روش
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۲، صفحہ ۱۶
رب
یہ ۳۱ جنوری ۱۹۶۷ کا واقعہ ہے جب کہ راقم الحروف لیبیا جاتے ہوئے ۳۹ گھنٹہ کے لئے روم (اٹلی) میں ٹھہرا تھا۔ روم کی یادوں میں سے ایک یاد وہ جرمن پادری ہے جس سے وہاں میری ملاقات ہوئی: Dr. Hans Georg Asmussen P r o p s t Beselerstrabe 28-2240 Heide Telefon (0481) 3220 W. Germany. ایک موقع پر میں نے دیکھا کہ موصوف عربی انجیل کا مطالعہ کر رہے ہیں، اس سے میں نے سمجھا کہ وہ عربی زبان جانتے ہیں گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ مجھے بائبل اور اس سے متعلقہ لٹریچر کے مطالعہ کا شوق ہے۔ میرے پاس انگریزی میں چھپی ہوئی چیزیں موجود ہیں۔ مگر میں بائبل کا مکمل عربی ترجمہ حاصل کرنا چاہتا ہوں ۔ میرا مقصد صرف ناشر کا پتہ پوچھنا تھا تاکہ وہاں سے عربی بائبل منگائی جاسکے۔ مگر پادری موصوف نے ناشر کا پتہ بتانے کے بجائے خود میرا پتہ دریافت کیا اور اپنی ڈائری میں میرا پتہ نوٹ کرتے ہوئے کہا : میں آپ کو عربی بائبل بھجواؤں گا ۔
اس واقعہ کو تقریباً ایک برس گزر چکا تھا اور میں نے سمجھ لیا تھا کہ پادری صاحب یا تو اپنا وعدہ بھول گئے یا انھوں نے کتاب روانہ کی اور وہ کسی وجہ سے مجھ تک نہیں پہنچی۔ مگر فروری ۱۹۷۷ء کی ایک تاریخ کو ڈاک میں ایک پیکٹ ملا۔ کھولا تو اس کے اندر پرانے اور نئے عہد نامہ پر مشتمل ”الکتاب المقدس“ کا ایک نیا نسخہ موجود تھا۔ فولڈنگ جلد کے ساتھ بائبل پیپر پر چھپا ہوا یہ خوبصورت نسخہ ۴۸۶ صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کو دیکھنے سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ روانگی میں تاخیر کا امکانی سبب کیا تھا۔ پرنٹ لائن کے مطابق بائبل کا یہ عربی نسخہ کو ریا میں ابھی ۱۹۷۶ء میں چھپا ہے۔ غالباً پادری موصوف کے پاس یا ان کے ادارہ میں عربی نسخے ختم ہو گئے تھے اور جیب کوریا سے چھپ کر وہ نہیں پہنچے ہیں تو حسب وعدہ انھوں نے فوراً اس کی روانگی کا انتظام کیا۔
پادری موصوف کے نام جب میں نے شکریہ کا خط روانہ کیا تو خیال آیا کہ کاش ہم بھی اسی طرح ”شکریہ کے خطوط“ وصول کرنے کی پوزیشن میں ہوتے۔ آج ساری دنیا میں بے شمار لوگ ہیں جو قرآن کو اپنی زبان میں پڑھنا چاہتے ہیں۔ مگر ہم ان کو قرآن کے ترجمے ان کی زبان میں اس طرح فراہم نہیں کر سکتے جس طرح مسیحی حضرات دنیا کی تمام زبانوں میں اپنی مقدس کتاب کو
‹ Previous page Next page › Contents of January 1982 All issues