Al-Risala · January 1982 · page 3

وحید الدین

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۲، صفحہ ۳

بسم اللہ الرحمن الرحیم

انسان کی زندگی میں جوہ واقعات پیش آتے ہیں وہ گویا تاریخ کی عملی کتاب کے اوراق ہیں۔ یہاں زندگی کی تمام حقیقتیں اپنے واقعاتی روپ میں متشکل ہو رہی ہیں۔ زندگی کی تلخیاں اور شیر ینیاں، کردار کی پستیاں اور بلندیاں اور خارجی حقائق کے مقابلہ میں انسان کی رسائی اور نارَسائی سب یہاں کسی نہ کسی کو زندگی میں صورت پذیر ہو رہی ہیں، سب کو تاریخ کے واقعاتی اسٹیج پر دیکھا جا سکتا ہے۔ تاہم دیکھنے کی دو قسمیں ہیں۔ ایک یہ کہ زندگی کے واقعات کو بس ایک سرسری تماشائی کی نظر سے دیکھ جائے ۔ یہ دیکھنا گویا کیمرہ جیسا دیکھنا ہے جو دیکھتا ہے مگر نصیحت نہیں لیتا۔ وہ دیکھنے کے بعد بھی کچھ نہیں پائےتا۔ دوسرا دیکھنا یہ ہے کہ ان واقعات کو " انسان" کی نظر سے دیکھا جائے۔ یعنی آدمی جو کچھ دیکھے ان پر و غور بھی کرے ۔ اس کی آنکھ نے جو کچھ پایا ہے اس کو وہ اپنے دماغ سے بھی پانے کی کوشش کرے ۔ بظاہر دونوں دیکھنا بالکل یکساں معلوم ہوتا ہے ۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے ان میں اتنا زیادہ فرق ہے کہ صرف دوسری قسم کے دیکھنے ہی کو دیکھنا کہا جا سکتا ہے۔ پہلی قسم کا دیکھنا ایسا ہی ہے جیسے نہ دیکھنا انسان کے اندر اعلیٰ ترین صلاحیت فہم وبصیرت کی صلاحیت ہے۔ آدمی جس چیز کو فہم وبصیرت کی سطح پر نہ پا اس کو انسان کا پانا نہیں کہا جا سکتا ۔

انسان کی زندگی اپنی متنوع صورتوں کے ساتھ ہر قسم کے واقعات کا ریکارڈ ہے۔ ہر انسان زندگی میں دوسرے انسان کے لئے سبق موجود ہے۔ آدمی اگر آنکھ کھول کر دنیا میں رہے تو اپنے ہم جنسوں۔ واقعات میں وہ اتنی کافی رہنمائی پالے کہ ہر قسم کے نشیب و فراز کو سمجھ کر زندگی گزارنا اس کے لئے ممکن ہو جائے۔ وہ ہر ٹھوکر سے دور رہے، وہ ہر پست حرکت سے اپنے آپ کو بچائے ، وہ ہرنادانی میں پڑنے سے محفوظ رہے ۔ مگر کوئی انسان اپنے گرد و پیش کے واقعات سے سبق نہیں لیتا ۔ آدمی کسی حقیقت کو اس وقت تک نہیں مانتا جب تک اس کو ذاتی طور پر اس کا تجربہ نہ ہو جائے۔ مگر تجربہ وہی ہے جو دوسروں سے حاصل ہو، کیونکہ تجربہ تو ہمیشہ ہلاکت کی قیمت پر حاصل ہوتا ہے۔

انسانی واقعات سے نصیحت لینے کے لئے عبرت کی نگاہ درکار ہے ، اور یہی وہ چیز ہے جو ہر دور ۔ انسانوں میں سب سے کم پائی گئی ہے۔

وحید الدین

‹ Previous page Next page › Contents of January 1982 All issues

Printed page