وہ صفحہ جو خالی رہا
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۲، صفحہ ۴۵
وہ صفحہ جو خالی رہا
مولانا عبد الماجد دریا بادی (۱۸۹۲ - ۱۹۶۶) مولانا محمد علی (۱۹۳۱ - ۱۸۷۸) کے بارہ میں فرماتے ہیں: ”میرے دوست مولانا محمد علی جوہر کی شخصیت بھی میرے لئے مشعل راہ ثابت ہوئی۔ بیتاب ہو کر تڑپ کر جوش و خروش سے للکارتے تھے ”عبد الماجد اٹھو، چل کر علی پورپ میں تبلیغ اسلام کریں“ صدق جدید (لکھنو) ۲ جون ، ۱۹۷۷ ڈاکٹر محمد اقبال (۱۹۳۸ - ۱۸۷۷) نے آخر عمر میں ایک کتاب لکھنے کا ارادہ کیا تھا۔ جس کا نام انھوں نے تجویز کیا تھا: An introduction to the study of Quran (مطالعہ قرآن کا ایک تعارف) - فرماتے تھے ”ایک بار کتاب شروع کی تو انشاء اللہ اسلام کے بارے میں یورپ کے تمام نظریات توڑ پھوڑ کر رکھ دوں گا۔ شیرازہ دوسری نظر، اقبال نمبر، صفحہ ۷۷ اس طرح کے پر جوش ارادہ کی مثالیں ہمارے یہاں بہت سی ملیں گی۔ مگر عجیب بات ہے کہ اس پوری مدت میں کوئی ایک بھی قابل ذکر شخص نہیں ملتا جس نے مغرب کے انسانوں کے سامنے ان کی زبان میں اسلام کا پیغام پہنچانے کی کوشش کی ہو۔
بطرس بن بولس بستانی مارونی (۱۸۸۳ - ۱۸۱۹) بستان کا ایک عیسائی عالم تھا۔ وہ عربی، سریانی، لاطینی، اطالوی، انگریزی، عبری، یونانی زبانیں جانتا تھا۔ فلسفہ ، علم الہیات، قانون، تاریخ، جغرافیہ اور حساب کی تعلیم حاصل کی ۔ اس نے امریکی عیسائیوں کی ایک ٹیم کے ساتھ مل کر تو رات کا ترجمہ کیا۔ المدرسة الوطنية کے نام سے ایک اسکول قائم کیا۔ یہ مدرسہ اتنا مقبول ہوا کہ شام، مصر، آستانہ، یونان اور عراق تک کے طلبہ اس میں تحصیل علم کے لئے آتے تھے۔ اس نے قاموس المحیط کے نام سے جدید طرز کا عربی لغت لکھا۔ قطر المحیط کے نام سے ایک انسائیکلو پیڈیا یا گھنی شٹر دعا کی۔ چھ جلدیں شائع کر سکا تھا کہ اس کا انتقال ہو گیا ۔ اس کے بعد اس کے لڑکے سلیم نے ساتویں اور آٹھویں جلدیں شائع کیں۔ نویں جلد کو ترتیب دیتے ہوئے اس کا بھی انتقال ہو گیا ۔ اس کے بعد دوسرے بیٹوں نے نویں جلد مکمل کی۔ اس کے بعد بطرس بستانی کے بھائی سلیمان بستانی نے دسواں اور گیارھواں حصہ لکھا۔
ایک کام کو پشت درپشت آگے بڑھانے کا یہ طریقہ اس کی کامیابی کی سب سے زیادہ یقینی ضمانت ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1982 All issues