Al-Risala · January 1982 · page 17

تاریخ ساز بیٹے

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۲، صفحہ ۱۷

خوش

تاریخ ساز بیٹے

ایک بزرگ نے ایک تعلیمی ادارہ قائم کیا شروع میں مر را ایک شاگرد سر اور ایک استاد تھا۔ وہ زندگی کے آخری ایک بزرگ کے ایک تعلیمی ادارہ قائم کیا۔ شروع شروع میں اس تعلیم گاہ کو بڑی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اساتذہ کو وقت پر تنخواہیں نہ ملتیں ۔ طلباء کے لیے بعض اوقات کھانے کا انتظام نا ممکن ہو جاتا۔ چھپر کے سایہ کے نیچے تعلیم دی جاتی۔ اس طرح کی بے شمار دشواریوں کے درمیان اس درس گاہ کو سفر کرنا پڑا۔

مگر دشواریاں جس طرح آدمی سے کچھ چیزیں چھینتی میں ایک نیا جوش پیدا ہو گیا۔ وہ زندگی کی ایک اعلی ترین اخلاقی قدر سے آشنا ہوئے ۔ یہ کہ مستقبل کی تعمیر کے لیے حال میں جدوجہد کی جائے ۔ یہ قدر نفسیاتی طور پر اس وقت ان کے لیے لامعلوم رہتی جب کہ وہ ایسے حالات میں نہ ہوتے ۔ اسی طرح ناظم درس گاہ کی زبان سے بھی ہر گز یہ الفاظ نہ نکلتے اگر وہ آسودگی اور فارغ البالی میں ہوتے۔ ناظم اسی لیے یہ الفاظ بول سکے اور سننے والے اسی لیے ان میں، اسی طرح وہ اسے کچھ چیزیں دیتی بھی ہیں ۔ ظاہری اسباب کی کمی کی وجہ سے مریم کو بڑھانے کا سبب مل سکتا ہے۔ اسباب میں عزوم وہمت کو بڑھانے کا سبب بھی ہے۔ ایسے جذبات اس کے اندر پیدا ہوتے ہیں جو فرادانی کے اندر کبھی پیدا نہیں ہوتے۔

اس تعلیمی ادارے کے ابتدائی زمانہ کا واقعہ ہے ایک روز سارے ادارے میں اداسی چھائی ہوئی تھی ۔ حالات بے حد نامساعد نظر آ رہے تھے۔ درس گاہ کے ناظم نے طلبا و اساتذہ کا ایک اجتماع کیا جب وہ تقریر کرنے کھڑے ہوئے تو بے اختیار ان کی زبان سے نکلا۔ "موجودہ حالات میں ممکن ہے آپ کا جی ماتمت کرنا نہ ہو کہ آپ کہاں آ کر پھنس گئے۔ کسی بنی بنائی درس گاہ میں گئے ہوتے تو آرام سے رہ سکتے تھے۔ مگر یہ گھبرانے کی بات نہیں کیونکہ دوسرے اگر حال کے وارث ہیں تو یہاں آپ ایک نئے مستقبل کی تعمیر کر رہے ہیں لوگ تاریخ خواں ہوتے ہیں مگر آپ کو قدرت نے ایک ایسے مقام پر کھڑا کیا ہے کہ آپ تاریخ ساز بن سکتے ہیں۔ "

یہ الفاظ جن حالات میں کہے گئے تھے اس کے اعتبار سے وہاں اس نے بجلی کا کام کیا۔ طلبہ اور اساتذہ ایں یہ رہی ہیں سکتا تھا۔

جو لوگ اپنے آپ کو مشکل حالات میں پائیں وہ اسے اپنی بد قسمتی تصور کرتے ہیں حالانکہ یہ صرف سمجھنے کی غلطی ہے اگر صحیح ذہن ہو اور عزم بیدار ہو تو مشکل حالات اس سے زیادہ بڑی چیزیں دیتے ہیں۔ جو آسانیوں اور راحتوں میں کسی کو ملتی ہے۔ دشواریاں آپ کو اعلیٰ ترین انسانی قدروں سے آشنا کرتی ہیں۔ آپ کے اندر سوز و درد پیدا کر کے آپ کے کلام کو بے پناہ بنا دیتی ہیں۔ مشکلات کو عبور کرنے کا نیا ولولہ پیدا کرتی ہیں اور بالآخر آپ کو ان بلند ترین انسانوں میں شامل کرتی ہیں جن کو تاریخ خواں کے مقابلے میں تاریخ ساز کہا جاتا ہے۔

اب خدا کے فضل سے یہ ادارہ

"چھپر" کے دور سے نکل کر بلڈنگ" کے دور میں داخل ہو چکا ہے اور تعلیم کے میدان میں ملت کو ایک نئی راہ دینے کے لیے کوشاں ہیں۔ ہر بار جب کوئی شخص نیا کام شروع کرتا ہے تو اس میں تذبذب کا مرحلہ لازماً آتا ہے، لیکن اگر وہ جارہے ہے استحکام کے مرحلہ پر پہنچنے سے بھی کوئی اسے روک نہیں سکتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1982 All issues

Printed page