Al-Risala · January 1982 · page 25

غلطی کا

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۲، صفحہ ۲۵

غلطی کا

۱۹۴۱ء کے شروع کا واقعہ ہے۔ میں فوجی دفتر اعتراف عالم چند سنگھ نے فائل کو غور سے دیکھا تو اس کی ایک شاخ (اے جز برانچ) کے سیکشن (اے جی نمبر 1) واقع نئی دہلی میں ملازم تھا۔ میرے ایک ساتھی عالم چند سنگھ تھے۔ انھوں نے ایک موقع پر دفتر کی ایک فائل اس وقت کے ہمارے سیکشن کے انچارج افسر کے پاس کاغذات پر دستخط کرنے کے لئے بھیجی۔ یہ ایک انگریز کرنل تھا جس کا نام اب مجھے یاد نہیں۔ اس افسر نے فائل دیکھی تو اس کو ایک کاغذ نظر نہیں آیا جس کی اسے خاص ضرورت تھی۔ اس نے نہایت ناراضگی کے لہجہ میں یہ نوٹ لکھ کر فائل کو اپنے ماتحت مسٹر عالم چند سنگھ کے پاس بھیجا کہ فلاں کاغذ اس میں کیوں نہیں ہے۔

میں مطلوبہ کاغذ موجود تھا۔ چنانچہ انھوں نے فائل کو دوبارہ اپنے انگریز افسر کے پاس بھیجا اور لکھا کہ جناب فائل کے فلاں صفحہ کو ملاحظہ فرمائیں جس میں مطلوبہ کاغذ موجود ہے۔ افسر نے دوبارہ فائل کا جائزہ لیا تو کاغذ اس کے اندر موجود تھا۔ اس کو اپنی غلطی کا شدید احساس ہوا۔ اس نے اس کا اعتراف کرتے ہوئے فائل پر موٹی سرخ پنسل سے اپنے سابقہ نوٹ کے ساتھ لکھ دیا: I was blind then میں اس وقت اندھا تھا ۔

حاجی اختر محمد خاں (پیدائش ۱۹۱۵)

محلہ کوٹ، بگراسی، ضلع بلند شہر

ایسے زندہ انسان ہمارے اندر کیوں نہیں ہندوستانی انجینئر غیر ضروری تعمیرات اور غیر ضروری ڈیزائنوں پر کروڑوں روپیہ ضائع کرتے ہیں، اس کی مثال دیتے ہوئے مسٹر کے۔ ڈی۔ مالویہ (سابق وزیر پیٹرولیم) نے بتایا کہ مشرقی ہندوستان میں ایک پل پر کام ہو رہا تھا۔ اس دوران ڈرلنگ مشین کو پل پر لے جانے کی ضرورت ہوئی ۔ اس وقت موقع پر دو انجینئر تھے ۔ ایک روسی اور دوسرا ہندوستانی ۔ ہندوستانی انجینئر نے کہا کہ ڈرل کرنے کی بھاری مشین پل کے اوپر لے جائی گئی تو پل ٹوٹ کر گر جائے گا ۔ اس لئے مشین اس وقت تک پل پر نہ چڑھائی جائے جب تک اس کے استحکام کا مزید انتظام نہ کر لیا جائے ۔ روسی انجینئر کو اس سے اختلاف تھا ۔ اس کا خیال تھا کہ ڈرلنگ مشین کو ہم پل پر لے جا سکتے ہیں اور اس سے پل کو کوئی خطرہ نہیں ہے ۔ بحث بڑھی یہاں تک کہ یہ مسئلہ متعلقہ وزیر تک پہنچا۔ روسی انجینئر نے اپنے نقطہ نظر کی وکالت کرتے ہوئے وزیر سے کہا : "روس میں میری بیوی اور بچے ہیں ، اور میں ان سے محبت کرتا ہوں ۔ مگر میں اس کے لئے تیار ہوں کہ پل کے نیچے کھڑا ہو جاؤں جب کہ مشین پل کے اوپر چڑھائی جائے ۔ اپنی بات کو ثابت کرنے کے لئے روسی انجینئر نے فی الواقع ایسا ہی کیا اور بے ضرر بچ کر نکل آیا ۔ کے ۔ کھنا ، مطبوعہ السٹریٹڈ ویکلی ، ۲۱ ستمبر ۱۹۶۵ء

‹ Previous page Next page › Contents of January 1982 All issues

Printed page