Al-Risala · January 1982 · page 44

لطیفہ

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۲، صفحہ ۴۴

تو میں پاگل ہو جاؤں گا۔ لندن کی خواتین ہر وقت بس استعمال کا فرق ڈاکٹر پرمود ک دلی سے امراض نسواں (Gynaecology) میں خصوصی ڈگری لی اور اس کے بعد لندن (آکسفورڈ اسٹریٹ) میں اپنا مطب کھولا۔ ایک روز ایک انگریز خاتون تیزی سے ان کے مطب میں داخل ہوئی ۔ "ڈاکٹر میری سمجھ میں نہیں آتا کہ میں اپنی بات کو کس طرح بیان کروں۔ " اس نے کہا اور پھر ایک وقفہ کے بعد بولی: I think I have a touch of the sun ڈاکٹر کمار نے اس جملہ کا مطلب یہ سمجھا کہ خاتون غالباً کسی کھلے مقام پرگئی تھیں اور وہاں ان کو تیز دھوپ لگ گئی ہے۔ " آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں" ڈاکٹر نے مریضہ کو مشورہ دیتے ہوئے کہا " آپ ٹھنڈے مشروبات، خاص طور پر لیموں برف کے ساتھ لیجئے اور آپ بہت جلد ٹھیک ہو جائیں گی"، اگر جلد پر کچھ اثر محسوس ہو تو زیتون کا تیل یا کریم مل لیجئے! " خاتون پریشان چہرہ پر مزید حیرانی کے اثرات لئے ہوئے باہر نکل گئی اور ڈاکٹر کمار یہ سوچنے لگے " انگریز خواتین آخر اتنی معمولی معمولی باتوں کے لئے کیوں ڈاکٹر کے پاس آتی ہیں"

شام کو وہ اپنی قیام گاہ پہنچے۔ وہاں مسز گلوریا، ان کی انگریز بیوی نے ان کا استقبال کیا۔ جب دونوں کھانے کی میز پر اکٹھا ہوئے تو انگریز خاتون نے دوبارہ وہی جملہ کہا جس کو وہ اپنے مطب میں ابھی سن آئے تھے : Darling, I think I have a touch of the sun ڈاکٹر کمار نے حیرانی کے ساتھ کہا "د نہیں نہیں۔ اس طرح سورج کی ہی بات کرتی ہیں۔ دیر تک الفاظ کے تبادلہ کے بعد گلوریا نے محسوس کیا کہ اس کا ہندوستانی شوہر اصل بات کو سمجھ نہیں رہا ہے، اس نے ہنستے ہوئے کہا "میرا مطلب یہ ہے کہ ہم جلد ہی تین ہونے والے ہیں "۔ انگریزی زبان میں ایک عورت اپنے حاملہ ہونے کو درجنوں طریقے سے بتا سکتی ہے۔ مذکورہ بالا جملہ بھی اسی قسم کا ایک استعاراتی انداز ہے۔ جس کا لفظی ترجمہ یہ ہے کہ" مجھے سورج چھو گیا ہے۔ "

لطیفہ

مرزا غالب (۱۸۶۹ - ۱۷۹۷) جس مکان میں رہتے تھے، اس مکان میں چھت کے اوپر ایک کمرہ تھا اور اس کمرہ سے ملی ہوئی ایک تنگ و تاریک چھوٹی سی کوٹھڑی تھی۔ گرمی کے موسم میں وہ ٹھنڈی رہتی تھی۔ سخت موسم میں مرزا اسی کوٹھڑی میں بیٹھتے تھے۔ ایک بار رمضان کا مہینہ تھا، سہ پہر کے وقت مرزا غالب اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ اس کوٹھڑی میں بیٹھے ہوئے چوسر کھیل رہے تھے اور تفریح کر رہے تھے۔ اتنے میں مفتی صدر الدین خاں آزردہ وہاں آ گئے۔ کوٹھڑی میں لہو و لعب کا منظر دیکھ کر انھوں نے مرزا سے کہا: ہم نے حدیث میں پڑھا تھا کہ رمضان کے مہینے میں شیطان کو قید کر دیا جاتا ہے۔ آج اس حدیث کی صحت پر شبہ ہو گیا۔

مرزا غالب فوراً بولے: "مولانا! حدیث بالکل صحیح ہے۔ بات یہ ہے کہ شیطان جہاں قید کیا جاتا ہے وہ یہی کوٹھڑی ہے! "

‹ Previous page Next page › Contents of January 1982 All issues

Printed page