مروال ہیں لنڈ
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۲، صفحہ ۶
میں ہجڑ
مروال ہیں لنڈ
لارڈ ٹامسن (۱۹۰۶ - ۱۹۲۳) کی پیدائش کناڈا میں ہوئی۔ انھوں نے اخبارات کو صنعت کی حیثیت سے شروع کیا اور اس میں اتنی کامیابی حاصل کی کہ اب اخبارات کے کسی بھی دوسرے تاجر نے حاصل نہ کی تھی۔ کناڈا، برطانیہ، امریکہ اور دوسرے ملکوں کے ایک سو سے زیادہ اخبارات "ٹامسن ایمپائر" کا حصہ تھے۔ رکاوٹ سامنے آگئی۔ ہرولڈ مکینلن کے بعد لارڈ ہوم برطانیہ کے وزیر اعظم (۱۹۶۳ء مقرر ہوئے۔ ٹامسن کے مشہور اخبار ”ٹائمز“ کے ایڈیٹر اس وقت ڈینس ہیملٹن تھے۔ انھیں اس تقرر پر اعتراض تھا۔ انھوں نے خاموش رہنے کے بجائے کھلّم کھلا نئے وزیر اعظم کے خلاف لکھنا شروع کر دیا، سے زیادہ عبارات کا نیا پیراگراف شروع کرے۔ ٹامسن بے حد شریف آدمی تھا۔ اخلاقی حیثیت سے کبھی اس سے کسی کو شکایت نہیں ہوئی۔ م کے حملات کا سامنا کرنا پڑدیا۔
ٹامسن کے لئے یہ ایک انتہائی نازک صورت حال تھی۔ انھوں نے اپنے ایڈیٹر کو گفتگو کے ذریعے قائل ایڈیٹروں کے انتخاب میں وہ انتہائی چھان بین کرتا کرنے کی کوشش کی نہ مگر جب وہ اپنی رائے بدلنے پر کرتا ہے کیو نکہ اس شخص کو کس ڈھنگ کا کہتا تھا تو وہ اسے انو کا اڑا کے رکھ دیتا ہے تھا۔ مگر جب کسی شخص کو کسی اخبار کا ایڈیٹر مقر ر کر دیتا تو اس کو اپنے دائرہ عمل میں مکمل آزادی دے دیتا تھا۔ حتیٰ کہ اس کے ایڈیٹروں کو یہ حق بھی تھا کہ وہ خود ٹامسن کے خلاف مضامین لکھ سکیں۔
ٹامسن کی سوانح عمری رسل بریڈن نے لکھی ہے جس کا نام ہے :
Roy Thomson of Fleet Street
سوانح نگار لکھتا ہے کہ ٹامسن کی واحد کمزوری یہ تھی کہ وہ ’’لارڈ‘‘ بننے کا بہت زیادہ حریص تھا۔ اس نے دیکھا کہ اپنے ملک کناڈا میں اس کی یہ تمنا پوری نہ ہو سکے گی کیونکہ کناڈا نے لارڈ کا خطاب دینے کے برطانوی طریقے کو ختم کر دیا تھا۔ چنانچہ ٹامسن نے برطانوی شہریت اختیار کر لی۔
اسے یقین تھا کہ برطانیہ آنے کے بعد وہ ضرور لارڈ بننے کا خواب پورا کر سکے گا۔ مگر یہاں بھی ایک تیار نہ ہوا تو انھوں نے اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ بلکہ یہ کہہ کر معاملہ کو ختم کر دیا: What you say is your own province یعنی یہ تمھارے اپنے دائرہ کار کا معاملہ ہے تم کو اختیارت ہے کہ جو کچھ لکھنا چاہتے ہو لکھو۔
برطانوی شہریت اختیار کرنے کے باوجود ٹا مسن کے لیے اب بظاہر لارڈ بننے کا امکان ختم ہو چکا تھا۔ ان کا اخبار برابر برطانوی وزیر اعظم پر تنقیدی مضامین شائع کر رہا تھا۔ مگر سر الیک ڈوگلاس ہوم نے بھی عالی ظرفی سے کام لیا۔ صاحب اقتدار ہوتے ہوئے بھی انھوں نے اپنے دل میں ٹامسن کے خلاف کوئی انتقامی جذبہ پیدا ہونے نہیں دیا اور ان کے لئے لارڈ کے اعزاز کی منظوری دے دی۔
یہی عالی ظرفی ہے جو افراد اور قوموں کو ترقی کے اعلیٰ مقام کی طرف لے جاتی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1982 All issues