول یہ تھا کہ صبح ہم بجے اٹھنا، دو گھنٹہ ریل کے سفر کے بعد ودیشہ پہنچنا، وہاں کلاس میں حاضری دے کر واپس آنا اور پھر ملازمت کی ڈیوٹی انجام دینا اور اس سے فراغت کے بعد کورس کی کتابیں پڑھنا۔ اس دوران ان کے گھر میں کئی اتار چڑھاؤ آئے۔ بھوپال کے تقریباً دس سالہ قیام میں ان کو طرح طرح کے خطوط ملتے رہے۔ مگر وہ ہر خط کو پڑھ کر نہایت خاموشی سے رکھ دیتے۔ وہ یکسوئی کے
‹ Previous page Next page › Contents of January 1982 All issues