لکھنے کے دو قسمیں
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۲، صفحہ ۴
لکھنے کے دو قسمیں
ایک بہت بڑے شاعر کو میں نے ایک بار دیکھا۔ وہ ایک غزل لکھ رہے تھے۔ غزل کا آخری لفظ تھا: انساں بنا دیا۔ میں نے دیکھا کہ کاغذ کے کنارے انھوں نے بہت سے ہم وزن الفاظ لکھ رکھے ہیں۔ مثلاً گلستاں، چمستاں زنداں، خموشاں، ویراں، بہاراں وغیرہ۔ ان الفاظ کو ذہن میں رکھ کر مضامین سوچتے ہیں اور جب کوئی مضمون اس ردیف و قافیہ میں ڈھل جاتا ہے تو اس کے بہارے کاغذ پر لکھ لیتے ہیں۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ دو گھنٹے کے بعد وہ اس پوزیشن میں تھے کہ مشاعرہ میں یہ کہہ سکیں کہ: "تازہ غزل حاضر ہے"
میں نے بزرگ شاعر سے کہا: آپ کو اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی صلاحیت دی ہے۔ آپ اردو، عربی، فارسی اور انگریزی زبانوں سے بخوبی واقف ہیں۔ آپ کو تو نثر کی چیزیں لکھنی چاہئیں۔ اس قسم کی شاعری آپ کی شایانِ شان نہیں"۔ انھوں نے جواب دیا: تم سچ کہتے ہو۔ مگر نثر میں لکھنے کے لئے مطالعہ اور تحقیق کی ضرورت ہے" اور وہ مجھ سے ہوتی نہیں۔ اگر مطالعہ اور تحقیق کے بغیر نثر لکھوں تو ایک پارہ ادب ضرور تیار ہو جائے گا۔ مگر ایسی کوئی کتاب نہیں بن سکتی جس کی آج کی دنیا میں قدر و قیمت ہو"
یہ شعر کی مثال تھی۔ اب دیکھیے کہ ایک "کتاب" جس کا نام ہے: "نصف شب کی آزادی" اس کتاب کی تیاری میں ان کے چار سال سے زیادہ لگے۔ انھوں نے لندن کے اخبار ٹائمُس میں اشتہار دیا کہ جن لوگوں نے ۱۷۔ ۱۹۴۷ء کے درمیان ہندوستان میں کام کیا ہے وہ اپنے پتے سے ہم کو مطلع کریں۔ جواب میں ان کو دو ہزار خطوط ملے، انھوں نے ان تمام لوگوں کے پاس اپنی ٹیم بھیج کر انٹرویو لئے اور رپورٹ تیار کی۔ انھوں نے ہندوستان، پاکستان اور برطانیہ کے تین سفر کئے اور مختلف جاننے والوں سے مل کر بارہ ہزار انٹرویو تیار کئے ۔ ان کی تحقیق اور دستاویزات اور انٹرویو کے کاغذات کا وزن ایک ٹن سے زیادہ تھا۔ مگر ان کے فرانس کے دفتر میں ان کو اس طرح ترتیب سے رکھا گیا تھا کہ ان کی خاتون سکریٹری کسی مخصوص کاغذ کو صرف ایک منٹ میں نکال سکتی تھی۔ اب انھوں نے کتاب لکھنا شروع کی۔ نصف حصہ کالنس نے انگریزی میں لکھا اور بقیہ نصف لیپری نے فرانسیسی میں۔ ہر ایک دوسرے کے لکھے ہوئے کو دیکھتا، اور بے رحمانہ تنقید کرتا۔ جب دونوں مطمئن ہو جاتے تو آخری مسودہ کو ایک مقامی کسان کی بیوی کو پڑھنے کے لئے دیتے۔ اگر خاتون یہ کہتی کہ میں ٹھیک سے سمجھ نہ سکی تو وہ فرض کر لیتے کہ ابھی کچھ غلطی ہے اور اس حصہ کو دوبارہ لکھتے۔ آخری ایک سال انھوں نے روزانہ اٹھارہ گھنٹے کام کیا اور اس طرح اپنی کتاب تیار کی۔
مصنف نے یہ تفصیل بتاتے ہوئے انٹرویو ر سے کہا: وی لیوڈ لائک ہرمٹس، یہ عجب نَو ہستی ہے جس نے ہمیں گوشہ نشیں کر رکھا ہے کس طرح لکھی جاتی ہے ۔
ایک امریکی لاری کولنس (Larry Collins)
اور فرانسیسی ڈومینیک لپیری (Dominique Lapierre) نے مل کر ہندوستان کی آزادی پر ایک کتاب لکھی ہے ہم نے رہبانوں کی طرح زندگی بسر کی اور پھر ہم نے اپنی کتاب تیار کرلی۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1982 All issues