پہلے کچھ سہنا پڑتا ہے
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۲، صفحہ ۲۱
پہلے کچھ سہنا پڑتا ہے
بعض قوموں میں گودنا گودنے کا رواج ہے، پہچان کے لئے یا تبرک کے لئے جسم کے کسی حصہ پر خاص شکلیں یا نام بنوالیتے ہیں۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ مطلوبہ شکل کے مطابق پہلے سوئی سے چھید کیا جاتا ہے اور پھر ان چھیدوں میں مسالہ بھر دیا جاتا ہے۔ اس طرح کالے رنگ کا نقشہ بن جاتا ہے جو عمر بھر رہتا ہے۔
قصہ ہے کہ ایک آدمی گودنا گودنے والے کے پاس گیا اور کہا کہ میرے ہاتھ پر شیر کی شکل بنا دو۔ گودنے والے نے اپنی سوئی اٹھائی اور نشان لگانا شروع کیا۔ سوئی کی چبھن آدمی کے لئے تکلیف دہ ثابت ہوئی۔ اس نے کہا ”کیا بنا رہے ہو“ گودنے والے نے کہا ”دم“۔ آدمی نے کہا ”کیا دم کے بغیر شیر نہیں ہوتا“۔ گودنے والے نے کہا اچھا۔ اور دوسری چیز بنانے لگا۔ اب پھر سوئی کی نوک چبھنے لگی۔ آدمی نے کہا اب کیا بنا رہے ہو۔ اس نے کہا ”پاؤں“۔ آدمی نے کہا ”کیا پاؤں ضروری ہے“ گودنے والے نے کہا ٹھیک ہے۔ اس کو چھوڑ دیتا ہوں۔ اب وہ دوسری چیز گودنے لگا۔ آدمی کے اندر پھر بے چینی پیدا ہوئی۔ اس نے کہا ”اب کیا بنا رہے ہو“۔ اس نے کہا ''جبڑا آدمی نے کہا کیا جبڑ اضرو ری ہے۔ تم بغیر جبڑے ہی کے شیر بنا دو، غرض اس طرح وہ ایک ایک چیز کو منع کرتا گیا اور بالآخر یہ ہوا کہ شیر کی تصویر نہ بن سکی، صرف چند متفرق نشانات اس کے ہاتھ پر بن کر رہ گئے۔ ہر مقصد کے لئے ابتداءً کچھ سہنا پڑتا ہے۔ اگر آدمی سہنے کے لئے تیار نہ ہو تو وہ کسی بھی مقصد کو حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔
عبدالحمید چھوٹانی (پیدائش ۱۹۲۳) پاکستان کے ایک ممتاز سائنس داں ہیں۔ وہ ممبئی آئے۔ اس موقع پر ایک اخباری رپورٹر نے ان سے انٹرویو لیتے ہوئے سوال کیا : ”انجینیرنگ کے میدان میں پاکستان اتنا پیچھے کیوں ہے، مسٹر چھوٹانی نے جواب دیا : ”یہ صحیح ہے کہ ہم انجینرنگ میں ابھی تک قابل قدر ترقی حاصل نہ کر سکے۔ اس کی خاص وجہ ہے ہمارے یہاں بنیاد (Base) کی کمزوری ۔ اکا دکا انڈسٹری سے آخر کتنی ترقی کی امید کی جاسکتی ہے (اخبار عالم ۱۴ اپریل ۱۹۷۹) یعنی تعلیم گاہیں اسی وقت انجینئر زیادہ پیدا کریں گی جب کہ ان کی کھپت کے لئے ملک میں زیادہ صنعتیں بھی موجود ہوں ۔ صنعتوں کی کمی ہو تو کوئی ملک زیادہ انجینئر پیدا نہیں کر سکتا۔
اسی طرح ہر کام کی ایک بنیاد ہوتی ہے ۔ بنیاد کے بغیر کوئی اقدام کبھی کامیاب نہیں ہوتا۔ مثلاً جمہوری دور میں سیاست کی بنیاد عوامی رائے ہے۔ اگر آپ کو عوامی ووٹروں کی اکثریت حاصل نہ ہو تو گویا آپ کے پاس وہ بنیادہی نہیں ہے جس پر الیکشن لڑے جاتے ہیں۔ ایسی حالت میں اگر آپ الیکشن میں کو دیں تو لازماً آپ ہاریں گے اور اگر آپ کے اندر اعتراف آمادہ نہیں ہے تو مزید یہ حماقت کریں گے کہ اپنی ہار کو چھپانے کے لئے یہ شور کریں گے کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی ہے۔ یہی نہیں بلکہ اگر موقع ملے گا تو فوج سے ساز باز کر کے مقبول عوام لیڈروں کو قتل کرائیں گے تاکہ آپ عوامی بنیاد نہ ہونے کے باوجود وہ حکومت کی گدی پر پہنچ سکیں۔ اگرچہ اس قسم کی کوشش کبھی کسی کے لئے نتیجہ خیز نہیں ہوئی ہے۔ مستقبل کے اعتبار سے، یہ ملک کی بربادی ہے اور بالآخر خود اپنے آپ کی بھی۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1982 All issues