خودنمائی کے شوق میں
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۲، صفحہ ۲۳
نیاز فتحپوری جب آپ دلدل میں پھنس جائیں ۱۹۰۹ء میں میرا تعلق ریاست باؤٹی کہ وہ (بدین کھنڈ) سے ہو گیا تھا۔ نواب ریاض الحسن خاں کا عہد حکومت تھا۔ اس وقت میرے بہنوئی محمد سلیمان خاں مودھا (ضلع ہمیر پور) کے تھانہ میں مامور تھے۔ اور میں ہر پندرہویں دن اپنی بہن کو دیکھنے وہاں چلا جاتا تھا۔ فاصلہ صرف دس بارہ میل کا تھا جسے میں گھوڑے پر طے کرتا تھا۔
میں شام کو کدورہ سے چلا۔ میں جاگیر بیری کے قریب پہنچا جو کدورہ سے صرف تین میل دور تھی تو آفتاب غروب ہو چکا تھا اور رات کا دھند لکا شروع ہو گیا تھا۔ جاگیر بیری ایک اونچی پہاڑی پر دریا کے کنارے واقع ہے اور مودھا جانے کے لئے اس دریا کو عبور کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اس دریا کے دونوں کناروں پر دور دور تک ریت پھیلی ہوئی ہے۔ میں ریت کے اس حصے کو معمولاً پیدل طے کرتا تھا کہ گھوڑے پر زیادہ بوجھ نہ پڑے۔ لیکن اس مرتبہ دیر ہو جانے وجہ سے میں گھوڑے پر سوار رہا اور اس کو تیز تر چلانے لگا۔ اس دریا کے متعلق مشہور تھا کہ اس کے کناروں پر کہیں کہیں چور بالو بھی پائی جاتی ہے۔ چور بالو سے مراد وہ رتیلا حصہ ہے۔ جو بظاہر صاف اور مسطح نظر آتا ہے لیکن پانی کی سطح سے قریب تر ہونے کی وجہ سے اس کے نیچے دلدل ہو جاتی ہے اور اس پر پاؤں رکھتے ہی آدمی ہو یا جانور اندر دھنسنے لگتا ہے۔ اس مرتبہ چونکہ مجھے جلدی تھی اس لئے معمولی راستہ سے ہٹ کر میں نے مختصر راستہ اختیار کرنا چاہا ۔ اور گھوڑے کو اسی طرف ڈال دیا۔ تھوڑی دور چل کر مجھے ایک رتیلی تنگنارے ملی۔ اور میں نے گھوڑے کو ایڑ لگائی تاکہ وہ اسے پھاند کر گزر جائے ۔ میں تاریکی میں اس کی چوڑائی کا صحیح اندازہ نہ کر سکا ۔ زیادہ سے زیادہ میں اسے تین گز کا سمجھتا تھا ۔ حالانکہ وہ چھ گز سے کم نہ تھا ۔ میرے ایڑ لگانے پر گھوڑے نے جست تو کی ، لیکن وہ اس فاصلہ کو عبور نہ کرسکا۔ اور اس کے اگلے پاؤں رتیلے حصے کے اندر ہی رہے۔ اس کے بعد دفعتاً گھوڑا اندر دھنسنے لگا تو مجھے پتہ چلا کہ میں چور بالو میں پھنس گیا ہوں۔ چور بالو سے جان بچانے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے، وہ یہ کہ اس سے نکلنے کے لئے ہاتھ پاؤں نہ مارے جائیں اس طرح آدمی اور اندر دھنستا چلا جاتا ہے۔ بلکہ اپنے آپ کو بالو پر چت یا پٹ ڈال دیا جائے۔ گھوڑا سینہ تک دھنس چکا تھا اور میں بھی اس کے ساتھ گھٹنوں گھٹنوں بالو کے اندر غرق تھا۔ غور کرنے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا کہ گھوڑے کو بچانا تو ممکن نہیں اس لئے اس کے ساتھ اپنی جان کیوں گنوائی جائے ۔ میں نے آہستہ آہستہ اپنے دونوں پاؤں رکاب سے الگ کرکے اوپر نکالے اور فوراً چور بالو پر بے حس و حرکت لیٹ گیا۔ اتفاق کی بات کہ اس وقت میری کے دورا چوپت گھر لوٹتے وقت میرے پاس سے گزرے ۔ اور میں نے انہیں آواز دی ۔ وہ دونوں دوڑے ہوئے آئے اور انہوں نے اپنی پگڑی کی کھول کر اس کا سرا میری طرف پھینکا تاکہ اسے مضبوط پکڑ لوں ۔ اور جب میں نے اسے دونوں ہاتھوں سے پکڑ لیا تو انہوں نے مجھے آہستہ آہستہ گھسیٹنا شروع کیا۔ اور میں اس چور بالو سے نکل گیا۔ اس کے بعد یہ سوال پیدا ہوا کہ گھوڑے کو کیوں کر نکالا جائے۔ اس کے لئے انہوں نے یہ ترکیب نکالی کہ پگڑی کا ایک سرا پھندا بنا اس کی گردن میں ڈالا جائے اور اس کو بھی گھسیٹا جائے ۔ میں لگام کا جھٹکا دینے لگا۔ مگر گھوڑا تھک کر اس قدر بے جان ہو گیا تھا کہ جھٹکے سے بھی اس کے جسم میں کوئی حرکت پیدا نہ ہوئی۔ اور آخر کار وہ دھنستے دھنستے غائب ہو گیا
‹ Previous page Next page › Contents of January 1982 All issues