Al-Risala · January 1982 · page 26

محلہ کوٹ، بگراسی، ضلع بلند شہر

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۲، صفحہ ۲۶

کلاس میں صحت کی بات چھڑ گئی۔ ماسٹر صاحب صحت کے اصول لڑکوں کو سمجھارہے تھے۔ اتنے میں ایک طالب علم کھڑا ہوگیا۔ "ماسٹر صاحب" وہ بولا "اجازت ہو تو ایک بات دریافت کروں۔ " "ضرور"

"ماسٹر صاحب اس عمر میں آپ کی اتنی اچھی صحت ہے، اس کا راز کیا ہے؟ "

اس کے بعد ماسٹر صاحب نے اپنی کہانی بیان کرنی شروع کی۔ انھوں نے کہا۔ "یہ اس وقت کی بات ہے جب کہ میں تم سے بھی چھوٹا تھا اس وقت میں کلکتہ میں تھا، میری صحت بہت خراب ہوگئی، میں اتنا دُبلا اور کمزور ہوگیا کہ چلنا پھرنا مشکل ہو گیا ڈاکٹر بھی میرے علاج سے مایوس ہو گئے۔ ایک روز ڈاکٹر نے کہا "اس کو گھر لے جاؤ۔ اب یہ بچ نہیں سکتا" تاکہ یہ مرے تو اپنے ماں باپ کے پاس مرے۔ " "ڈاکٹر کو میری موت پر اتنا یقین تھا کہ اس نے میرے سامنے ہی یہ بات کہہ دی۔ مجھے ڈاکٹر کی بات سن کر بہت غصہ آیا۔ میں نے اپنے دل میں کہا "مجھے زندہ رہنا ہے" اور میں نے اس کے فوراً بعد زندگی کی جدوجہد شروع کردی۔

"میں نے سوچا کہ سب سے پہلا کام مجھے یہ کرنا ہے کہ اپنے دماغ سے اس خیال کو نکال دوں کہ میں بیمار ہوں یا مر جانے والا ہوں۔ میں نے فیصلہ کیا کہ چاہے کچھ ہو مجھے بہر حال جینا ہے۔ اس کے بعد اس کا ارادہ اس کی بیماری پر غالب آيا پر تیل کی مالش کرنا اور دن رات کے سارے اوقات کو ایک نظام کے تحت گزارتا۔

میرا ارادہ میری بیماری پر غالب آیا۔ میں دھیرے دھیرے اچھا ہونے لگا۔ میرے چہرے پر موت کے پیلے پن کے بجائے زندگی کی سرخی دوڑنے لگی۔ اب میں ایک تندرست نوجوان تھا جس کی صحت پر لوگ رشک کرتے تھے۔ وہ دن ہے اور آج کا دن، میں بچپن سے جوان ہوا اور جوانی کے بعد اب بڑھاپے کا دور شروع ہو گیا ہے لیکن ڈاکٹر کے اندازہ کے نہ میں کسی ڈاکٹر کے پاس گیا اور نہ کوئی دوا کھائی، البتہ اپنی زندگی کو نہایت منظم کر لیا۔ میں روزانہ صبح کو کھلی ہوا میں ورزش کرنا، روزانہ نہاتا، روزانہ اپنے بدن خلاف نہ صرف یہ کہ میں زندہ رہا بلکہ پھر کبھی بیمار نہیں ہوا میں نے طے کیا تھا کہ مجھے زندہ رہنا ہے اور قدرت نے یہ الفاظ صحیح ثابت کردکھائے۔ “

‹ Previous page Next page › Contents of January 1982 All issues

Printed page