Al-Risala · January 1982 · page 24

قدردانی

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۲، صفحہ ۲۴

قدردانی

میں جس زمانہ (ازستمبر ۱۹۶۲ تا جون ۱۹۶۳)

میں مگ گل یونیورسٹی (کناڈا) کے اسلامک ریسرچ اینڈ ایجوکیشن انسٹی ٹیوٹ سے بحیثیت معلم کے وابستہ تھا اس زمانہ میں ایک واقعہ یہ پیش آیا کہ مئی ۱۹۶۳ کے پہلے ہفتہ کویہاں بلوادیا جائے اور ان کے اسکالرشپ کی رقم میں اتنا اضافہ کر دیا جائے کہ سب مل کر آسانی سے گزارہ کر لیں۔ کچھ دیر بحث و گفتگو کے بعد اسمٹھ صاحب کی دونوں تجویزوں کو علی سبیل التبادل نہیں بلکہ علی سبیل الاجتماع منظور کر لیا گیا۔ چناں چہ مشیر صاحب ہندوستان آئے۔ تین مہینے کے قریب یہاں رہے اور پھر اپنی بیوی بچوں کو لے کر کناڈا واپس میں انسٹی ٹیوٹ کی گورننگ باڈی کی ایک میٹنگ ہوئی لوٹ گئے ۔

جس میں میں بھی شریک تھا اور پروفیسر ول فریڈ کیٹیول سمتھ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر کی حیثیت سے اس میں صدر نشین تھے، ڈائرکٹر کے لئے یہ تعلیم گاہ ایک ایسا مرکز تھی کہ جس کا (مولانا) سعید احمد اکبر آبادی (پیدائش ۱۹۰۸ء) ہمدرد ریسرچ انسٹی ٹیُوٹ، تغلق آباد، نئی دہلی تھے ۔ ایجوکیشن پر بہت سے تعلیمی مسائل کے ساتھ ایک مسئلہ یہ بھی تھا کہ انسٹی ٹیوٹ کے ایک طالب علم مسٹر مشیر الحق حالیہ پروفیسر اسلامیات جامعہ ملیہ) ایم۔ اے۔ کا امتحان دے چکے تھے اور اب وہ پی۔ ایچ ۔ ڈی میں داخلہ چاہتے اعتراف غالباً ۱۹۳۰ کا واقعہ ہے۔ جامعہ اسلامیہ تھے ۔ میٹنگ میں جب یہ مسئلہ زیر غور آیا تو پروفیسر فلیرا سمتھ ہائی اسکول گورکھ پور ( جو بعد کو اسلامیہ کالج بنا ) نے کہا کہ مشیر ایم۔ اے کے امتحان میں اچھے نمبروں سے کامیاب ہو جائیں گے اور اس بنا پر پی ایچ۔ ڈی میں داخلہ اور اس کے اسکالر شپ کے مستحق ہوں گے ہی لیکن اس سلسلہ میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ہمیں اس پر بھی غور کرنا چاہئے کہ مشیر شادی شدہ ہیں اور ان کے بچے بھی ہیں اور مشیر کو ان سے جدا ہوئے دو برس ہو چکے ہیں۔ ایک استاد مسٹر شرف الدین تھے۔ بہت ذہین اور لائق استاد تھے۔ انگریز انسپکٹر ایک روز ان کی کلاس کا معائنہ کرنے کے لئے آیا۔ اس وقت وہ غالباً نویں کلاس کو انگریزی زبان پڑھارہے تھے۔ انگریز انسپکٹر ان کی کلاس میں بیٹھ گیا اور ان کے درس کو سنتا رہا۔ بعد کو اس نے انسپکشن رپورٹ میں لکھا :

اب اگر یہ پی۔ ایچ۔ ڈی میں داخلہ لیتے ہیں تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ اب مزید تین برس اور یہ اپنی بیوی بچوں سے جدار ہیں گے اور یہ ایک جوان میاں بیوی کے لئے نا مناسب بات ہے، اس بنا پر میں دو تجویزیں پیش کرتا ہوں۔ ایک یہ کہ مشیر کے لئے ہندوستان آنے جانے کا انتظام کیا جائے تاکہ وہ موسم گرما کی تعطیل کے تین مہینے اپنے بچوں میں گزار لیں اور دوسری تجویز یہ ہے کہ ان کی بیوی اور بچوں میں نے مسٹر شرف الدین کی کلاس کا معائنہ نہیں کیا۔ بلکہ حقیقتاً ان کے کلاس میں شرکت کی ۔ وہ واقعی ایک لائق استاد ہیں۔

ڈاکٹر محمود قادری (پیدائش ۱۹۱۴ء)

قاسم جان اسٹریٹ ۔ دہلی ۱۱۰۰۰۶

‹ Previous page Next page › Contents of January 1982 All issues

Printed page