حادثات ہیرو بھی بنا دیتے ہیں
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۲، صفحہ ۲۰
ملائشیا
حادثات ہیرو بھی بنا دیتے ہیں
۳۱ اگست ۱۹۷۲ء کا واقعہ ہے۔ دہلی کے روز ری اسکول (نزدیک ریڈیو کالونی) کے میدان میں لڑکے جمع تھے۔ اتنے میں ایک کالا سانپ نکلا اور ایک چھ سالہ بچے کو لپیٹ لیا۔ بچہ چیخنے لگا اس کے ساتھی بھی چیختے ہوئے بھاگے۔ چیخ پکار اسٹاف روم تک پہنچی اور اسکول کی استانیاں بچہ کی طرف دوڑیں۔
مگر اس کا خوفناک حال دیکھ کر سب سہم گئیں۔ اتنے میں ایک استانی خاموشی کے ساتھ آگے بڑھی۔ اس کے ہاتھ میں صرف ایک اخبار تھا۔ اس نے اخبار کو سانپ کے منہ پر رکھا اور پوری طاقت سے اس کو پکڑ کر بچے کے پاؤں سے الگ کر دیا۔ لڑکا نہیں آتا کہ میں نے اس موذی سانپ کو اپنے ہاتھوں سے پکڑ لیا تھا۔ اب تو مجھے اس کو سوچ کر بھی ڈر لگتا ہے" یہ دراصل "حادثہ" تھا، جس نے مسز جان کو اس حیرت ناک بہادری کے لئے آمادہ کیا۔ حادثات آدمی کو ہیرو بنا دیتے ہیں۔
مولانامحمد علی (۱۹۳۱-۱۸۷۸) جب بیتول جیل میں نظر بند تھے ، ان کی اہلیہ جیل خانہ میں ان سے ملاقات کے لئے گئیں ۔ انھوں نے اپنے شوہر مولانا محمد علی سے کہا :
"تم ہماری فکر نہ کرنا۔ خدا ہی پہلے بھی رازق تھا اور اب بھی وہی رازق ہے۔ تم صرف ایک واسطہ تھے۔ اور خدا بلا واسطہ بھی دے سکتا ہے اور دوسرا واسطہ بھی بنا سکتا ہے" اس پر ان کو انہوں نے فرمایا "اچھا مگر اس کے ہندو رانا اسپتال میں لے جایا گیا۔ جہاں وہ چند دن کے علاج سے اچھا ہو گیا۔ سانپ کو اسپتال کی لیبوٹری میں پہنچا دیا گیا جہاں وہ زندہ حالت میں موجود ہے ۔
استانی کا نام مسز جان ہے ۔ اور بچہ کا نام راجن کپور ۔
مسز جان نے اس سے پہلے کبھی سانپ نہیں دیکھا تھا انھوں نے اپنا تاثر بتاتے ہوئے کہا : ”مجھے یقین بی پیدا کر سکتا ہے۔ اس نے بجرا ئیوں کے یہاں رہا تمھارا کام، سو اگر اجازت ہو تو میں اسے کرتی ہوں“ مضامین محمد علی، جلد اول، صفحہ ۸۴ - ۸۳ چنانچہ انھوں نے کام شروع کیا اور دو سال کے عرصے میں ۴۵ لاکھ روپے کا چندہ خلافت تحریک کے لئے جمع کر لیا۔
یہ ۴۵ سال پہلے کا واقعہ ہے جب کہ ”لاکھ“ کا مطلب اس سے بہت زیادہ تھا جو آج سمجھا جاتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1982 All issues