Al-Risala · January 1982 · page 44

کون کس کی جیب میں

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۲، صفحہ ۴۴

جنوب مغربی سمت سے ماؤنٹ ایورسٹ پر چڑھائی کرنا اب تک بہت مشکل سمجھا جاتا تھا۔ اگست ۱۹۵۳ء میں پہلی بار اس کو ایک برطانوی ٹیم نے سر کیا جس کے قائد کرس بونگٹن تھے۔ کہا جاتا ہے کہ برطانوی ٹیم کی اس کامیابی کا ا سبب ایک برطانوی فرم کی ایک ایجاد تھی۔ اس نے بہت ہلکے وزن کے آکسیجن سلنڈر بنائے ۔ ان سلنڈروں کے ذریعہ یہ ممکن ہوگیا کہ ایک سویٹر آکسیجن ایک ایسے سلنڈر میں رکھا جاسکے جس کا وزن صرف ۴٫۵ کلو گرام ہو۔ یعنی تقریباً بیگانہیں کے برابر۔ یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ قومی زندگی میں کس طرح ایک شعبہ میں کچھ لوگوں کے آگے بڑھنے کے لئے ضروری ہے کہ دوسرے شعبوں میں کچھ دوسرے لوگ آگے بڑھے ہوئے ہوں۔ جس قوم میں سارے لوگ صرف تقریرو تحریر کا کمال دکھانے لگیں ، وہ کبھی ترقی کے مقام پر نہیں پہنچ سکتی۔ ملک خدا بخش مشہور مسلم قانون داں گزرے ہیں۔ وہ انگریزی ہندوستان میں ایڈوکیٹ جنرل تھے ۱۹۳۲ء سے ۱۹۳۷ء تک لیجسلیٹو کونسل میں حزب مخالف کے لیڈر رہے۔ انھوں نے برطانوی صحافی ہورلی نکلس سے ایک ملاقات کے دوران بڑی شدت کے ساتھ کہا تھا : "ہندو اور اردو زبان کو ہٹا کر ہندوستانی کو اس کی جگہ بٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن اردو تیری سخت جان ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ لفظ "اردو" کیا معنی رکھتا ہے؟ اس لفظ کے معنی ہیں لشکر ۔ گویا یہ ایک لشکر ہے جس پر ہندوستانی زبان کبھی فتح نہیں پاسکتی۔ " (ورڈکٹ آن انڈیا (۴۴-۱۹)

اس قسم کا استدلال صرف ادبی استدلال ہوتا ہے اور ادبی استدلال ضروری نہیں کہ حقیقت واقعہ بھی ادبی استدلال کے ساتھ موافقت کرے۔

شعر و شاعری اور خطابت کے رواج نے ہماری ذہنی زندگی میں جو خرابیاں پیدا کیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ خالص حقیقت پسندانہ اور سائنٹفک انداز فکر ہمارے یہاں پیدا نہ ہو سکا۔ کتنے عالی دماغ لوگ اس قسم کے دلائل کے بھروسہ پر صدیوں جیتے رہے ہیں۔ یہاں تک کہ جب ان کی خیالی دلیل خارجی حقیقت سے ٹکرائی تو معلوم ہوا کہ وہاں سرے سے کوئی دلیل ہی موجود نہ تھی۔

ہم

‹ Previous page Next page › Contents of January 1982 All issues

Printed page