کام پر انعام
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۲، صفحہ ۱۲
کام پر انعام
روس کے سابق وزیر اعظم مسٹر خروشیف اور مسٹر بلگانن ۱۹۵۶ میں ہندوستان آئے تھے۔ مسٹر خروشیف کو بتایا گیا کہ دہلی یونیورسٹی نے طے کیا ہے کہ آپ کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری دے۔ انھوں نے طنزیہ انداز میں کہا:
In Russia we have to work for it
روس میں اس کے لئے، ہمیں کام پیش کرنا پڑتا ہے (ٹائمس آف انڈیا ۱۲ جون ۱۹۸۰) کسی قوم کی زندگی کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ اس میں خطابات اور مناصب اور اعزازات حقیقی کام کی بنیاد پر دئے جاتے ہوں نہ کہ سیاست اور خوشامد کی بنیاد پر۔ اہلیت کی بنیاد پر جب کسی کو کوئی اعزاز ملتا ہے تو لوگ اس کو ایک ہونے والے واقعہ کی حیثیت سے قبول کر لیتے ہیں۔ لوگوں کے اندر یہ جذبہ ابھرتا ہے کہ ہم بھی اسی طرح محنت کریں تاکہ ہم کو بھی یہ مقام ملے۔ اس کے برعکس جب اہلیت کے بغیر کسی کو کوئی اعزاز دیا جائے تو لوگوں کے اندر اس کا سخت رد عمل ہوتا ہے۔ اب ایک دوسرے کے بارے میں بے اعتمادی کی فضا پیدا ہوتی ہے۔ محنت کرکے پانے کا جذبہ سرد پڑ جاتا ہے۔ اس کے بجائے ادھر اُدھر کی تدبیروں سے حاصل کرنے کا جذبہ فروغ پاتا ہے اور بالآخر پورے سماج کی فضا خراب ہو جاتی ہے۔
اہلیت کے بجائے دوسری بنیادوں پر انعام دینے کا رواج خود ہمارے مذہبی اداروں میں بھی چل پڑا ہے۔ آج ایک مذہبی ادارہ میں سب سے بڑی لیاقت نیازمندی ہے اور سب سے بڑی نا اہلی یہ ہے کہ آدمی نیازمند بن کر نہ رہتا ہو۔ ایک آدمی اگر اپنے گروپ کا ہے تو اس کے ساتھ فیاضی کا معاملہ کیا جائے گا اور اگر وہ اپنے گروپ کا نہیں ہے تو اس کے ساتھ تنگ ظرفی کا معاملہ ہوگا۔ کوئی شخص تنقیدی مزاج رکھتا ہو تو ان اداروں میں اس کی کوئی قیمت نہ ہوگی اور جو آدمی ہاں میں ہاں ملاتا ہو وہ ہر قسم کے اعزاز کا مستحق سمجھا جائے گا خواہ وہ کتنا ہی نااہل کیوں نہ ہو۔
اس صورت حال کا نتیجہ یہ ہے کہ آج ہمارے تمام اداروں میں علم اور محنت کی فضا ختم ہوگئی ہے۔ جہاں مقام حاصل کرنے کے لئے محنت اور قابلیت غیر اہم چیزیں بن جائیں، وہاں کسی کے اندر محنت اور قابلیت کا شوق کیوں پیدا ہوگا۔ آدمی اسی چیز پر اپنی توجہ لگاتا ہے جس کو وہ اپنے لئے عزت اور ترقی کا زینہ سمجھتا ہو۔ جب عزت اور ترقی محنت اور قابلیت کے بغیر سستی چیزوں کے ذریعہ مل رہی ہو تو کون احمق ہوگا جو سستی چیز کو چھوڑ کر مہنگی چیز کا خریدار بنے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1982 All issues