Al-Risala · January 1982 · page 14

ڈاکٹر تارا چند

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۲، صفحہ ۱۴

ڈاکٹر تارا چند

جنہوں نے اسلامی تاریخ پر مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی تھی۔

ڈاکٹر تارا چند (۱۸۸۸ - ۱۹۷۳) فارسی زبان بہت اچھی جانتے تھے۔ اسی لیے پنڈت نہرو نے ۱۹۵۲ء کتاب لکھی ۔ اس کتاب کی تیاری میں اپنی آخری زندگی کے ہم سال صرف کئے ۔ اس کتاب کی پہلی جلد ۱۹۲۱ میں اور چوتھی جلد ۱۹۳۷ء میں شائع ہوئی۔ مسٹر شترس رام نے بجاطور پر لکھا ہے کہ یہ کتاب ڈاکٹر تارا چند کے غیر جانب دارانہ رائے قائم کرنے کا حیرت انگیز Dispassionate Judgment . ہے اور اس کا تعلق کانگرس کا مسا الگ میں ان کو ایران کا سفیر مقرر کیا تھا۔ انھوں کے مراہر رامنشد کا فارسی ترجمہ ، از دارا شکوه ) کو ایڈٹ کیا تھا جس کو حکومت ایران نے خصوصی اہتمام کے ساتھ چھپوایا ۔ ۱۹۱۳ میں انھوں نے میور سنٹرل کالج الہ آباد سے امتیاز کے ساتھ تاریخ میں ایم اے کیا۔ اس کے بعد وہ کاستھ پاتھ شالہ (ڈگری کالج) میں استاد ہو گئے۔ کاستھ پاتھ شالہ ٹرسٹ کے صدر کرنل رنجیت سنگھ ان کی صلاحیتوں سے متاثر ہوئے۔ انھوں نے ٹرسٹ کے اگزیکیٹیو کے سامنے تجویز پیش کی کہ نوجوان استاد کو ریسرچ موزہ ہے۔ ۱۹۳۷ء میں یوپی میں کانگریس کی کابینہ کو وزارت میں شریک نہ کرنا ایک انتہائی نزاعی مسئلہ ہے مگر اس کے بارے میں ڈاکٹر تارا چند نے لکھا : Admitting that there could be two opinions concerning the constitu- tional propriety of the decision to refuse the appointment of the Muslim leaguers to the Congress cabinet, it is difficult to justify its wisdom. (Vol. iv, P. 238)

یہ مانتے ہوئے کہ کانگریس کابینہ میں مسلم لیگی نمائندوں کو شریک کرنے کی قانونی اہمیت پر دو رائیں کے لیے یورپ بھیجا جائے، بیشتر ممبروں نے شدت سے اس تجویز کی مخالفت کی۔ مگر کرنل رنجیت سنگھ نے بزدور اس تجویز کو منظور کرایا اور ان کے سفر کے تمام انتظامات کیے۔

اس کے بعد ڈاکٹر تارا چند آکسفرڈ گئے۔ وہاں وہ کورنس کالج میں تین سال (۲۲-۱۹۱۹) رہے ۔ اور ہو سکتی ہیں، اس کی معقولیت کو ثابت کرنا سخت مشکل ہے۔ نیشنل ہیرلڈ (لکھنؤ)، نومبر ۱۹۷۴ء ڈاکٹر تارا چند کا خاتمہ، بظا ہر اس بات کی علامت تھا کہ غیر مسلموں میں وہ نسل اب ختم ہو گئی جو اردو، عربی، فارسی زبانیں جانتی ہو اور اسلامی تاریخ اور مسلم تہذیب کے پس منظر میں سوچنے کی علمی صلاحیت رکھتی ہو۔ مگر ڈی۔ فل کی ڈگری حاصل کی۔ ان کے مقالہ کا عنوان تھا، ہندوستانی کلچر پر اسلام کا اثر : The influence of Islam on Indian culture حکومت ہند کی وزارتِ تعلیم کے تحت انھوں نے ہندوستان کی آزادی کی تاریخ پر چار جلدوں میں ایک حالیہ برسوں میں ٹیٹرول کی کرامت نے از سر نو عربی اور فارسی کو زندہ کر دیا ہے۔ اب مسلمانوں سے زیادہ غیر مسلم ان موضوعات میں داخلے لے رہے ہیں۔ یہ بھی شاید بالواسطہ طور پر اس حدیث نبویؐ کی تصدیق ہے کہ یہ دین ہمیشہ زندہ رہے گا۔ سیاسی اور زمانی انقلابات کبھی اس میں کامیاب نہ ہوں گے کہ خدا کے دین کو ماضی کی چیز بنا کر تاریخ کی الماری میں بند کر دیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1982 All issues

Printed page